مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے غیروں سے نہیں ہے

افضال اختر قاسمی
تعلیمی و مشاورتی بات چیت کے دوران جناب قاری اسجد صاحب (صدر جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ دہلی) نہایت درد مندانہ اور متفکرانہ انداز میں گویا ہوے اور کہنے لگے کہ:
"بہار مدرسہ بورڈ کے وسطانیہ کا امتحان ۷/تا ۱۱/جولائی اور فوقانیہ اور مولوی کا امتحان ۲۳/تا ۲۸/جولائی(یہ رد ہو چکا) جبکہ عالم کا امتحان ۲۸/جولائی سے ۶/اگست/ ۲۰۱۸ع تک رکھا گیا ہے،جو شوال کے اواخر اور ذیقعده کے اوائل کے ایام ہیں جن میں مدارس اسلامیہ درس نظامی کی تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے؛لیکن مدرسہ بورڈ کے امتحانات کی وجہ سے طلبہ آ نہیں رہے ہیں اور جو آ بھی رہے ہیں وہ داخلہ لے کر جا رہے ہیں؛نظام تعلیم بنانے میں بڑی دشواری در پیش ہے،مدرسہ بورڈ کے ذمہ داران کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا جو درس نظامی کی تعلیم کو متاثرکرنے کا سبب بنتا ہو؛لیکن افسوس…..”
اور پھر قاری صاحب موصوف ٹھنڈی آہ بھرتے ہوے خاموش ہو گئے۔
جب جامعہ کے ناظم تعلیمات جناب مولانا وسیم اکرم صاحب قاسمی کے توسط سے ناچیز کو مذکور الصدر باتوں کا علم ہوا تودرد و غم کے تلاطم خیز طوفانوں میں دل غوطہ زن ہونے لگا،مدارس کے زوال پذیر حالات کے پیش نظر تاریک مستقبل کا خیال کر کے فطرتاً لرزہ بر اندام ہو گیااور سوچنے لگا کہ ہمارے یہ مذہبی ادارے اور دینی قلعے مختلف مسائل و مشکلات کے طوفانوں کے زد پہ ہیں،پیشہ ور ناجائز چندہ کرنے والے مدارس کی بدنامی کا باعث بنے ہوے ہیں،جدت پسند ماڈرن خیال کے مسلمانوں کی طرف سےترقی کے نام پر مدارس اور اہل مدارس کے خلاف زہر افشانی کی جا رہی ہے،دینی اداروں کو قدامت پسندی اور پسماندگی کی آماجگاہ قرار دیا جا رہا ہے اور اہل ایمان کی غربت و افلاس کا غلط طریقے سے حوالہ دے کر زکوة اور صدقات و خیرات کی رقمیں مدارس سے روکنے کی بھر پور کوششیں کی جارہی ہیں؛جبکہ یہی رقوم اور مالی تعاون مدارس اسلامیہ کی اساسی ضرورتوں میں سے ہے؛ان تمام مشکلات کے ساتھ مدرسہ بورڈ کا نظام امتحان مستزاد ہے،الغرض غیروں کی عیاریاں اور اپنوں کی کوتاہیاں مدارس کے مستقبل کے لئے پیغام خزاں ہیں؛گویا مدارس زبان حال سے کہ رہے ہیں:
دشمنوں نے تو دشمنی کی ہے
پر دوستوں نے بھی کیا کمی ہے
اور یہ کہ:
ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
درد بھی حیراں ہیں اٹھے تو کہاں سے اُٹھے
یا جناب کلیم عاجز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زبان میں یوں گویا ہیں:
دوستوں کا کرم معاذ الله
شکوہ جور دشمناں نہ رہا
عیدالفطر سے قبل ضلع میرٹھ، تحصیل موانہ،موضع جئی کے مدرسہ اسلامیہ عربیہ فیض الاسلام میں راقم الحروف تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا؛جب سالانہ امتحان کا وقت قریب ہوا اور اس کی تیاری شروع ہوئی تو علاوہ چند طلبہ کے سارے طلبہ بلکہ کئی اساتذہ بھی امتحان اور تعلیم چھوڑ کر مدرسہ بورڈ کے امتحانات​ میں پوری طرح مشغول ہو گئے ؛کیوں کہ یو پی مدرسہ بورڈ منشی،مولوی،عالم اور کامل وغیرہ کے امتحانات ۱۶/اپریل سے ۲۸/اپریل/ ۲۰۱۸ع مطابق:۲۸/رجب سے ۱۱/شعبان/۱۴۳۹ھ تک رکھے گئے تھے،جو درس نظامی کے ٹھیک سالانہ امتحان اور اس کی تیاری کا زمانہ ہے۔
تعلیم سے جڑے افراد بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بھی تعلیم گاہ کے لئے آخری امتحان (جسے مدارس میں سالانہ امتحان کہاجاتا ہے)کس قدر اہمیت کا حامل ہے،اسی سے پورے سال کی محنت کار آمد بنتی ہے،تعلیم پر نکھار پیدا ہوتا ہے اور طلباء عظام آگے کلاس میں ترقی کے قابل بنتے ہیں۔
اور جب عیدالفطر کے بعد بتقدیر الہی جامعہ شمس العلوم شاہدرہ دہلی میں ناچیز کی تقرری ہوئی اور میں یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ طلباء عظام کی بڑی تعداد مدرسہ بورڈ کا امتحان دینےکے لئے اپنے وطن جا رہی ہے؛کیوں کہ بہار مدرسہ بورڈ کے مختلف درجوں کے امتحانات شوال کے اواخر اور ذیقعده کے اوائل میں ہیں؛ناچیز کوبڑا افسوس ہوا کیوں کہ انہیں ایام میں درس نظامی کی تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے اور سال کی ابتدائی تعلیم کی بنیادی حیثیت ہے،جب بنیاد ہی کمزور ہو جائے گی تو اچھی اور مضبوط استعداد کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟نتیجہ یہ ہوگا کہ علماء کرام اور دینی محافظوں کی کمزور کھیپ تیار ہوگی۔شیخ سعدی کہتے ہیں:
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
الغرض مدرسہ بورڈ کا نظام امتحان درس نظامی کی تعلیم کو صریح نقصان پہنچانے کا کام انجام دے رہا ہے؛جبکہ وہاں کے ذمہ داران درس نظامی کی تعلیمی نظام سے بخوبی واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں مدرسہ بورڈ کا امتحان اور سرکاری سرٹیفکٹ کئی اعتبار سے ناگزیر ہے؛اس لئے خصوصاً درس نظامی کے طلباء عظام مدرسہ بورڈ کا امتحان دینے پر مجبور ہیں۔
چند دن قبل معلوم ہوا ہے کہ۲۳/جولائی/ ۲۰۱۸ع سے ہونے والے امتحانات رد کر دیئے گئےہیں،یہ بھی قوم و ملت کا بڑا خسارہ ہے کہ:
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
چونکہ مدارس اسلامیہ کو در پیش مذکور الصدر مشکلات خود اپنوں کی طرف سے ہیں؛اس لئے جناب قاری اسجد صاحب کی باتوں کو جان کر بے ساختہ ناچیز کی زبان پر یہ جملہ آیا:
"ہمیں تو گلہ ہے اپنوں سے غیروں سے نہیں”
ظاہر ہے ان حضرات کا ارادہ مدارس کو نقصان پہنچانے کا ہر گز نہیں ہو سکتااور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ لوگ خیر خواہان ملت اور مصلحین قوم ہیں یا ان کی کوئی مجبوریاں ہیں؛بلکہ اسے انجام سے بے خبری،لاپرواہی اور مفاد پرستی کہا جا سکتا ہے،گویا یہ لوگ نادان دوست ہیں۔
خیال رہے کہ مدارس کے حوالے سے کوتاہی کرنے والے حضرات سے راقم الحروف کو محبانہ گلہ ہے،ہماری یہ تحریر قطعاً کسی کی مذمت میں نہیں ہے،مذمت اور شکایت میں بڑا فرق ہے،مذمت لاتعلقی کے ساتھ کی جاتی ہے اور شکایت الفت و محبت اور تعلق کی دلیل ہوتی ہے؛کسی نے بجا کہا ہے:
بے شکایت نہیں محبت کے مزے
بے محبت نہیں شکایت کے مزے
چنانچہ ان حضرات سے ناچیز کو گلہ اس لئے ہے کہ یہ اپنے ہیں،محبان مدارس ہیں،ان سے اصلاح کی امیدیں ہیں؛لہذا ناچیز مخلصانہ اور درد مندانہ التجا کرتا ہے کہ مدرسہ بورڈ کو درس نظامی کے مدارس کے لئے متوازی اور مقابل کے طور پر نہیں بلکہ معاون و مددگار کے طور پر پیش کیا جائے۔
آخر میں یاد دہانی کے طور پر نہایت ضروری بات عرض کرتا چلوں کہ اس وقت اغیار کی طرف سے مدارس اسلامیہ پر بڑی شدت سے جو طرفہ حملے کئے جا رہے ہیں اور یہ حملے جس قدر ظالمانہ ہیں اسی قدر عیارانہ بھی ہیں یعنی سبز باغات دکھا کر تاریک کوٹھریوں میں دھکیلنے کے مترادف ہیں؛اس لئے اگر مذہبی شعائر،اسلامی قوانین و احکام اور دینی علوم و فنون کے ساتھ ہم ہندوستان میں اپنی بقاء چاہتے ہیں تو خدارا مدارس اسلامیہ کی مکمل حفاظت کے لئے متحد و متفق ہوکر مشترکہ کوششوں کے لئے تیار ہو جائیں اور پہلی فرصت میں بلا تاخیر اپنی تمام خرابیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کر لیں؛کیوں کہ:”بڑی تیز آندھیاں ہیں کہیں یہ چراغ بجھ نہ جائے”۔
اور اگر ہم لاپرواہی اور کوتاہی سے کام لیتے رہےتو…..”اپنے ہاتھوں نہ کہیں خون بہاراں ہو جائے”۔
الله تعالیٰ اندلس کی صورتحال سے وطن عزیز ہندوستان کی مکمل حفاظت فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین.
اللھم وفقنا الخیر وجنبنا الشر
استاذ: جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ دہلی