مسلم میں آج خونِ پیمبرؑ نہیں رہا

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 91
فضیل احمد ناصری
پیرِ مغاں کی چشمِ کرم دیکھتے رہے
رقصندہ ہر ازالۂ غم دیکھتے رہے
جب تک رہے امیرِ سفر سے تعلقات
منزل کو ہم بھی زیرِ قدم دیکھتے رہے
شاید یہاں پہ ان کا کوئی آشیاں بنے
یوں اہلِ شوق ، گِردِ حرم دیکھتے رہے
بھیجا کیے ہیں پھربھی انہیں تحفۂ دعا
گو ظالموں کے تازہ ستم دیکھتے رہے
کٹتی رہیں ہمارے عزیزوں کی گردنیں
یہ بے بسی تو دیکھ کہ ہم دیکھتے رہے
صیاد آ کے سارا چمن لوٹتا رہا
ہم تھے کہ بن کے نقشِ الم دیکھتے رہے
تاریخِ درد روز ہی ہوتی رہی رقم
ہر دن جفائے اہلِ صنم دیکھتے رہے
بدقسمتی تو دیکھیے ہم کچھ نہ کرسکے
خاموش لب ، شکستہ قلم دیکھتے رہے
مسلم میں آج خونِ پیمبرؑ نہیں رہا
عربوں پہ بم گرے تو عجم دیکھتے رہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*