مسجدِ بابری جاتی ہے تو۔۔۔

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 3

فضیل احمد ناصری

بت کدے کو نہ بڑھاؤ، اسے کعبہ نہ کرو
اپنے ایماں کا خدا کے لیے سودا نہ کرو

واں نہ جاؤ،ترےپاؤں میں چبھیں گےکانٹے
کچھ بھی ہوجائے،مگر باغ سےنکلا نہ کرو

معرفت سارےدرختوں کی ہےانکے پھل سے
اپنے مذہب کو خدا کے لیے رسوا نہ کرو

بزدلی دیں کی نگاہوں میں ہےدوشیزۂ کفر
جاؤ میدان میں، تقدیر کا شکوہ نہ کرو

مسجدِ بابری جاتی ہے تو جانے دو، مگر
کفر کے ہاتھ کسی حال میں سودا نہ کرو

اپنا حق لے کے رہو، جنگ سے پیچھے نہ ہٹو
ہار ہو جائے تو پھر کوئی بھی پروا نہ کرو

اپنے معبود کی رحمت پہ بھروسا رکھو
اہلِ زنّار کی تعداد کو دیکھا نہ کرو

ہو مسلماں، تو دکھائی دو مسلماں ہر دم
اپنی تہذیب کو قربانِ کلیسا نہ کرو

بت شکن بن کے رہو، شیوۂ آزر چھوڑو
ہم دمو! پیروئ قیصر و کسریٰ نہ کرو

  • گمنام و کم نام
    11 فروری, 2018 at 00:24

    ملت و دین کو ماضی میں میر جعفر و میر صادق جیسے ننگ دین و ملت نے بیچا تھا اور آج بھی مختلف حیلے اور بہانے سے ان کی اولاد ملت کے ساتھ غداری اور ضمیر فروشی سے باز نہیں آتے ہیں ۔ یہ ہونا ہے کیونکہ مخلص و منافق میں تمیز ہوسکے ۔ سلمان ندوی جو آج کل ملت اسلامیہ کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہیں در اصل وہ خود کو ملت و دین کی آڑ میں بچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*