مودی حکومت جھوٹی تشہیرمیں مصروف گزشتہ چارسال میں اقلیتوں سے کیاگیاایک بھی وعدہ پورانہیں ہوا: اسد الدین اویسی

حیدرآباد: 18جولائی(قندیل نیوز)
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین( ایم آئی ایم ) کے چیف اسدالدین اویسی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اپنے وعدے کے مطابق اقلیتوں کو روزگار فراہم کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے رکن پارلیمان نے مرکزی اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی کے اوپر غلط معلومات کی تشہیر کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ نقوی نے مرکز کی جانب سے بڑی تعداد میں روزگار فراہم کرنے کے جھوٹے دعوے کی تشہیر کی ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ گذشتہ چار برسوں میں اقلیتوں کو کوئی روزگار فراہم نہیں کیا گیا۔
مسٹراویسی حیدرآباد میں میڈیا سے آج بات چیت کر کر رہے تھے۔
ایم آئی ایم کے سپریمو نے مودی کے 15 نکاتی پروگرام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ” مودی کا یہ پروگرام اقلیتوں کو مرکز اور ریاست میں اہم حصہ داری فراہم کرنے کے سلسلہ میں تھا۔ مودی جی جواب دیں کہ یہ وعدے کس حد تک پورے ہوئے؟مرکز کے منصوبے میں اقلیتوں کو پولیس اہلکار کی ملازمت فراہم کرنا بھی تھا لیکن یہ وعدے بھی ٹھنڈے بستے میں چلے گئے”۔
رکن پارلیمان نے کہا کہ’ قادے کے مطابق اگر تقرری کمیٹی میں دس افراد ہیں تو اس میں دلت، درج فہرست ذات و قبائل اور اقلتی تمام طبقوں سے اراکین ہونے چاہیے تھے۔ حکومت کو یہی طریقہ مرکز میں اقلیتوں کو حصہ داری دینے میں بھی اپنانا چاہئے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”ریلوے، سرکاری بینک اور پبلک سیکٹر میں بڑے پیمانے پر آسامیاں خالی ہے۔ ان میں بھی اگر اقلیتوں کو ایماندارانہ ترجیح دی جائے تو بڑی تعداد میں بے روزگاری ختم ہو سکتی ہے”۔
انہوں نے نقوی پر براہ راست الزام عائد کیا کہ انہوں نے مسلم نمائدگی کی بڑھتی شرح سے متعلق غلط معلومات عام کیا۔
مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور نے بھی اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکز یا ریاست میں حصہ داری کے لیے مذہب بنیاد نہیں ہوتا۔
وزارت برائے اقلیتی امور کے ترجمان نے کہا کہ مرکز میں اقلیتوں کی شراکت کے لیے مذہب کے لحاظ سے کوئی جگہ نہیں ہے۔