Home نظم محبت کا غلو

محبت کا غلو

by قندیل

تازہ ترین، سلسلہ 85

فضیل احمد ناصری
چل رہی ہے مے،لنڈھائے جا رہے جام و سبو
سرخئ آفاق برساتی ہے انسانی لہو

مار دیتی ہے غلامی شوکتِ پرواز کو
گھُٹ کے رہتا ہے فضائے تنگ میں ذوقِ نمو

عشق میں آتاہےعقلِ تام سے ہی اعتبار
زہرِ بے تریاق ہے تنہا محبت کا غلو

آہ اب ہیں کفر کی چشمِ کرم کی منتظر
کل تلک تھیں مردِ مومن کی نگاہیں چار سو

ملتِ بیضا برائے نام باقی رہ گئی
ہو گیا تبدیل کچھ ایسا مذاقِ رنگ و بو

رفتہ رفتہ بند ہون کو ہے تمہیدِ نماز
کل کو ممنوعات میں آ جائے گا اپنا وضو

اے مسلماں! وہ ترا اندازِ یوسف کیا ہوا
کس جہاں میں ہے ترا وہ جذبۂ اللہ ہو

دل ترا قرآن کے پاروں میں لگتا کیوں نہیں?
کیوں حسینوں کے لیے تو ہے سراپا جستجو

اٹھ کہ رنگِ زعفرانی نے کیا محشر بپا
دائرہ اپنا بڑھانے میں لگے تیرے عدو

You may also like

Leave a Comment