منصوبہ بندطریقے سے انجام دیاگیاکاس گنج تشدد

بھائی چارہ بگاڑنے اور2019لوک سبھامیں فائدے کے لیے کی گئی سازش
کاس کنج:8 ؍فروری(قندیل نیوز)
نئی دہلی26جنوری کواترپردیش کے کاس گنج میں ہوئے تشددکے بعددہلی سے گئی ایک فیکٹ فائڈنگ کمیٹی نے علاقے کادورہ کرنے کے بعدان کے ذریعہ پائے گئے حقائق کومیڈیاکے سامنے رکھا ۔ دہلی کے پریس کلب میں صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے غیرسرکاری تنظیم یوناٹیڈاگینسٹ ہیٹ کے تحت بنی اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ شیئرکی۔اس کمیٹی میں اترپردیش کے سابق پولیس آئی جی ایس آر داراپوری، سینئر صحافی امت سین گپتا، سماجی کارکن راکھی سہگل اور علیم اللہ خان سمیت کئی سماجی کارکنان شامل ہوئے۔26 جنوری کو مسلم کمیونٹی کے لوگ کاس گنج میں ویر عبدالحمید چوک پر جھنڈاپہرارہے تھے، اور تبھی ایک این جی او اسنکلپ فاؤنڈیشن اور اے وی بی پی کے کچھ نوجوان بائیک ریلی نکال رہے تھے۔ اس چوک پر تنازعات کے بعد دونوں گروپ نے بحث کی اور نوجوان اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے۔اس تنازع کے دوران گولی بھی چلی تھی، جس میں ایک نوجوان چندن گپتا مر گیا اور دو دسرے نوجوان نوشاد اور اکرم بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے نوجوانوں کے اس جگہ پر موٹر سائیکل چھوڑنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے،انہوں نے کہا کہ تحقیقات جاری ہے۔فیکٹ فائڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قصبہ میں یہ فسادات تمام کمیونٹی کے درمیان بھائی چارہ کو خراب کرنے اور آنے والے 2019 لوک سبھا انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لئے پہلے سے منصوبہ بندتھے۔قصبے سے لوٹے صحافی امیت سین گپتا نے کہاکہ کاس گنج ایک ایسا شہر ہے جہاں تمام کمیونٹی بہت قریب رہتے ہیں، یہ نہیں ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے الگ محلے ہیں، دکانوں کی دیواریں بھی ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کررہتے آئے ہیں، کاس گنج میں صرف بابری مسجد کی شہادت کے بعف ایک بار فسادہوا تھا، اور اس سے پہلے یا اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔چندن گپتا کی موت پر انہوں نے کہا کہ میں نے وہاں دونوں کمیونٹیوں سے بات کی اور محسوس کیا کہ مسلمان کمیونٹی کے لوگ چندن کی موت سے ناخوش ہیں۔ ایک چیز جو سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ جگہ جہاں چندن گولی مار دی گئی تھی اور کس نے اسے مارایہ ابھی تک واضح نہیں ہے، دو کمیونٹیوں میں بے چینی کی صورت حال بنی ہوئی ہے آخر چندن کو گولی کس نے ماری۔کاس گنج کے باشندوں نے بھی ابھی تک کسی کا نام نہیں لیاہے،میڈیا میں بہت سے نام آ رہے ہیں، لیکن لوگ وہاں کچھ نہیں جانتے۔