مودی کاتازہ انٹرویو:حق بجانب صرف ہم ہیں دوسرا کوئی نہیں!

عبدالعزیز
وزیر اعظم نریندر مودی ’اے این آئی‘ کو نئے انگریزی سال کے پہلے دن ایک طے شدہ انٹرویو (Fixed Interview) دیا جو خودپسندی کے جنون اور غرور اور گھمنڈ کا مظہر تھا۔ ان کا انٹرویو’’میں، میری، میری طرف، مجھے‘‘ جیسے لفظوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہم عوام ہیں کے بجائے کہہ رہے تھے کہ میں عوام ہوں۔ (I am the People) اور 2019ء کا انتخاب میں یعنی جنتا بمقابلہ عظیم اتحاد ہوگا۔ اس موقع پر ایمرجنسی کے زمانے کے ڈی کے بروا کی مودی جیسے خود پرست، خود پسند شخص کو ضرورت ہے جس نے ایمرجنسی کے زمانے میں اندرا گاندھی کے بارے میں کہا تھا۔ ’انڈیا اندرا ہے اور اندرا انڈیا‘۔ انگریزی کا ایک بڑا شاعر جس کا نام ’کارل سینڈ برگ‘ تھا۔ یہ امریکن شاعر 1967ء میں دنیائے فانی سے کوچ کرگیا۔ اس کی ایک مشہور نظم ہے :
I Am the People, the Mob
I am the people151the mob151the crowd151the mass.
Do you know that all the great work of the world is done through me?
I am the workingman, the inventor, the maker of the world146s food and clothes.
I am the audience that witnesses history. The Napoleons come from me and the Lincolns. They die. And then I send forth more Napoleons and Lincolns.
’’میں عوام ہوں، ہجوم۔ بھیڑ۔ اجتماع ہوں ۔۔۔ کیا تم جانتے ہو کہ دنیا کا عظیم کام میں نے کیا ۔۔۔ میں مزدور ہوں، موجد ہوں، دنیا کی غذا اور کپڑے بنانے والا ہوں ۔۔۔ میں سامعین ہوں، تاریخ کا شاہد ہوں۔۔۔ نپولین اور لنکن میرے ذریعہ دنیا میں آئے ، وہ مرگئے۔۔۔ پھر میں نے بہت سے نپولینس اور لنکنس بھیجے‘‘۔
انٹرویو کے دوران امریکن شاعر کی طرح نریندر مودی نامہ نگار کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا، میں یہ کرسکتا ہوں، یہ کروں گا وغیرہ۔ جب ان کے غیر ملکی دورہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ساڑھے چار سال میں آپ نے بہت سے غیر ملکی دورے کئے تو انھوں نے کہاکہ دورے تو میں نے سب کے برابر ہی کئے مگر پہلے جب کوئی ہندستان سے جاتا تھا تو کوئی جانتا نہیں تھا اور دوسرے ملکوں میں اس کی قدر و منزلت نہیں ہوتی تھی۔ اب میرے جانے سے ساراہندستان جانتا ہے اور دنیا بھی میری قدر و منزلت کرتی ہے۔ سربراہ ممالک میرے لئے چشم براہ ہوتے ہیں۔ پہلے تو مودی جی نے سفید جھوٹ بول کر کام چلایا کیونکہ اب تک وہ 50بار ملک سے باہر گئے اور انھوں نے 82ملکوں کے دورے کئے۔ شاید اتنے دورے سابقہ وزیر اعظموں میں سے دو نے بھی نہیں کئے ہوں گے۔
رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں گمراہ کن بیان دیا۔ پہلے یہ بات کہی کہ سپریم کورٹ میں معاملہ ہے، فیصلہ آنے پر آرڈیننس کی بات سوچی جاسکتی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد آرڈیننس کی بات بے معنی سی بات ہے ۔ محض گمراہ کرنے کیلئے یہ بات کہی گئی۔ دوسری بات یہ کہی کہ کانگریس کے وکلاء جلد فیصلے میں اڑچن نہ ڈالیں۔ جلد فیصلہ ہونے دیں۔ غور کرنے کی بات ہے۔ سنگھ پریوار کے لیڈران بابری مسجد کے انہدام کے مجرم ہیں ان کے سلسلہ میں کوئی بات نہیں کہی کہ انھیں سزا میں کیوں تاخیر ہورہی ہے۔ بابری مسجد کی جگہ پر مندر چھوٹے ہی پیمانے پر سہی مگر قائم ہے، پوجا پاٹ جاری ہے۔ محض مندر کی عمارت عالی شان ہو اور بتوں کا قد بڑا ہو اس کی کوشش ہورہی ہے۔ آر ایس ایس ، موہن بھاگوت اور سنگھ پریوار کے لوگ قانون سازی اور آرڈیننس پر زور دے رہے ہیں۔ مودی جی نے اتنا ضرور کہا کہ عدالت عظمیٰ سے فیصلہ آنے دیجئے۔
ہجومی تشدد گائے کے نام پر دہشت گردی، بربریت اور قتل و غارتگری، پولس انسپکٹر اور پولس کے قتل کو قابل مذمت اور ناقابل قبول بتایا مگر مذکورہ واقعات پر ہمیشہ مودی جی چپی سادھے رہے نہ مجرموں کی سزا کی بات کی اور نہ اس مسئلہ پر سختی برتنے کی ہدایت کی یہ کبھی کبھار کچھ بول دیتے ہیں تاکہ ان کی سفید پوشی باقی رہے۔
نوٹ بندی کی مار سے جو نقصانات اور تباہی اور بربادی ہوئی جس میں 120 افراد کی موت واقع ہوئی، مہنگائی بڑھی، جی ایس ٹی نے چھوٹے تاجروں کی کمر توڑ کر رکھ دی، پٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھے، رسوئی گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ نہ کالا دھن واپس آیا اور نہ عوام کے کھاتے میں 5روپئے ہی ڈالے گئے جبکہ وعدہ 15 لاکھ روپئے کا تھا۔ ان سب پر مودی جی کچھ نہیں بولے۔ اس طرح اپنی ناکامی کو چھپاتے رہے۔ کانگریسی لیڈر آنند شرما نے صحیح کہا ہے کہ ’’عوام ایسے مقررہ انٹرویو سے بیوقوف نہیں بنائے جاسکتے۔ اگر ان کو اپنے آپ پر گھمنڈ ہے تو وہ پارلیمنٹ کا سامنا کریں یا پریس کانفرنس کرکے اپنی حقیقت سمجھنے کی کوشش کریں۔ عوام کو انھوں نے لمبے چوڑے وعدے کرکے عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔
آنند شرما نے مزید کہاکہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی جھوٹے وعدے، کھوکھلے نعرے اور پروپیگنڈوں سے اپنی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکتے، خواہ نئے سال کا پہلا ہی دن کیوں نہ ہو۔ سال کے پہلے دن جھوٹ کی عادت سے اپنی انتخابی مہم کی شروعات کی ہے۔ بھگوان رام بھی اب انھیں نہیں بچا سکتے کیونکہ بھگوان رام نے جھوٹ سے کام لینے کو نہیں کہا ہے‘‘۔
کانگریس کے ترجمان خاص رَندیپ سُرجے والا نے گزشتہ روز فکس انٹرویو کے فوراً بعد پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کی دس بڑی بڑی ناکامیوں پر سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ مودی جی کو ان ناکامیوں کو بتانا چاہئے تھا۔
’اے این آئی‘ کی ایڈیٹر نے آخر میں پوچھا کہ بتائیے کون سے کام کئے ہیں اور کون سے کام باقی رہ گئے ہیں؟ مودی نے براہ راست جواب دینے کے بجائے گھما پھرا کر جواب دیا کہ جو کچھ کیا ہے عوام ہی بتائیں گے اور ’’میں نے ہر کام دل سے اور محنت سے کیا ہے۔مجھے ہر کام کرنے سے خوشی ہوتی ہے‘‘۔ نوٹ بندی میں جو لوگ پریشان ہوئے اور مرے وزیر اعظم کو شاید اس سے بھی خوشی ہوئی ہوگی۔
90 منٹ کے انٹرویو میں واقعی کوئی ایسی بات نہیں تھی جو عوام ان سے سننا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے پریس کانفرنس کرنا پسند نہیں کرتے کیونکہ ان سے مشکل سوالات بھی پوچھے جاسکتے ہیں۔ مذکورہ ایجنسی سے طے ہوا ہوگا کہ سوالات پہلے بھیج دیے جائیں اور موصوف انہی سوالوں کا جواب دیں گے جن سے ان کی ناکامی ظاہر نہ ہو۔ ایسے انٹرویو کو طے شدہ (Fixed Interview) کہتے ہیں۔ اے این آئی کی ایڈیٹرنے یقیناًبی جے پی کے ارنب گوسوامی سے بہتر سوالات کئے مگر جوابات میں کوئی دم نہیں تھا۔
انٹرویو کے دوران یہ بات ضرور دیکھنے میں آئی کہ ان کے لب و لہجہ میں پہلے جیسی آمریت میں کچھ کمی تھی۔ انھوں نے مدھیہ پردیش اور راجستھان کی ہار تو نہیں تسلیم کی صرف چھتیس گڑھ کی ہار کو بادل ناخواستہ تسلیم کیا۔ سابق وزراء اعظم جیسے انٹرویو دیا کرتے تھے یا پریس کانفرنس کو خطاب کرتے تھے مودی نے ایسا کچھ بھی کرنے کی کوشش نہیں کی ساڑھے چار سال میں۔ پریس کانفرنس سے تو اپنے آپ کو دور رکھا۔ انٹرویو صرف انہی چینلوں یا نامہ نگاروں کو دیا جو ان کے پسندیدہ تھے۔ مودی میں اب بھی خودستائی اور خود پسندی کا جنون موجود ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے :
وقت اس سے چھین لے گا خودپسندی کا غرور
ہاں یقیناًوہ خدا بن کر بہت پچھتائے گا
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068