مرکز جماعت اسلامی ہند میں ’’اسلامی معاشرے کے قیام میں علماء کرام کا کردار‘‘ کے موضوع پر علماء کرام کا اجلاس

علماء کرام کی ذمہ داری بیک وقت مسلمانوں اور برادران وطن کو مخاطب کرنے کی ہے :امیر جماعت اسلامی ہند

فتنوں کے سد باب کے لیے جدو جہد علماء کرام کا طرۂ امتیاز رہا ہے:امیر حلقہ عبدالوحید
نئی دہلی 7اکتوبر(پریس ریلیز) علماء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ ہر دور میں علماء حق نے بندگان خدا کو خالص بندگئ رب کی دعوت اور امت مسلمہ کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ کی انجام دہی کی جانب توجہ دلاتے رہے ہیں۔ دینی امور میں عوام کی رہنمائی اور وقتاً فوقتاً اٹھنے والے فتنوں کے سد باب کے لیے جدو جہد علماء کرام کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق زندگی کے ہر گوشے میں عمل درآمد کے لئے مسلمانوں کو آمادہ کرنے کی انتھک کوششیں آپ کی جانب سے جاری ہیں۔ امت میں اتحاد و اتفاق ہمیشہ سے اہم مسئلہ رہا ہے اور علماء کرام نے بڑی حسن وخوبی سے ہمیشہ ان مسائل کا حل تلاش کیا ہے۔ان خیلات کا اظہار عبد الوحید ، امیر حلقہ دہلی و ہریانہ جماعت اسلامی ہند اجلاس علماء کرام کے افتتاحی خطاب میں کیا۔واضح رہے کہ آج جماعت اسلامی ہند کے حلقہ دہلی و ہریانہ نے علماء کرام و ایمہ مساجد کا ایک اجلاس مرکز جماعت اسلامی ہند ، ابوالفضل انکلیو، اوکھلا، نئی دہلی میں منعقد کیا جس کا مرکزی موضوع ’’اسلامی معاشرے کے قیام میں علماء کرام کا اہم کردار‘‘تھا۔اس اجلاس میں جماعت اسلامی ہند کے علماء کرام کے علاوہ دہلی کے مختلف مکتب فکر کے علماء کرام و مفتی کرام نے اظہار خیال کیا۔
کلیدی خطاب میں مولانا محمد رفیق قاسمی، سکریٹری جماعت اسلامی ہند نے اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ضروری قرار دیا آپ نے کہا کہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ جو مسلمان غلط طریقہ سے طلاق دیتے ہیں ان کو روکا جائے شادیوں کو آسان بنایا جائے اورسماج میں مسلسل اصلاحی تحریک چلائی جائے۔
اس اجلاس کے دیگر مقررین میں مولانا قاری اعجاز انصر قادری نظامی صاحب،مولانا محمد علی محسن تقوی ،امام و خطیب شیعہ جامع مسجد کشمیری گیٹ،مولانا نثار احمد صاحب سنابلی مدنی،مولانا مفتی خان محمد قاسمی، صدر متحدہ اصلاح المسلمین و مہتمم جامعۃ الاصلاح نورالاسلام و سابق شیخ الحدیث ،مفتی نظام الدین صاحب صدر جمعیت علماء ہند جنوبی دہلی تھے ان تمام مقررین نے اسلامی معاشرے کے قیام میں اتحاد امت کی راہیں،فریضہء دعوت دین کی ادائیگی،اصلاح معاشرہ میں مساجد کی اہمیت،علماء کرام کی صلاحیتوں کا ارتقاء وقت کی اہم ضرورت و موجودہ دورکے فتنے اور اسکا سد باب جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی ۔
مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی، سکریٹری جماعت اسلامی ہندنے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ اسلام میں علماء کرام کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کی قدرو منزلت کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ہے اور کتب احادیث میں بھی اور یہ مقام و مرتبہ صرف انھیں علم کے اعزاز میں نوازا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے بہتر انسانوں میں ان کا شمار کیا ہے اور انھیں انبیاء کرام کا وارث قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اعزاز اور منصب جتنا بڑا ہوتا ہے، ذمہ داری بھی اسی کے مطابق ہو تی ہے۔ علماء کرام کو اس عظیم اعزاز کے ساتھ یہ عظیم ذمہ داری بھی سونپی ہے کہ وہ (اب جب کہ سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے) ابنیاء کی ذمہ داری کو سنبھالیں۔ یعنی اسلام کا پیغام بندگان خدا تک پہنچائیں، امت کی تربیت کا فریضہ انجام دیں، خود بھی دین پرقائم رہیں اور جو لوگ دین کی راہ سے بھٹک گئے ہوں گے ان کو بھی دین سکھائیں اور اس کے تقاضوں کو یاد دلائیں۔ ان کا کا کام صرف اتنا نہیں ہے کہ وہ مسجدوں میں امامت کرلیں اور مدارس میں تدریس و تعلم کے فرائض انجام دے دیں۔ بلکہ ان کے کاندھوں پر اس سے کہیں عظیم ذمہ ہے، جس پر خصوصی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے آخر میں اختتامی خطاب مولانا سید جلال الدین عمری ،امیر جماعت اسلامی ہندنے فرمایا ۔آپ نے اپنے خطاب میں موجود علماء کرام کو بالخصوص فریضہء دعوت دین کی ادائیگی کی جانب متوجہ کیا۔آپ نے فرمایا کہ علماء کرام کی ذمہ داری اس ملک میں بیک وقت مسلمانوں اور برادران وطن کو مخاطب کرنے کی ہے ہماراملک جس قد ر سماجی بحران کا شکار ہے اسے صرف علماء کرام ہی سنبھال سکتے ہیں اور اس مصیبت سے نکال سکتے ہیں اور وہ خدا کے سامنے جواب دہ بھی ہیں کیونکہ وہی انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔
اس اجلاس میں تقریباً پانچ سو علماء کرام بشمول خواتین عالمات و فاضلات نے شرکت کی ۔خاص طور پر مفتی خلیل احمد قاسمی، مفتی محمد تعظیم قاسمی، مفتی سہیل احمد قاسمی امام و خطیب ، مفتی شکیل احمد، مفتی سراج قاسمی، مفتی مطیع الرحمن قاسمی شامل ہیں۔نظامت کے فرائض مفتی سہیل احمد قاسمی، سکریٹری ، اسلامی معاشرہ و صدر، مجلس علماء، جماعت اسلامی حلقہ دہلی و ہریانہ نے انجام دیئے۔اس موقع پر سکریٹری شعبہ اسلامی معاشرہ مولانا محمد رفیق قاسمی،دہلی و ہریانہ پردیش شعبہ اسلامی معاشرہ سکریٹری مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی ،سکریٹری شعبہ تعلیم مولانا نعیم فلاحی ،مولانا انعام اللہ فلاحی ،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز مولانا محمد اسماعیل فلاحی ،ہریانہ کے ذمہ دار مولانا علی فلاحی موجود تھے۔