ملک کے موجودہ حالات کو سمجھتے ہوئے متحد ہوکر لائحہ عمل تیار کریں ذمہ داران مدارس

اس مرتبہ ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے رابطہ مدارس اسلامیہ کا اجلاس، آئندہ مارچ میں منعقد ہونے والے اجلاس پر غیر مربوط اور بورڈ مدارس کی بھی نگاہ
دیوبند،یکم فروری(سمیر چودھری؍قندیل نیوز)
اس مرتبہ دارالعلوم دیوبند کا رابطہ مدارس اسلامیہ کا اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے، جس میں ملک بھر سے مربوط مدارس کے ذمہ داران اور علماء کرام شرکت کرینگے ،اجلاس میں ملک کے موجودہ حالات ، مدارس میں پیش آرہی نئی نئی مشکلات اور مدارس پر لگائے جارہے طرح طرح کے الزامات کے سدباب کے لئے حکومت کے کانوں تک اپنی آواز پہنچانے کی مضبوط لائحہ عمل تیار کیا جائے جائے گا۔ آئندہ 11؍12؍ مارچ کو ہونے والے دارالعلوم دیوبند کے رابطہ مدارس اسلامیہ کے اجلاس کے لئے ملک بھر کے مربوط مدارس کے ذمہ داران کو دعوت نامے ارسال کئے جا چکے ہیں ،دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کی جانب سے بھیجے گئے دعوت نامہ میں کہا گیاہے کہ ملک کے تیزی سے بدلتے حالات پر سب کی نظر ہے، مدارس کو خاص طور پرنشانہ بنایا جارہاہے ، مدارس اسلامیہ کے نظام کو قبضہ میں لینے کے لئے حکومت نئے نئے ہتکھنڈے اپنا کر کوششیں کررہی ہے، موجودہ حالات میں مدارس کے تحفظ اور بقاء پر خطرات کے بادل منڈارہے ہیں ،مدارس کے منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مدارس کے سامنے آرہی پریشانوں کے خاتمہ کے لئے متحد ہوکر لائحہ عمل تیار کریں۔یہ شایدہ پہلا موقع ہے جب دارالعلوم دیوبند نے حکومت کو گھیرتے ہوئے اس انداز میں تلخ الفاظ کااستعمال کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے اندرون ذرائع کے مطابق اس مرتبہ رابطہ مدارس اسلامیہ کا اجلاس ہنگامہ خیز ہوگا، جس میں ملک کے موجودہ حالات ،حکومت کے ذریعہ مسلسل مدارس کو جاری کئے جارہے نئے نئے فرمان کی پرزور طریقہ سے مخالفت کی جاسکتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اجلاس میں شریک علماء و ذمہ داران مدارس میں دخل اندازی کے سلسلہ میں حکومت کو سخت پیغام دے سکتے ہیں،اس میں مرتبہ کے رابطہ مدارس کے اجلاس میں غیر مربوط مدارس کے ساتھ ساتھ مدرسہ بورڈ سے منسلک مدارس کے ذمہ داران کی بھی نگاہیں لگی ہوئی ہیں کیونکہ دارالعلوم دیوبند نے گزشتہ ماہ بنگلور میں وزارت انسانی وسائل فلاح و بہبود کے زیر اہتمام منعقد قومی تعلیمی پالیسی کانفرنس میں حکومت کو کئی اہم تعلیمی مشورہ دیتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی ناقابل قبول ہے ۔