Home قومی خبریں منموہن سنگھ کے خلاف تبصرہ پر اپوزیشن کا ہنگامہ ، مودی کی معافی سے کم منظورنہیں

منموہن سنگھ کے خلاف تبصرہ پر اپوزیشن کا ہنگامہ ، مودی کی معافی سے کم منظورنہیں

by قندیل

                                                                        نئی دہلی 18دسمبر (قندیل نیوز)
سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف تبصرہ بازی کو لے کر کانگریس سمیت کچھ اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کی وجہ سے آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کارروائی روکنا پڑی۔ ہنگا مہ اور شور شرابہ کی وجہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کو ایک ایک بار ملتوی کرنے کے بعد پورے دن کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔دونوں ہی ایوانوں میں وقفہ سوال ہنگامہ کی نذر ہوگیا ۔ کانگریس کے ارکان نے دونوں ہی ایوانوں میں بیچوں بیچ آکر نعرے بازی کی اور مودی سے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف تبصرہ کرنے کے لئے معافی مانگنے کو کہا۔ہنگامے کے درمیان ہی لوک سبھا میں حکومت کی جانب سے عام بجٹ سے منسلک گرانٹ کی تکمیل کے مطالبات اور چار بل پیش کیے گئے ۔ دونوں ہی ایوانوں میں گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابی نتائج کے رجحان کا اثر دیکھنے کو ملا۔ بی جے پی رکن بالخصوص گجرات سے آئے پارٹی کے رکن ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے نظر آئے۔لوک سبھا میں کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے وقت سے ہی مودی کی تبصرہ بازی کا مسئلہ اٹھا رہے تھے۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے اپوزیشن ارکان کے نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع کو دیگر مواقع پر اٹھایا جا سکتا ہے۔بائیں بازو کی جماعتوں کے رکن بھی کچھ بولتے ہوئے نظر آئے لیکن ہنگامے کی وجہ سے ان کی باتیں سنی نہیں جا سکیں۔ وقفہ سوال شروع ہونے پر لوک سبھا صدر نے اوکھی طوفان میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہی امریکہ، برطانیہ، فرانس، سپین، نائیجیریا، مصر اور دیگر ممالک میں دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے میکسیکو اور ایران میں زلزلہ میں مارے گئے لوگوں کے تئیں بھی ایوان کی جانب سے غم کا اظہار کیا۔اس کے بعد وقفہ سوال شروع ہوتے ہی کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹی منموہن سنگھ کے خلاف تبصرہ کو لے کر اپنی بات رکھنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ ادھر بی جے پی رکن گجرات اور ہماچل پردیش انتخابات میں بی جے پی کے جیت کی جانب بڑھنے کے رجحان کو لے کر نعرے بازی کرنے لگے۔شور شرابہ بڑھتا دیکھ اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اجلاس دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔دوپہر بارہ بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر بھی ایوان میں وہی نظارہ دیکھنے کو ملا۔ صدر نے اراکین کو اپنی اپنی نشست پر جانے اور ایوان کی کاروائی چلنے دینے کی مانگ کی ۔لیکن اپنے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے حکمران اور حزب مخالف لیڈران آپس میں آکر ہنگامہ آرائی کرنے لگے ۔

You may also like

Leave a Comment