مشاجرات صحابہ اور سلف صالحین کا موقف

محمد عرفان شیخ یونس سراجی
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

مشاجرات ”مشاجرۃ“کی جمع ہے جو ”شَاجَرَ“کا مصدر ہےجس کےمعنی ہے:باہمی اختلاف ونزاع۔اورجب” مشاجرات“کی اضافت اصحاب رسولﷺکی طرف کی جاتی ہے،تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان آپسی کشیدگیاں ،باہمی اختلافات رونما ہوئے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ صحابہ بھی ایک انسان تھے جن سے بشری تقاضوں کے مطابق خطاو لغزش صادر ہوئی ہے،جیسا کہ نبی کریم ﷺ کاارشاد ہے: ”فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيْئِهِمْ“.(صحیح بخاری،ح: ۹۲۷)”یعنی ان کے نیکوکارکی نیکیوں اور خوبیوں کا اقرار کرو اور ان کے خطاکار کی غلطیوں و لغزشوں سے اغماض کرو“۔اوران کے مابین کئی علمی و فقہی وسماجی مسائل میں بھی اختلاف واقع ہواہے،لیکن جب صحیح حدیث رسول ﷺ ان پر آشکار ہوجاتی تو بغیر کسی تامل کےبشرح صدر اسےقبول کرلیتے ،اور ہر قسم کے شک وشبہ اور قیل وقال سے دست بردار ہوجاتے۔ اسی طرح ان کے درمیان آپسی چپقلش ورنجش بھی پیدا ہوئی پر ان میں سےکوئی نہ کوئی اعتذار میں پہل کر لیتے تھے،جیسا کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان رنجش پیدا ہوگئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پہل کرتے ہوئے ان سے معافی طلب کی،تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بے نیازی اورلاتعلقی کا اظہار کیا ،جب اس بات کی خبرنبی کریم ﷺ کو ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي صَاحِبَيَّ“.یعنی تم میر ی خاطر میرے دوست سے قطع تعلق کرلوگے۔(صحیح بخاری،ح:۳۶۶۱)

منہج سلف سے منحرف ،عاقبت نا اندیش کچھ ایسے لوگ ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین رونما ہوئے تنازعات ومشاجرات، کشت وخون کی وجہ سے ان پر نازیبا وغلیظ کلمات سے وار کرتے ہیں،ان کی تذلیل وتنقیص کرتے ہیں،ان پرزبان طعن وتشنیع دراز کرتے ہیں، اور اپنی دشنام طرازی وہرزہ سرائی میں ایسے حواس با ختہ ہوجاتے ہیں کہ انہیں صحابہ رسول کا مقا م ومرتبہ، ان کی شان عظمت وجلال اور ان کی دینی واسلامی ،دعوتی ومعاشرتی خدمات یاد نہیں رہتیں،یا بغض وعناد میں تجاہل عارفانہ کا ارتکاب کرتے ہوئےساری اخلاقی واعتقادی ،انسانی وایمانی سیماؤں سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔

شیخ محسن العباد حفظہ اللہ رقمطرازہیں : جس اہم مسئلہ میں ہوش کا ناخن لینےکی ضرورت ہے وہ یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لعن وطعن کرنا ، ان کی عیب جوئی کرنا اوران کی ذات کوقدح وجرح کا نشانہ بنانا دین کو قدح وجرح کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے ،اس لیے کہ دین اسلام انہی لوگوں کی بدولت ہم تک پہونچی ہے ۔نیز ابو زرعہ رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن وحدیث جیسی شاہکار نعمت کو ہم تک پہونچایا ہے،اور یہ لوگ (زندیق )ان كی تجریح وتنقیص کرتے ہیں ۔حقیقی طور سے دیکھا جائے تو یہ زندیق لائق جرح ہیں جو ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ (عقیدۃ أہل السنہ فی الصحابہ ،تصنیف : شیخ محسن العباد حفطہ اللہ،ص:۲۵)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ناگوار باتیں سننا گوارا نہ تھا ،آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”لَايُبْلِّغُنِيْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِيْ عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَإِنِّيْ أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيْمُ الصَّدْرِ“.(سنن أبی داود،ح:۴۸۶۰۔سنن ترمذی،ح:۳۸۹۶) ترجمہ: ”کوئی مجھ سے میرے کسی صحابی کے تعلق سےکچھ بھی ناگوار بات نہ پہونچائے، اس لیے کہ میں چاہتاہوں کہ میں تمہاری طرف آؤں اور میرا دل صاف شفاف ہو“۔

ا س حدیث کےبار ے میں ابن ملک فرماتے ہیں: ”نبی کریم ﷺکی خواہش تھی کہ جب میں د ار فانی سے دار بقا کو جارہاہوں تو میرا دل وجگر صحابہ کرام کی محبت سے سرشار ہو اور میں ا ن میں سے کسی سے خفا نہ ہوں“۔(تحفۃ الأحوذی ۲۷۰/۱۰)

جب ہمارے اسوہ وقدوہ ، ہمارے ہادی ومرشد کو صحابہ کرام سے متعلق ناگوارو غیر مناسب باتیں سننا پسند نہیں تھی،تو ہمیں بدرجہ اولی ان کے بارے میں کچھ بھی برا بھلا کہنے سے گریز کرنا چاہیے،کیوں کہ ان کی شان عظمت تو انبیاءکرام علیہم السلام کے بعد اس روئے زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات سے نرالی ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام ومرتبہ:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انبیاء علیہ السلام کے بعد سب سے مقدس ومبارک اور سب سےاعلی مقام ومرتبہ والےہستی ہیں ،جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:”وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ“.( سورہ توبہ :۱۰۰) ترجمہ :”اورجو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیروہیں اللہ ان سب سےراضی ہوا اوروہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیارکر رکھے ہیں جن کےنیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے ۔یہ بڑی کامیابی ہے“۔ علاوہ ازیں اللہ تعالی کا فرمان ہے:” لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا“.(سورہ فتح: ۱۸) ترجمہ :”یقینا اللہ مؤمنوں سے خوش ہوگیا جب کہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کررہے تھے۔ان کے دلوں میں جوتھا اسےاس نے معلوم کرلیااور ان پر اطمینان نازل فرمایااور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی “۔

اصحاب رسول ﷺ کو جو اعلی وارفع خصوصیت حاصل ہے وہ اللہ کے نبی ﷺ کی صحبت مبارکہ،جو دنیا کی تمام متاع گراں مایہ سے بڑھ کر ہے۔نیز نبی کریمﷺنے انہیں”خیرون القرون“ کے لقب سے ملقب کیا ہے،جیسا کہ نبی کریمﷺکا فرمان ہے :”خَیرُ الْقُرُونِ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ،ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِيْنَهُ،وَيَمِيْنُهُ شَهَادَتَهُ“.(صحیح بخاری،ح:2652۔صحیح مسلم،ح:2533) ترجمہ:”سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں،پھر جو اس کے بعد ہیں ، پھر جو اس کے بعد ہیں ، پھر اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن کی گواہی قسم پر اور ان کی قسم گواہی پر سبقت لے جائے گی“۔

متذکرہ بالا حدیث سے معلو م ہوا کہ نبی کریمﷺ نے اپنے عہد مبارک میں زندگی بسر کرنے والے اپنے صحابہ کی ا فضلیت و برتری کی بذات خود شہادت دی ہے جو ان کے جاہ وجلال اورعزت واقتدارکے لیےکافی ہے۔

سبِّ صحابہ کی حرمت:

صحابہ کرام کو برا بھلا کہنا ، ان کی تذلیل وتنقیص کرنا حرام ہے ۔اس کی حرمت پر بہت ساری نصوص احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہیں جن میں سےبعض کا تذکرہ مندرجہ ذیل ہیں:۔

۱۔نبی کریم ﷺ کا فرما ن ہے : ”مَنْ سَبَّ أَصْحَابِیْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ“.(رواہ الطبرانی :۱۴۲/۱۲،ح:۱۲۷۴۰۔علامہ البانی نے ”سلسلہ الأحادیث الصحیحہ“ میں اس کو حسن قرار دیا ہے) ترجمہ: ”جس نے میرے صحابہ کو سب وشتم کا نشانہ بنایا،تواس پر اللہ اورفرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو“۔

۲۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:”لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ محمد ﷺ فَإِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ أَمَرَنَا بِالْاِسْتِغْفَارِ لَهُمْ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ سَيُقْتَلُوْنَ“.(الشرح والإبانہ علی أصول السنۃ والدیانہ،تصنیف: ابن بطہ رحمہ اللہ،ص:۱۱۹) ترجمہ: ” اصحاب رسول اللہ ﷺکو گالی مت دو اس لیے کہ اللہ عزوجل نے ہمیں ان کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے بخوبی علم ہے کہ وہ عنقریب قتل کردیئے جائیں گے“۔

۳۔ ہشام بن عروہ اپنے والد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :”يَا ابْنَ أُخْتِيْ أُمِرُوْا أَنْ یَسْتَغْفِرُوْا لِأَصْحِابِ النَّبِیِّ ﷺ فَسَبَّوْهُم“.(رواہ مسلم،ح:۳۰۲۲) ترجمہ :” اے میری بہن کے بیٹے!لوگوں کو حکم دیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ کے دوستوں کے لیےاستغفار کریں تو انہوں نے انہیں گالی دینا شروع کردیا“۔

مشاجرات صحابہ میں سلف کا موقف:

علماء سلف صالحین کا عقیدہ ہے کہ مشاجرات صحابہ اور ان کے مابین ہوئے اختلافات کو موضوع بحث نہ بنایا جائے،ان پر خاموشی اختیار کی جائے ۔تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ عقدی طور سے اہل السنہ والجماعہ کے مسلک اورجادہ حق کو اختیار کریں،یہی عقیدہ وایمان کے لیے بہتر عمل ہے۔ذیل کے سطور میں علماء سلف کے چند اقوال بیان کیے جارہے ہیں ۔

عمربن عبدالعزیز کا قول:

عمربن عبد العزیز رحمہ اللہ سے صحابہ کرام کے درمیان وقوع پذیر ہوئے قتل وقتال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا:”تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ الله يَدِي مِنْهَا؛ أفَلا أُطَهِّرُ مِنْهَا لِسَانِي؟ مَثَلُ أصْحَابِ رَسُولِ اللهِ – صلى الله عليه وسلم – مَثَلُ العُيُوْنِ، ودَوَاءُ العُيُوْنِ تَرْكُ مَسِّهَا“.(تسدید الإصابۃ فیما شجر بین الصحابۃ،تالیف: أبو صفوان غامدی ازدی، ص:۱۶۳)یعنی:”اللہ تعالی نے ان کے خون سے میرے ہاتھ کو پاک رکھا ہے ،تو کیا میں ان کے بارے میں اپنی زبان کو پاک نہیں رکھ سکتا ؟ اصحاب رسول ﷺ کی مثال آشوب چشم کی ہے جس کی دواء اسے نہ چھونا ہے“۔

اما م شافعی کا فرمان :

امام شافعی ر حمہ اللہ رقمطراز ہیں:”تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ اللهُ أَيْدِيَنَا مِنْهَا فَلِمَ نُلَوِّثُ أَلْسِنَتَنَا“.(شرح الفقہ الأکبر،ص:۷۱)یعنی:” اللہ تعالی نے ان کے خون سے ہمارے ہاتھوں کو پاک کیا ہے تو ہم اپنی زبانوں کو ” ان کی شان میں گستاخی کرکے” کیوں گندہ کریں“۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول:

جب امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ سے حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں سوال کیاگیا تو انہوں نے فرمایا”مَا أَقُولُ فِيهَا إِلَّا الْحُسْنَى رَحِمَهُمُ اللهُ أَجْمَعِيْنَ“.(مناقب الإمام أحمد ،تالیف: ابن الجوزی،ص:۱۴۶)یعنی:” میں ان کے بارے میں اچھی بات ہی کہتا ہوں ،اللہ سب پر رحم کرے “۔

امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا قول:

وہ فرماتے ہیں: ”اَلسَّيْفُ الَّذِيْ وَقَعَ بَيْنَ الصَّحَابَةِ فِتْنَةٌ وَلَا أَقُولُ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ مَفْتُونٌ“.(سیر أعلام النبلاء ۸،تالیف: الذہبی/۴۰۸)یعنی:”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین چلنے والی تلوار فتنہ تھی ، میں ان میں کسی کو یہ نہیں کہوں گا وہ فتنہ زدہ ہیں“۔نیز فرماتے ہیں :” مَنِ اسْتَخَفَّ بالعُلَمَاءِ ذَهَبَتْ آخِرَتُهُ “.(حوالہ سابق) یعنی:”جس نے علما کی اہانت کی اس کی آخرت خطرے میں ہے“۔یہ ظاہر ہے کہ احادیث نبویہ کو وہ لوگ اچھی طرح سے سمجھتے اور ان سے کما حقہ استنباط کرتے تھے ۔

امام طحاوی رحمہ اللہ کا قول:

امام طحاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد تابعین عظام رحمہم اللہ کو خیر کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے اور جس نے ان کا ذکر شر کے ساتھ کیا وہ جادہ حق سے منحرف ہے“۔مزید براں فرماتے ہیں: ”ہم لوگ اصحاب رسول ﷺ سے بے لوث محبت کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کی محبت میں مبالغہ آمیزی نہیں کرتےاورنہ ان میں سے کسی سے برات کا اظہار کرتے ہیں ۔ دشمنان صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والےسے دشمنی رکھتے ہیں۔ہم اصحاب رسول ﷺ کو خیر کے ساتھ ہی یاد کرتے ہیں،ان کی محبت ہمارادین ،ہماراایمان اور احسان ہےاوران سے دشمنی کفر ونفاق اور سرکشی ہے“۔(شرح العقید ۃ الطحاویہ،للبراک،ص:۳۵۶)

مذکور بالا علماء سلف کے اقوال کی روشنی یہ بات طشت ازبام ہوگئی کہ صحابہ کے درمیان رونما ہوئے قتل وقتال ،آپسی چشمک وکشاکش،باہمی اختلافات وتنازعات پر سکوت اختیار کرنا واجب ہے۔

آخر میں دعا ہےکہ اللہ ہمارے قلوب واذہان میں مزید صحابہ کرام کی محبت وعظمت جاگزیں کردے نیز افراط وتفریط سے کوسوں دور رکھے۔آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*