مسلمانو ! ابابیلوں کا لشکر پھر نہ آئے گا

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 70
فضیل احمد ناصری
اگر ہم ہی حریفِ پنجۂ باطل نہیں ہوں گے
قیامت تک کبھی ہم اہلِ مستقبل نہیں ہوں گے
مسلمانو ! ابابیلوں کا لشکر پھر نہ آئے گا
محمدؑ اب قیادت کے لیے نازل نہیں ہوں گے
فقط لعنت، ملامت، بد دعا سے کچھ نہیں ہوگا
حنین و بدر میں تا آنکہ ہم شامل نہیں ہوں گے
نہ ہو کوشش نکلنے کی تو موجیں مار ڈالیں گی
محض تسبیح سے شرمندۂ ساحل نہیں ہوں گے
شعائر اہلِ مغرب کے اگر اب بھی نہیں چھوٹے
بجا کہتا ہوں دیں والے کسی قابل نہیں ہوں گے
عزیزو ! بت کدے اک دن ہمیں آزر بنا دیں گے
اگر ہم وارثِ حق مومنِ کامل نہیں ہوں گے
عروج آمادہ ہوگی پھر ستم گر کی لہو نوشی
ستم کش گر سوارِ گردنِ قاتل نہیں ہوں گے
وہ جن کو آبلہ پائی کے اندیشوں نے دھو ڈالا
وہ کم ہمت کبھی آسودۂ منزل نہیں ہوں گے
بلندی ، رفعت و کوکب نشینی ، دائمی فرحت
یہ ساماں ہیں ہمارے، کفر کو حاصل نہیں ہونگے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*