معاشرہ میں بڑھتی بےحیائی اور اس کا سد باب


سلمان کبیرنگری
عصر حاضر میں برائیاں فیشن اور آزادی کے نام سےمعاشرے میں رائج ہور ہی ہیں، آج کے نوجوان نسل نو کا نعرہ ہے زندگی جیو مزے کے ساتھ،، یہی سوچ انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہونچا رہی ہے، جنسی خواہش کی تکمیل کے لئے ناجائز طریقے اختیار کئے جارہے ہیں، کچھ سرپھروں نے پیار و محبت کے لئے بھی دن مخصوص کر لیا ہے 14فروری ویلنٹائن ڈے پر جوان لڑکے اور لڑکیاں من پسند جوڑوں کے ساتھ ایسی حیا سوز حرکتوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو کسی بھی طرح درست نہیں نہ اخلاقی اعتبار سے اور نہ ہی سماجی لحاظ،، اسکول کالج میں زیر تعلیم طلباء و طالبات میں یہ برائی وباکی کی شکل اختیار کی ہے، ساتھ ہی ساتھ جوچیزیں زنا اور بدکاری کا سبب بنتی ہیں، اسلام نے ان سارے امور پر بھی پابندی عائد کی ہے، ویلنٹائن ڈے پر نہ صرف تحفہ تحائف پیش کر کے پیار ومحبت کا اظہار کیا جاتا ہے، بلکہ نوجوان طبقہ بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخلاق کی ساری حدیں پار کرجاتا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اظہار عشق کی آڑ میں اس دن کو گناہ عظیم کا دن بنا دیا گیا ہے، مزہبی تنظیمیں اس دن جنسی بے راہ روی کا مظاہرہ کرنے والے عاشق جوڑے پر پابندی لگانے کا مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں
*ایڈیٹر نئ روشنی برینیاں سنت کبیر نگر یوپی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*