منشیات کی لت کا تدارک مستحکم لائحہ عمل سے ممکن


ڈاکٹر منور حسن کمال
ہندوستان میں بچوں کی بہترین نشوونما، افزائش اور ان کے فروغ کے لیے وقت وقت پر مختلف نوعیت کی پالیسیاں بنائی جاتی رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے فروغ کے لیے ایک وزارت بھی ہے، جو بچوں سے متعلق مسائل، ان کی ذہنی نشوونما اور ان کے فروغ کے لیے پابند عہد ہے۔ لیکن اس کے باوجود معاشرہ اور حکومتی سطح پر بھی بچوں کی بدلتی عادتوں پر غوروفکر کرکے ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے والی کوششوں میں کمی نظر آتی ہے۔ ان کی عادتوں میں ان میں تیزی سے پنپ رہی منشیات کی عادت ہے، جو ایک سنگین مسئلے کے روپ میں اپنے پر پھیلا رہی ہے۔ ضابطے کے مطابق حکومت کو خود ہی پہل کرتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس کے تدارک کے لیے جو کوششیں کی جارہی ہیں، ان کی راہ میں کئی اڑچنیں حائل نظر آتی ہیں اور جو فریق اس سلسلے میں کوششیں کررہے ہیں، انہیں عدالتوں کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک غیرسرکاری تنظیم کی عرضداشت پر سماعت کے بعد اپنے تازہ حکم میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ بچوں میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کے تدارک کے لیے اس نے کیا اقدامات کیے ہیں۔
واضح رہے کہ دسمبر2016 میں سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں ایک لائحہ عمل مرتب کیا تھا اور مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اسکولی بچوں میں بڑھتی ہوئی نشے کی لعنت کے خاتمے کے لیے 6مہینے کے اندر ایک قومی منصوبہ بنائے۔ مگرحالات یہ ہیں کہ اب ڈیڑھ برس سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی عدالت کو اپنے اس فیصلے سے متعلق عمل کرنے کے لیے حکومت کو یاددہانی کرانی پڑرہی ہے۔
سپریم کورٹ کا ایسا ہی حکم 2014 میں ایک تنظیم ’بچپن بچاؤ آندولن‘ کے ذریعے دائر کی گئی مفادعامہ کی ایک عرضداشت پر آیا تھا۔ اس عرضداشت میں نوبل انعام یافتہ نامور دانشور کیلاش ستیارتھی کی تنظیم کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ایچ ایس پھلکا نے ملک کے ہر ضلع میں یہ خراب عادت چھڑانے کے لیے خاص طور پر ڈرگس لینے والے بچوں کے لیے الگ سے انتظام کرنے کا حکم جاری کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ اس سلسلے میں دائر عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے مرکزی حکومت کو اس کے لیے ایک قومی سطح کا سروے کرانے کے لیے بھی کہا تھا۔ اس سروے میں پورے ملک میں اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں میں الکوحل، مختلف اقسام کے ڈرگس اور سائیکروٹر ایک اشیا کے استعمال سے متعلق معلومات فراہم کرکے جمع کرنا تھا۔ لیکن ابھی تک اس کا کوئی مؤثر حل تلاش نہیں کیا جاسکا ہے، جس سے بچوں میں پھیلتے ہوئے اس زہریلے مادّے سے نجات حاصل کی جاسکے۔
بچوں میں بڑھنے والی اس بری عادت سے ہندوستان کے دانشور ہی پریشان نہیں ہیں،بلکہ عالمی سطح پر جائزہ لینے پر پتا چلتا ہے کہ جرمنی بھی اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہت پریشان ہے۔ وہاں پر اسکولوں کے باتھ روم میں نشیلی سگریٹ پینا اور میدانوں میں نشیلی دواؤں کا استعمال بڑی تیزی سے بڑھا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق اسکولوں میں نشیلی دواؤں سے جڑے جرائم کرنے والے بچوں کی تعداد جتنی زیادہ اب ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ مثال کے طور پر ریاست باڈین وورٹیمبرگ میں 2011سے 2015 کے درمیان اس طرح کے جرائم میں تین گنا اضافہ ہوا۔ کئی ریاستوں کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ نشیلی دواؤں کے استعمال کو معاشرہ زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ دوائیں ایسے نوجوانوں کے درمیان پھیلائی جارہی ہیں، جو انٹرنیٹ پر بہت زیادہ سرگرم رہتے ہیں۔ ان نشیلی دواؤں کو ایسی مزے دار چیز کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی ان دواؤں کی خرید میں بھی آسانیاں ہیں، یہاں انٹرنیٹ کا رول بڑی خراب اور جان لیوا شکل میں سامنے آتا ہے۔
ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں میں نشے کی یہ عادت ان کے غلط لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے سبب بڑھ رہی ہے۔ وہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو جب نشہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو شروع میں یہ ہوتا ہے ’آؤ یار انجوائے کرو‘ پھر انجوائے کرتے کرتے یہ عادت لعنت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے اپنے گھر پر بڑوں یا سرپرستوں کو سگریٹ پیتے یا کوئی نشہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ خود بھی ایسا ہی کرنے سے متعلق پہلے سوچتے ہیں اور پھر اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ ٹسٹ کرنے اور ذائقہ لینے سے شروع ہونے والی شئے انہیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچے فلم یا ٹیلی ویژن پر کسی پروگرام میں اپنے پسندیدہ ہیرو یا ولن کو سگریٹ پیتے ہوئے یا ڈرگس لیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو خود بھی ایسا ہی کرنے لگتے ہیں۔ محض ذائقے سے شروع ہوئی یہ عادت لعنت کب بن گئی، پتا ہی نہیں چلتا۔
آج سنگل فیملی سسٹم ہے، جس نے بچوں کی زندگی تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سنگل فیملی سسٹم کے فوائد اپنی جگہ لیکن اس کے جو نقصانات سامنے آرہے ہیں، وہ حیران کردینے والے ہیں۔ والدین دونوں اپنی اپنی ملازمت کے لیے نکل جاتے ہیں اور اپنی بھاگ دوڑ بھری مصروفیت کے سبب بچوں پر پوری توجہ نہیں دے پاتے۔ سرپرستوں کی غیرموجودگی میں بچے کو غلط سنگت اختیار کرتے دیر نہیں لگتی اوریہیں سے اس کے نشہ کرنے کا آغاز ہوتا ہے۔ نشہ کسی بھی قسم کا ہو، اس کو چھڑانا بڑا مشکل کام ہے۔ اس کے لیے خود پر قابو رکھنا پہلی شرط ہے۔ بچوں کو سکھائیں کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھنا سیکھیں۔ انہیں بتائیں کہ جب بھی سگریٹ پینے یا نشہ کرنے کی خواہش ہو تو خود پر کنٹرول کریں اور اپنا دھیان کسی اور چیز کی جانب کرنے کی کوشش کریں۔
اس کے نقصانات سے متعلق بچوں سے گفتگو کریں۔ ان کے لیے وقت نکالیں۔ اگر کوئی شخص خود اسی طرح کی کسی لعنت میں گرفتار ہے تو وہ نہ تو بچوں سے ایسی چیزیں منگائے اور نہ ان کے سامنے ان کا استعمال کرے…بچوں کے لیے یہ بھی بہتر ہے کہ انہیں کسی تعمیری مشن پر لگائیں۔ اس کام میں انہیں بے حد مصروف کردیں۔ بچوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ان کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا نقصان دہ۔ ان کے اندر تعمیری جذبہ پیدا ہونا ضروری ہے۔ اس میں ہماری خطائیں بھی کم نہیں ہیں۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں کو بھی دور کرنا چاہیے۔ کوئی بھی معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے اور پروان چڑھتا ہے جب اس کے افراد زندگی گزارنے کے طورطریقوں پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں عام طور پر بچوں کی صحت اور ان کے دن رات کیسے گزرتے ہیں، اس پر سنجیدگی سے غورنہیں کیا جاتا ہے، اس وجہ سے اس طرح کی عادتیں ان میں پنپتی ہیں، جن کا درج بالا سطور میں ذکر کیا گیا۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ بچوں کا اس لعنت کے شکار ہونے کا مطلب ہے آنے والی پوری نسل اور معاشرے کی تباہی۔ اس سے نہ صرف ان کی زندگی متاثر ہوتی ہے، بلکہ ان کے بہتر اور شاندار مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے واقعات اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہوں، ان پر سنجیدگی سے غوروفکر کیا جائے اور زمینی سطح پر ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل تیار کیا جائے، تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم نے اپنے بچوں پر توجہ نہیں دی، جس کی وجہ سے وہ خراب سنگت اور نشہ کی لعنت کا شکار ہوگئے۔ وقت کی قدر کریں اور ذرا بھی وقت نہ گنوائیں، اپنی خواہ کتنی بھی مصروفیت ہو، بچوں کے لیے وقت نکالیں۔ ان سے دوستانہ انداز میں گفتگو کو اپنا وتیرہ بنالیں اور ممکنہ حد تک بچوں کے تئیں نرم رویہ اختیار کریں۔ یقیناًآپ کا مستحکم لائحہ عمل نشے کے شکار بچوں کے لیے کسی نویدِ جاں فزا سے کم نہیں ہوگا۔