معاشرہ کی تعمیر میں خواتین کا کردار

مفتی محمد امام الدین قاسمی
مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ،پٹنہ
اسلام سے پہلے دنیا نے جتنی بھی ترقی کی ہے اس میں صرف مرد کا حصہ ہے عورت کا کہیں بھی کوئی کردار نہیں ہے لیکن اسلام آیا تو اس نے دونوں صنفوں کی کوششوں کو وسائل ترقی میں شامل کر لیا،اسلام نے جو عزت اور مقام عورت کو عطا کیا ہے وہ نہ تو قومی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی دنیا کی مذہبی تاریخ میں۔اسلام نے صرف عورت کے حقوق ہی نہیں مقرر کئے بلکہ ان کو مردوں کے برابر درجہ دے کر مکمل انسانیت قرار دیا ہے۔بخاری شریف میں ہے۔مرد اپنے اہل وعیال کا نگراں ہے اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا اور عورت شوہر کے گھر کی نگراں ہے اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت چاہے ماں،بہن،بیوی اور بیٹی ہر روپ میں قدرت کا قیمتی تحفہ ہے،جس کے بغیر کائنات انسانی کی ہرشئی پھیکی اور ماند ہے۔اﷲتعالیٰ نے مرد کو اس کا محافظ اور سائبان بنایا ہے مگر عورت اپنی ذات میں ایک تناوردرخت کی ما نند ہے،جو ہر قسم کے سردوگرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے ا سی عزم وہمت ،حوصلہ اور استقامت کی بنیاد پر اﷲتعالیٰ نے جنت کو اس کے قدموں تلے بچھا دیا۔عورت ہی وہ ذات ہے جس کے وجود سے کم و بیش ایک لا کھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیھم السلام نے جنم لیا اور انسانیت کے لئے رشد وہدایت کا پیغام لے کر آئے ، حضرت حواء علیہا السلام سے اسلام کے ظہور تک کئی نامور خواتین کا ذکر قرآن و حدیث اور تاریخ اسلامی میں موجود ہے،جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ازواج حضرت سارہ ؑ ،حضرت ہاجرہؑ ،فرعون کی بیوی آسیہ ،حضرت ام موسیٰ ،حضرت مریم،ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ،ام المومنین حضرت ام سلمہ ،سیدہ کائنات حضرت فاطمہ ،حضرت سمیہ،اور دیگر کئی خواتین ہیں جن کے کارناموں سے تاریخ کے اور اق بھرے پڑے ہیں۔
تاریخ اسلام خواتین کی قربانیوں اور خدمات کا ذکر کئے بغیر نا مکمل رہتی ہے،اسلام کی دعوت وتبلیغ میں مردوں کے ساتھ عورتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسلم خواتین کا جو کردا ر رہا وہ آج ساری دنیا کی خواتین کے لئے ایک واضح سبق بھی ہے۔اسلام کو سب سے پہلے قبول کرنے والی ،آپ ﷺ کی راز دار ،ہمسفر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ذات گرامی ہے ،حضرت خدیجہ نے نہ صرف سب سے پہلے کلمہ اسلام قبول کیا بلکہ سب سے پہلے عمل کیا اور اپنی پوری زندگی جان و مال سب کچھ دین اسلام کے لئے وقف کر دیا ۔حضرت خدیجہ نے تین سال شعب ابی طالب میں محصوررہ کر تکالیف اور مصائب برداشت کئے اور جب تین سال کے بعد مقاطعہ ختم ہوا تو آپ اس قدر بیمار اور کمزور ہو گئیں کہ اسی بیماری کے عالم میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ آپ ﷺ کی ازواج میں ایک ایسی خاتون بھی ہیں جن کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان سے صحابیات تو درکنار صحابہ کرام نے بھی علم حدیث حاصل کیا وہ خوش نصیب حضرت عائشہ ہیں، حضرت عائشہ کو آپ ﷺ کی ازواج میں منفرد مقام حاصل ہے آپ اپنے ہم عصرصحابہ کرام اور صحابیات علیھم ا لسلام میں سب سے زیادہ ذہین تھیں اسی ذہانت و فطانت اورو سعت علمی کی بنیادپر منفرد مقام رکھتی تھیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا آدھا دین عائشہ کی وجہ سے محفوظ ہو گا ۔آٹھ ہزار صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے شاگرد ہیں ۔ خاتون جنت،سرداران جنت کی ماں اور دونوں عالم کے سردار کی بیٹی حضرت فاطمہ کی زندگی بھی بے مثال ہے۔ آپ ﷺ کی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہؓ ایک عظیم اور ہمہ گیر کردار کی مالکہ ہیں جو ایک بیٹی کے روپ میں، ایک ماں کی شکل میں اور ایک بیوی کے کردار میں قیامت تک آنے والی خواتین کے لئے نمونہ حیا ت ہیں جنہوں نے اپنے عظیم باپ کی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے بچپن میں سرداران قریش کے ظلم و ستم کا بڑی جرات مندی،شجاعت،ہمت،اور متانت سے سامنا کیا ۔ حضرت فاطمہ چھوٹی تھیں ایک دن جب نبی اکرم ﷺ صحن کعبہ میں عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ ابوجہل کے اشارہ پر عقبہ بن ابی معیط نے مذبوحہ اونٹ کی اوجھڑی کو سجدہ کے دوران آپ ﷺ کی گردن پر رکھ دیا،حضرت فاطمہ دوڑتی ہوئی پہونچیں اور نبی اکرم ﷺ سے اذیت وتکلیف کو دور کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نہایت بہادر اور نڈر خاتون تھیں، آپ دوران جنگ بے خوف وخطر ہوکر زخمیوں کو میدان جنگ سے باہر لاتیں اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں ،انہوں نے غزوہ خندق کے موقع سے نہایت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب دوران جنگ ایک یہودی مسلمان خواتین پر حملہ آور ہوا تو آپ نے اس پر وار کیا جس سے اس کا کام تمام ہو گیا۔حضرت ام عمارہ مشہور صحابیہ تھیں،انہوں نے غزوہ احد میں جب کہ کفار مکہ نے یہ افواہ پھیلا دی کہ نعوذ باللہ آپ ﷺ شہید ہو گئے ہیں ایسی انتہائی نازک حالت میں آپ ﷺ کا دفاع کیا اور شمشیر زنی کا ناقابل فراموش مظاہرہ کیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت حاجرہ ؑ کا تذکرہ کرنا نہایت ہی اہم ہوگا ،حضرت ابراہیم ؑ نے جب مکہ کی بے آب وگیاہ بنجر زمین میں حضرت حاجرہ کو چھوڑ دیا تو حضرت ہاجرہ ہی ہیں جنہوں نے اﷲ اور اپنے خاوند کے حکم کی تعمیل میں حضرت اسماعیل ؑ کے لئے پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں اﷲ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کی تقلید قیامت تک کے لئے تمام مردوں اور عورتوں پر لازم کر دی ۔ان پاکیزہ خواتین کے تذکرہ کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ آج کی خواتین ان کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بنائیں اور اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں۔
خصو صاً ان خواتین سے گذارش ہے کہ جو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئی ہیں یا جن کی ذمہ داریوں کا بوجھ کم ہو گیا ہے ان پر لازم ہے کہ دین کی اشاعت اور دعوت و تبلیغ کے لئے وقت نکالیں ،اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کر کے گھرو ں کے اندر اجتماع کریں تا کہ ان بہنوں کو جو تعلیم اسلامی سے ناواقف ہیں ان کو دین کی بنیادی ضروری تعلیم حاصل ہو جائے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*