ملت کی شیرازہ بندی میں امارت شرعیہ کی خدمات ناقابل فراموش

پرولیا میں منعقد تأسیسی اجلاس میں علمائے کرام کے تأثرات
دارالقضا ء امارت شرعیہ،پرولیا مغربی بنگال کے زیر اہتمام، جمعیۃ القریش ہال ، قریشی محلہ پرولیا میں سنیچر کو امارت شرعیہ کے یوم تأسیس کی مناسبت سے خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ضلع پرولیا کے قدیم عالم دین مولانا عبد الحکیم قاسمی صاحب نے فرمائی اور آغاز ڈاکٹر ڈانگہ مسجدپرولیا کے امام و خطیب مولانا احتشام الحق مظاہری کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا جب کہ نعتیہ کلام حافظ مقصود صاحب نے پیش کیا، اجلاس میں شہر پرولیا اور مضافات کے علمائے کرام اور دانشوران کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کیا ، اس اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے دارالقضاءامارت شرعیہ ، رانچی کے قاضی شریعت مفتی محمد انور قاسمی نے اپنے پر مغز خطاب میں امارت شرعیہ کی تاریخ اورقیام کا پس منطر، خدمات کی وسعت اور مقبولیت ، حضرات امرائے شریعت کے بابرکت ادوار کا ذکرمؤثر اندازمیں اجلاس میں پیش ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کوئی روایتی تنظیم نہیں ہے بلکہ اس کی اساس کتاب و سنت پر ہے اوراس کا تقاضہ شریعت مسلمانوں سے کرتی ہے ، انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ کا ابتدائی دوربہت ہی بے سروسامانی کا تھا لیکن اکابر امارت شرعیہ کے خلوص و للٰہیت کے ساتھ جدو جہد کی وجہ سے اللہ نے اس کو بہت محبوبیت اور مقبولیت عطا فرمائی اور آج ملک اور بیرونی ملک اس کی اہمیت اور افادیت محسوس کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ ویسے تو پورے ملک میں اور خاص طور پر بہار ، اڈیشہ ، جھارکھنڈ اور بنگال میںامارت شرعیہ کی خدمات پھیلی ہوئی ہے ، تکنیکی تعلیم کے ا دارے ، اسپتال ، کمپیوٹر سینٹرس ، دینی ماحول میں انگلش میڈیم اسکولس ، از ابتدا تا بخاری شریف کے دارالعلوم ، افتا اور قضاء کے لئے المعہدالعالی ،دارالقضاء اور دارالافتاء کا مضبوط اور مربوط نظام امارت شرعیہ کی طرف سے مذکورہ چاروں ریاستوںمیںجاری ہے اور ہر سال ہزاروں لوگ مستفید ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ پینسٹھ مقامات پر امارت شرعیہ کا باضابطہ دارالقضاء کا نظام قائم ہے جب کہ حادثات اور آفات ناگہانی میں امارت شرعیہ کا ریلیف ورک تو پورے ملک کے لئے ایک نمونہ ہے یہ بھی کہا کہ یہ شرعی ادارہ موجودہ امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی مضبوط اور بابصیرت قیادت میں مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہے انہوں نے ملت کی شیرازہ بندی میں امارت شرعیہ کی خدمات کو ناقابل فراموش کہا ازین قبل دار القضاء امارت شرعیہ پرولیا کے قاضی شریعت مفتی محمدفخر الدین قاسمی نے افتتاحی اور استقبالیہ خطاب میں امارت شرعیہ کے جملہ شعبہ جات کی خدمات اور اس کی وسعت کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کا ہر شعبہ اب اپنی خدمات کی وسعت کی وجہ سے ادارہ کا درجہ رکھتا ہے، انہوں نے دار القضاء کی شرعی اہمیت اور معاشرتی افادیت کو تجربات کی روشنی میںمؤثرانداز میں پیش کرتے ہوئے کہا یہ وہ مقام ہے جہاں قرآن و سنت کی روشنی میں معاملات اور تنازعات فیصل ہوتے ہیں انہوں نے اس بابرکت شرعی نظام سے بھر پور استفادہ پر زور دیا اور کہا کہ ائمہ اور مقامی کمیٹیاں اس میں بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں اور مسلمانوں کے خون و پسینے سے کمایا ہو اسرمایہ، جائداد اور قیمتی اوقات نیز ذلت و رسوائی سے حفاطت میں نمایاں رول ادا کرسکتے ہیں ، مولانا محمد جمال الدین صاحب اسعدی نے اکابر امارت شرعیہ بالخصوص امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی ؒ نور اللہ مرقدہ کی ضلع پرولیا سے گہری وابستگی ذکر کرتے ہوئے کہاکہ امارت شرعیہ ایک زندہ شرعی تنظیم ہے جس کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ِ، قریشی محلہ مسجد کے امام و خطیب مولانا عتیق الرحمٰن قاسمی نے امارت شرعیہ کو اکابر کی امانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے اس ملک میں ہر مشکل حالات میں بڑی کامیاب راہنمائی کی ہے جس سے ملت کو قوت اور حوصلہ ملتا رہا ہے، صدر اجلاس نے منتظمین کا اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکبادی پیش کرتے ہوئے اس تنظیم کے کاز کو تقویت پہونچانے ، اس سے جُڑنے اور جوڑنے نیزاس کے پیغامات کو عام کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ ملکی حالات میں اس ادارہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔صدر اجلاس کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا ۔ اجلاس کے نظم ونسق میں حافظ محمدعارف محمدالطاف قریشی،محمدناظم ،محمد شفیق نے بہتر خدمات پیش کئے ۔اجلاس کے دیگر شرکاء میں سے چند کے اسماء یہ ہیں حافط محمدامیرحسن ،حافظ محمداسیرالدین،مولاناغلام مصطفیٰ ،حافظ عین الحق ،حاجی محمد انور حسین ،مولوی جسیم الدین،ماسٹرمحمد غیاث الدین،ماسٹر عبداللطیف،ماسٹرمحمدیوسف،مستفیض قریشی،زاہد قریشی،نہال احمد،سہیل احمد،حاجی طاہرحسین،اکبرحسین ،سلیم خان، نفیس قریشی،نظرالاسلام، جان عالم قریشی،اکرام قریشی،قیم قریشی،شیخ عمران،شیخ موفی،التمش قریشی،