معصومہ خاتون کے افسانوی مجموعے ’’کشمکش ‘‘کی تقریبِ اجرا

نئی دہلی : (پریس ریلیز )پٹنہ کی مشہور و معروف فکشن نگار اور شاعرہ معصومہ خاتون تہذیب نو کے دفتر آرام پارک ساشتری میں تشریف لائیں جہاں ان کے افسانوی مجموعہ ’’کشمکش ‘‘کا اجرا عمل میں آیا ۔اس موقع پرپروفیسر شہر یار ایڈیٹر این سی ای آر ٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معصومہ خاتون اردو افسانہ نگاری کے میدان میں تیزی سے اعتبار حاصل کر رہی ہیں ۔
پیش نظر افسانوی مجموعے میں اپنے سابقہ مطبوعہ ناول ’’نشیب و فراز ‘‘اور ’’پیچ و خم ‘‘کے مقابلے میں زیادہ پر اعتماد اور ترقی یافتہ نظر آرہی ہیں ۔ان کے افسانہ کو پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ اردو ادب کی جڑیں ابھی مستحکم ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ معصومہ خاتون کو ادب کا ذوق ورثے میں ملا ہے ۔معصومہ خاتون ہر لحظہ نیا طور نئی برقِ تجلی کے مصداق نئے تخلیقی مبارزات کو قبول کررہی ہیں اور پہلو بدل بدل کر نثری ادب کی تخلیق میں اپنا نام رقم کررہی ہیں ۔تخلیقی سرگرمی کی سب سے اہم بنیاد لکھنے والے کا ذوق و شوق اور مسائل و موضوعات کے حصول کے سلسلے میں اس کی پُر خلوص سنجیدگی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا تخلیقی ادب اتنا متمول ہوچکا ہے کہ ہر نیا لکھنے والا اس کے مطالعے سے فیض حاصل کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تخلیق کار اپنا سرمایہ بانٹ رہا ہے ہم مقروض ہو رہے ہیں اور یہ قرض نسل در نسل قرض حسنہ کی صورت میں باقی رہتا ہے، یہ وہ خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا ۔پروفیسر چمن آرا این سی ای آر ٹی نے کہا کہ آج کے لکھنے والوں کے سامنے سماجی اور معاشرتی مسائل ہیں۔شاعر سرور نگینوی نے کہا کہ معصومہ خاتون بیک وقت ناول ،افسانہ اور شاعری کے میدان میں سرگرم عمل ہیں ۔یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ دراصل کس صنف ادب سے اُن کی روحانی وابستگی ہے۔ادب سے ان کی وابستگی جنون کی حد تک ہے ۔واضح رہے کہ معصومہ خاتون نے ناول اور متعدد افسانے لکھے ہیں۔ان کی شاعری کا سرمایہ بھی کم نہیں ہے ۔معصومہ خاتون کے اندرون جو تیزابی بہاؤ ہے ،وہ یقیناًانہیں اس منزل پر پہنچا کر دم لے گا جہاں تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔اس موقع پر محمد شاہق ، زیبا خاتون ،مشرف عالم اورعالیہ فلاحی موجودتھے ۔