مسند ان کے ہاتھ لگی تو

تازہ ترین، سلسلہ 98
فضیل احمد ناصری
آہوں کا اک دور ہے جاری، عالم ہے ناشادی کا
یارو! جاؤ! جشن مناؤ آج مری بربادی کا
قیدِ مسلسل،فرقہ پرستی،دینِ متیں پرپابندی
تحفے ہیں یہ آزادی کے، نام نہ لو آزادی کا
اب تو دن کے نور پہ ہرسو،شب کی پہرےداری ہے
قاتل طبقہ مالک ٹھہرا، انسانی آبادی کا
ان کا وظیفہ دل آزاری، اپنا وظیفہ آہ و فغاں
اہلِ ستم کے گاؤں میں گویا، آیا موسم شادی کا
مسند ان کے ہاتھ لگی تو ہم پر ہی غراتے ہیں
ملنے لگا ہے شاگردوں سے ہم کو صلہ استادی کا
کون سنے گا پیار کے نغمے، ان جیسے ہنگاموں میں
منظر پیش کرے ہے گلشن، آتش و خون کی وادی کا
تم سب مل کر ملک کولوٹو، پھر بھی سچےشہری ہو
ملک پہ قرباں ہونے والا ممبر ہے بغدادی کا
جمہوری اقدار کو مل کر آج بچالو ہم وطنو!
ورنہ جنازہ اٹھّے گا، آزادی کی شہزادی کا
کام میں لاؤ، ملت والو! فاروقی کرداروں کو
خواب سے اٹھّو! وقت آیا ہے، پھر عزمِ فولادی کا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*