مذہب کے نام پر قتل اور تشدد ناقابل برداشت :سپریم کورٹ


محسن شیخ قتل کیس میں تینوں ملزموں کی ضمانت خارج
نئی دہلی : سپریم کورٹ نے مذہب کے نام پر تشدد اور جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مذہب کے نام پر کسی کا قتل نہیں کیا جاسکتا ۔ مذہب کے نام پر کسی پر حملہ کو جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ ساتھ ہی ساتھ کوئی بھی عدالت کسی مذہب کے تئیں جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کرسکتی ۔ یہ سبھی باتیں سپریم کورٹ نے پونے قتل کیس میں تین ملزموں کی ضمانت کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہی ہیں۔
عدالت عظمی نے کہا کہ تینوں ملزمان ہندو راشٹر سینا کے رکن تھے ، انہوں نے 2014 میں ایک مسلمان کا قتل کردیا ، جس نے ہری ٹی شرٹ پہنی تھی اور داڑھی رکھی ہوئی تھی ۔ خیال رہے کہ ممبئی ہائی کورٹ نے تینوں ملزموں کو گزشتہ سال ضمانت دیدی تھی ۔ ہائی کورٹ کی دلیل تھی کہ مذہب کے نام پر قتل کرنے کیلئے انہیں اکسایا گیا تھا ، لیکن سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو قابل تنقید قرار دیا ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو جاری نہیں رکھا جاسکتا۔
گزشتہ سال جب مقتول شیخ محسن کے ایک رشتہ دار نے ضمانت عرضی کو چیلنج کیا تھا ، تو عدالت عظمی نے کہا تھا کہ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہائی کورٹ نے مذہب کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت پر کیوں تینوں کو رہا کردیا۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو خارج کرتے ہوئے تینوں ملزمان رنجیت شنکر یادو ، اجے دلیپ لالگے اور وجے راجیندرن گانگھری کو فی الحال خود سپردگی کرنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تینوں ایک مرتبہ پھر سے نئے سرے سے ضمانت کی عرضی داخل کریں۔ عدالت عظمی نے تینوں ملزموں کو 16 فروری کو پھر حاضر ہونے کی بھی ہدایت دی