ملاوٹ کی سیاست: کبھی چہرہ نہیں ملتا،کبھی درپن نہیں ملتا!


توقیر بدر القاسمی
muftitmufti@gmail.com
+918789554895
ہم سب ابھی جہاں ہیں،جس دور سے گزر رہے ہیں،جو وقت و حالات ابھی ہمارے ساتھ ہیں،آنے والا وقت جو آئےگا،ان سب کے تناظر میں اگر کسی چیز کو قومی و ملی طور پر جہاں کہیں بھی بیٹھ کر ہم ڈسکس Discuss کر رہے ہوتے ہیں، وہ ہے”سیاست”ـ
یہاں سیاست کی حقیقت اور حکومت کی ماہیت نیز ان کے مابین فرق و اشتراک کا بیان مقصود ہے نہ ہی اس پر ماہرین کی آرا کا اظہار یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے؛کیونکہ یہ میدان سیاسیات کے ماہرین کاہےـ
ویسے سبھی جانتے ہیں کہ آج کے حوالے سے جمہوریت کے سایے میں سیاست کسی بھی جگہ انسانی آبادی اور مہذب معاشرے میں قیام عدل و انصاف،دفع شرر و رفع سماج نیز نظم و ضبط قائم رکھنے والے ادارے کا نام ہے،جبکہ حکومت ان متذکرہ بالا اوصاف کو بروئے کار لانے کے لیے پابند عہد عوامی منتخب نمائندوں کی جماعت کہلاتی ہےـ
اب سوال یہ ہے کہ اگر سیاست و حکومت متذکرہ بالا عنوان و اوصاف اور شرائط سے عبارت ہے، تو پھر آج سماج میں انصاف پسندو شریف انسان کی جگہ شر پسند عناصر کو سماج کو ترقی کی طرف لے جانے کے بجائے معاشرے کو پست سے پست تر کرنے کا موقع کیوں مل جاتا ہے؟عدل و انصاف کی بالادستی کی جگہ جبر و نا انصافی کا کھلے عام مظاہرہ کیوں ہوتا ہے؟دفع شر کی جگہ ازالۂ خیر کا نمایندہ کوئی کیونکر بن جاتا ہے؟یہ اور ان جیسے بہت سے ایسے واجب سوالات ہیں،جن کا جواب سنجیدگی سے، ٹھنڈے دل و دماغ سے ڈھونڈنا ہوگاـ
اس لیے کہ یہ ایک بالکل مسلم حقیقت ہے کہ "آپ سیاست و حکومت میں دلچسپی لیں یا نہ لیں،مگر سیاست و حکومت آپ میں بھرپور دلچسپی ضرور لیتی ہے” ـ
اس متن کی شرح کی جائے، تو سر دست یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم آئے دن جہاں سیاسی لیڈران کو وقتاً فوقتاً بات بے بات پر بیان بازی کرتے ہوئے پاتے ہیں، وہاں دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں کیاامیر کیا فقیر، شعوری یا غیر شعوری طور پر جسے دیکھیے اس بیان پر چرچہ کرتاہوادیکھاجاتاہے، اسی طرح حکومت میں آپ ہوں یا نہ ہوں، تاہم حکومت کی فراہم کردہ اسکیم آپ تک کاغذی طور پر ہی سہی ضرور پہنچتی ہے اور آپ اس کے حوالے سے بھی اپنی اپنی سطح سے چیں بجبیں ہوئے بنا نہیں رہ پاتے ہیں!
شاید یہی وہ دوامی انسانی ضرورت رہی ہے،جس کی تکمیل کے لئے عہد بنی اسرائیل میں وسیع تر سماجی امور کے پیش نظر قیادت وحکومت انبیاےوقت کے سپرد رہی ـ بعد ازاں یہ سلسلہ ختم المرسلین تک نبوت کے دائرے میں جاری رہا،محسن انسانیت رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد یہ ذمے داری نیک سیرت باخبر و باہمت افراد کے ہاتھوں میں رہے اس کی راہنمائی کی گئی ـ
چناچہ ہر پڑھا لکھا انسان جانتا ہے کہ قیادت کے لیے ‘بسطة فی العلم والجسم’ سے مفهوم قرآنی معیار کل بھی اور آج بھی سبھی سماج میں یکساں مقبول و مسلم رہا ہے،ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنی باخبری اور دلیری کا کوئی ناجائز فائدہ اٹھائے، تو یہ اس کی بدتوفیقی ہی نہیں، سراسر اس کی بد قسمتی بھی ہےـ
بات طویل ہوتی جارہی ہےـ ہم ابتدائی سطورمیں پیش کردہ حالات اور اٹھائے گئے سوالات کی طرف آتے ہیں ـ
بات یہ ہورہی تھی کہ ابھی ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ سیاست، سیاست اور سیاست کے شور و غوغا سے اٹا پڑا ہےـ اب تو میڈیا کا دور ہے؛ اس لیے کیا ٹی وی اور کیا اینڈرائڈ فون، جہاں دیکھیے، جہاں سنیے، ہر جگہ یہی شور بپا ہے کہ فلاں کیا ‘ملاوٹ’ کررہا ہے،کون ‘کتنا ملاوٹ’کرنے میں کامیاب ہوا یا ہوگا؟
آپ شاید’ملاوٹ’سے کھان پان میں ملاوٹ سمجھ رہے ہوں گے،نہیں! یہاں’ملاوٹ’سے مراد سیاسی پارٹیوں کا’گٹھ بندھن ہےـ
وہ اس لیے کہ آپ بھی پارٹی میں آنے جانے اور ملنے بچھڑنے والے افراد و عناصر کی حقیقت و ماہیت اور ان کی ذہنیت و تربیت سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہاں’ گٹھ بندھن’کا لفظ زیادہ جچتا ہے یا پھر’ملاوٹ’ کا عنوان!
اس سلسلے میں راقم مطالعے سے زیادہ اپنے مشاہدے پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بات رکھنا مناسب سمجھتا ہےـ مشاہدہ یہی ہے کہ آج کے وقت میں سیاسی جھنڈا اٹھاکر عوام کو رجھانے والا نعرہ لگاتا ہوا کوئی سامنے آتا ہے اور جمہوری طریقے سے عوام کے ہاتھوں جب وہ جھنڈا بردار منتخب ہوکر نمایندہ بن جاتا ہے، تب اس کی حقیقت عیاں ہوتی ہےـ
یعنی آیا وہ اپنی مدت کار میں کچھ مشن Mission اور وژن Vision لے کر آیا ہے یا پھر اتفاقی اور حادثاتیAccidental طور پر منتخب Select ہو بیٹھا ہے،اس کا فیصلہ عوام کر بہت جلد کر لیتے ہیں؛بلکہ بسا اوقات آیندہ انتخاب میں مستردکرکے اپنا عملی فیصلہ سنا بھی دیتے ہیں ـ
جب بات مشاہدے کی ہورہی ہے،تو یہ بتادینا بھی واجب ہے کہ آج بھی سماج میں زمینی طور پر کچھ ایسے لیڈر مل جاتے ہیں،جو کسی چالاک کی چالاکی کے نتیجے میں غریبی کا درد ذاتی طور پر جھیلے ہوئے ہوتے ہیں،ٹوٹے مکان میں رشوت خور افسر کو خوش نہ کرپانے کے نتیجے میں اپنا بچپنا بتائے ہوتے ہیں،آس پڑوس کیا،خود کے گھر میں قریبی رشتے داروں اور اپنوں کو طبی سہولیات یا من مانی فیس نہ جٹا پانے پر اپنی آنکھوں کے سامنے انہیں تڑپ تڑپ کر مرتا دیکھ چکے ہوتے ہیں،غربت اور جہالت کا فائدہ اٹھا کر صدیوں سے ساتھ رہ رہے الگ الگ دھرم اور طبقے کے باہم شیر وشکر پڑوسی کو،آدم خور نیتاوں کا لقمۂ تر بنتے دیکھ دیکھ بڑے ہوتے ہیں ـ
چناچہ ان تمام تر ایذاوں سے لڑنے کے لیے وہ ان بیان کردہ لعنتوں کی وجہ سے پہلے’باغی’ہوتا ہے،یہاں یہ واضح رہے کہ کسی مکروہ شی سے ‘بغاوت’ اسی طبیعت کا خاصہ ہوتا ہے،جس میں ہمت،شجاعت اور کچھ کر گزرنے کی للک ہوتی ہےـ
پھر دوسرے مرحلے میں تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونابناتا ہے،اسی دوران وہ اچھے اساتذہ کے ہاتھوں میں خود کو سونپ کر سنورتا ہے،آگے چل کر تمام مقبول و معرف مذاہب کے فلسفیوں کے افکار اور ان کے پیش کردہ اچھے کردار کو وہ اپنا وژن بناتا ہے،نفع آدمیت و خدمت انسانیت پر مبنی سیاست و حکومت کے لیے کیا گُن اور گِیان چاہیے، اسے پورے عزم و حوصلے سے حاصل کرتا ہے،پھر ان تمام لعنتوں کو، جن کا پیچھے ذکر آچکا ہے،اپنے سماج اور معاشرے سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم لیے وہ میدان سیاست میں کود پڑتا ہے، شجاعت کے ساتھ ساتھ وہ حکمت سے اپنے حریف کو للکارتا بھی ہے اور صحیح جگہ پر اسے پچھاڑتا بھی ہے،اس طرح پھر وہ بھلے حکومت میں رہے یا نہ رہے،مگر سب کے دلوں میں ضرور رہتاہے،اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے پاؤں ریڈ کارپیٹ پر ہیں یا کسی کسان کے ساتھ اس کی کٹیا میں؛کیونکہ اس عالم جذب و مستی میں وہ اے سی کی ٹھنڈک سے نہیں،ہزاروں بے کسوں کے آنسو پونچھ کر سمندر کی سی ٹھنڈک اپنے دامن میں سمیٹ چکتا ہےـ
چناچہ ضرورت آج ان جیسوں کو ہی ڈھونڈ کر منظر عام پر لانے کی ہے، تبھی ہمارے سبھی سوالات حل ہونگے،بصورت دیگر اتفاقی و حادثاتی لوگ ہی قیادت کی کرسی پر براجمان ہوں گے،جن کا مشن شروع سے ہی’کچھ نہیں’ ہوتاہےـ
اب ظاہر ہے ‘کچھ نہیں’ہی جس کا مشن ہوگا،وہ ایسے عظیم منصب کو لے کر کیا کرسکتا ہے،وہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے،ایسے لوگ وہ ہوتے ہیں،جو کسی مشن یا وژن کے بغیر فقط گلیمر والی چکا چوند دنیا سے متاثر ہوکر پہلے وہ گلیمر کے برانڈ بننے کی کوشش کرتے ہیں،ظاہر ہے جب کوئی مشن یا وژن نہیں،تو کامیابی ہاتھ کیوں لگے!لہذا جب اس سے من اچاٹ ہوا تو پھر’کچھ اور’بننے کی کوشش کرتے ہیں،اتفاق سے وہ ‘کچھ اور’ میں بھی ناکام رہتے ہیں اور اسی طرح ٹرائل کرتے کراتے، قسمت آزماتے انہیں بنا کسی کوالیفیکیشن اور میرٹ و ٹیلنٹ کے میدان سیاست ہی کار گر نظر آتا ہے؛
چنانچہ کسی نہ کسی کا؛بلکہ بسا اوقات اپنے گھر میں ہی ممی، پاپا، تایا،ماما وغیرہ اس میدان کے سینیر اور ماہر مل جاتے ہیں،جن کا دامن تھام کر ان کا جھنڈا اٹھائے اور آشیرواد لیے آگے بڑھتا ہے اور پھر وہ ہوتا ہے،جو آج سیاست کی دنیا میں ہورہا ہےـ اگر ہمارے رویے میں تبدیلی نہیں آئی تو آیندہ بھی یہی سب ہوتارہےگا،جسے محسوس کرکے ایک نامعلوم شاعر کا شعر اکثر یاد آجاتا ہے:
سمجھنےہی نہیں دیتی سیاست ہم کوسچائی
کبھی چہرہ نہیں ملتا، کبھی درپن نہیں ملتا!
(ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتا والتحقیق سوپول بیرول،دربھنگہ، بہار)