مشہور داعی و مبلغ شیخ سلمان عودہ کاانتقال

مشہور داعی و مبلغ شیخ سلمان عودہ کاانتقال
رياض:
عالم عربی کے مشہور داعی دکتور سلمان العودہ جو ایک عرصہ سے آل سعود کی غیر شرعی حکومت اور منافقانہ طرز روش کی بہت نکتہ چینی کرتے آ رھے تھے، اور اسی جرم میں سعودی حکومت کے عتاب کا شکار ھو کر قید و مشقت کی زندگی گزار رھے تھے، اچانک حرکت قلب بند ھوجانے کے سبب اللہ کو پیارے ھو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ رحمہ اللہ و ادخلہ فسیح جناتہ۔ مرحوم جب سے گرفتار ھوئے تھے تب سے جیل ھی میں تھے اور قید تنہائی میں رکھے گئے تھے۔ ان کی موت کا سبب دورہء قلب ( ھارٹ اٹیک) بتایا جا رھا ھے۔
دل کا دورہ پڑتے ھی انھیں ریاض کے کسی اسپتال میں لے جایا جا رھا تھا کہ ایمبولینس کے اندر ھی راھی ملک عدم ھو گئے۔
مرحوم پچھلے 10ستمبر سے سعودی جیل میں قید تھے، جب انھوں نے خلیجی بحران کے پس منظر میں اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعہ آل سعود کی متضاد و منافقانہ سیاست پر زبردست تنقید کی تھی اور سعودی و قطر کے درمیان بگڑے تعلقات میں سدھار آنے کی دعا کی تھی۔ اسی جرم میں انھیں سعودی میڈیا اور سرکاری مصنفین نے ان پر سعودی عرب کے ساتھ غداری اور قطر کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا الزام لگایا۔
مرحوم سعودی حکومت کی سربراھی میں چلنے والی عالمی اسلامی اتحاد کانفرنس کے ایک ممبر بھی تھے۔ لیکن یہ ممبرشپ انھیں حق بات کہنے سے نہیں روک سکی۔ مرحوم خلیجی بحران شروع ھونے سے بہت پہلے تقریبا 70 کی دھائی سے ھی سعودی حکومت کے طرز روش اور اس کے یہود و نصاری خصوصا امریکہ کے ساتھ سیاسی و معاشی اتحاد سے نالاں تھے اور وقتا فوقتا اس منافقانہ سیاست اور عوامی حریت و حقوق انسانی کو کچلنے کو لے کر طنز و تنقید کا نشانہ بناتے رھتے تھے۔
انکی پیدائش 14 دسمبر 1956ء کوسعودی عرب کے صوبے القسیم کے شہر البریدہ کے مغربی گاؤں البصر میں ہوئی۔ مرحوم کا شمار جزیرہ نمائے عرب کے نمایاں مفکرین میں ھوتا تھا۔ انھوں نے ” الغربۃ و احکامھا” جیسے جدید موضوع پر ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ اور فقہ حنبلی کی مشہور کتاب "بلوغ المرام” پر پی ایچ ڈی بھی کی تھی۔
ستر اسّی کی دھائی میں شیخ اتنے مشہور تھے کہ ان کو جدید بیداری کے سربراھان میں شمار کیا جاتا تھا۔