مسلم تعلیمی اداروں کے تئیں یوگی حکومت کا رویہ تشویشناک

مدارسِ اسلامیہ حکمت و دانشمندی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں انجام دیں:مولانااسرارالحق قاسمی
نئی دہلی:
حالیہ دنوں میں اتر پردیش کی یوگی حکومت کے ذریعے مدارس اسلامیہ کو ہراساں کیے جانے کے متعدد معاملات سامنے آچکے ہیں ،اس صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کہاکہ بی جے پی دراصل آنے والے الیکشن کی تیاری میں مصروف ہوچکی ہے اوراسی وجہ سے وہ مختلف بہانوں سے مسلمانوں اور مسلم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنارہی ہے۔انھوں نے کہاکہ یوپی میں منظم طورپر مدارس اسلامیہ کو پریشان کیاجارہاہے اور کبھی کاغذات کے بہانے،کبھی نصاب تعلیم کے بہانے توکبھی لباس وغیرہ کے حوالے سے مدارس کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔مولاناقاسمی نے کہاکہ اگر یوگی حکومت واقعی مدارس کے تئیں فکر مندہے توان مدرسوں کے اساتذہ کی تنخواہوں پر کیوں نہیں توجہ دیتی؟اسی طرح اور بھی معاملات ہیں جنہیں واقعی درست کرنے کی ضرورت ہے،مگر حکومت کا مقصد کسی قسم کی اصلاح ہے ہی نہیں،وہ تو بس مدارس اور ذمہ داران مدارس کو پریشان کرنا چاہتی ہے۔واضح رہے کہ کچھ ہی دن پہلے مدارس میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کولازمی قراردینے کی وجہ سے بھی یوگی حکومت سرخیوں میں آئی تھی ،جبکہ ابھی چند دن قبل صوبائی وزیر محسن رضانے مدارس کے طلباکا لباس بدل کر کرتا پاجامہ کے بجائے پینٹ شرٹ کرنے کی بات کہی تھی،حالاں کہ جب اس وزیر کی چوطرفہ مذمت ہوئی توایک دوسرے وزیر نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیاہے۔مگر یہ بہر حال حقیقت ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی ذہنیت یوپی حکومت کے سبھی محکموں میں سرایت کرچکی ہے اور وہ مسلمانوں کو پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں دینا چاہتے۔ مولانااسرارالحق نے ایسے موقعے پر یوپی اور ہندوستان بھر کے مدارس کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ کاغذی طورپر اپنے مدارس کوپوری طرح صاف شفاف رکھیں،حسابات وغیرہ میں کسی قسم کا نقص نہ رہے اور اپنے یہاں زیر تعلیم طلباکی تربیت و نگرانی پر خصوصی توجہ دیں۔انہوں نے کہاکہ جب آپ قانون پر عمل کرتے ہوئے تمام ضروری امور کی پابندی کریں گے تو یہ لوگ چاہتے ہوئے بھی آپ کوپریشان نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہاکہ چوں کہ ایک سال کے اندر اندر جنرل الیکشن ہونے والاہے ،اس لیے بی جے پی اور شدت پسند عناصر طرح طرح سے مسلمانوں کواشتعال دلانا اور ان پر زیادتی کرنا چاہیں گے، ایسے میں تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ نہایت حکمت اور دانشمندی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں اور کوئی ایساقدم ہرگزنہ اٹھائیں جس سے فرقہ پرست قوتوں کوفائدہ ہو۔