متوازن فکر کا نمائندہ شاعر: جمیل اختر شفیقؔ

کامران غنی صبا، پٹنہ
درد کی دھوپ میں اور تپنے بھی دو
ہم بھی کندن کی صورت نکھر جائیں گے
حفیظ جالندھری کے اس شعر میں اُن لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے،جو ’وقت کی تمازت‘ برداشت نہیں کر سکتے اور منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ انسان کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ ہر کامیاب انسان کی کامیابی کے پیچھے اس کی جدوجہد کی طویل داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔ ایک کامیاب فن کار بھی اچانک سے فن کے اُفق پر اپنی کامیابی کے پرچم نہیں لہراتا۔ فن کی بلندی پر پہنچنے کے لیے اُسے مدتوں ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ خونِ دل میں انگلیاں ڈبو دینے کے بعد اس کا فن مقبول ہوتا ہے۔ جمیل اختر شفیقؔ ایک ایسے ہی جواں سال فن کار کا نام ہے،جس نے کم عمری میں ہی زمانے کے تلخ و شیریں تجربات کی بھٹی میں جلنے کا مزا چکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری ’کندن‘ کی طرح نکھر کر اپنے سامع و قاری کی توجہ فوری طور پر اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
جمیل اختر شفیق کی شاعری کی کئی جہتیں ہیں۔ اگر ہم ان کی شاعری کا سرسری مطالعہ کریں، تو ہمیں ان کے یہاں تضاد کی کیفیت نظر آئے گی۔ ایک طرف شاعر عزم و استقلال کا پہاڑ بن کر حالات کے جبر و ستم کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، تو دوسری طرف محبوب کے فراق میں اُس کا وجود موم کی طرح پگھلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جمیل اختر شفیق کی شعری کائنات میں داخل ہونے کے بعد یہ اندازہ بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ اُن کا محبوب ’محبوبِ حقیقی‘ نہیں ہے۔ اِس کا ذکر آگے آئے گا،پہلے شاعر کی طبیعت کا تضاد ملاحظہ فرمائیں:
حوصلہ:
ہو دل میں عزمِ مصمم تو کیا نہیں ممکن
پہاڑ کاٹیے رستہ ضرور نکلے گا
احساسِ شکست:
شفیقؔ تم ہی بتائو یہ کیا حماقت ہے
کسی کی یاد میں خود کو مٹائے پھرتے ہو
کسی فن کار کے مزاج کا تضادکوئی غیر فطری بات نہیں ہے۔ انسان اپنی زندگی میں مختلف کیفیات سے گزرتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کسی خاص وقت میں اُسے بھلی معلوم ہو اور وہی چیز کسی دوسرے موقعے پر اُس کے لیے کرب و اذیت کا سبب بن جائے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اچھے اور برے کا معیار کئی دفعہ انسان کی طبیعت پر منحصر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں کلیم عاجز مرحوم کا یہ شعر بطور مثال پیش کرنا چاہتا ہوں:
نہ بت اچھا نہ رب اچھا لگے ہے
کہ جی اچھا تو سب اچھا لگے ہے
اس تناظر میں جمیل اختر شفیق کی شاعری بالکل فطری شاعری کہی جا سکتی ہے۔ اہلِ دنیا کے سامنے شاعر عزم و ہمت کا پہاڑ بن کر کھڑا ہے:
تو اپنی فکر کے میزان سے مجھ کو پرکھتا ہے
ارے احمق! پہاڑوں کو کبھی تولا نہیں کرتے
۔۔۔۔
اگر ہو سامنے دشمن تو تن جانا ضروری ہے
ہمیشہ جھک کے ملنے سے بہت نقصان ہوتا ہے
دوسری جانب اپنے اندرون میں وہ مسلسل جنگ کی کیفیت سے دوچار ہے:
غیر تو غیر ہیں اپنوں کو یہ احساس نہیں
میرے اندر کی گھٹن جان سے مارے گی مجھے
میں سمجھتا ہوں کہ شاعر کے اندرون کی یہ گھٹن ہی اُسے شعر کہنے پر ’اکساتی ‘ ہے اور جب وہ اپنی اِس گھٹن کو شعری پیکر عطا کرتا ہے، تو اُسے فوری طور پر سکون و اطمینان نصیب ہو جاتا ہے۔شاعر کی نفسیات کو پڑھنے کی کوشش کی جائے، تو اس کے ’شاعرانہ افکار و مزاج‘ کو زیادہ آسانی سے پرکھا جا سکتا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ شاعر کے کلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اُس کی نفسیات کو بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے:
اُسے ہے مجھ سے بڑی محبت کسی نے آکر خبر یہ دی ہے
وہ بند کمرے میں شام ہی سے مری غزل گنگنا رہی ہے
شفیقؔ اس سے بھی بڑھ کے کیا دے ثبوت اپنی وہ چاہتوں کا
یہ اُس کے جذبوں کی انتہا ہے کہ آنسوؤ ں میں نہا رہی ہے
۔۔۔۔
مٹ گیا میں تو زمانے کو بہت دکھ ہوگا
اور اِک شوخ بہت رو کے پکارے گی مجھے
ان اشعار سے شاعر کی طبیعت اور اُس کے فکر کی مختلف جہتوں کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ان اشعار سے شاعر کی جذباتیت کا پتہ چلتا ہے۔ اردو شاعری میں محبوب کے لیے ’مؤنث‘ کا صیغہ آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ میں جمیل اختر شفیق کے حوصلے کی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنی شاعری میں مروجہ روایت سے انحراف کرتے ہوئے جا بجا محبوب کو اُس کی اصل صورت میں پیش کیا ہے۔ اس طرح سامع و قاری کسی مغالطے کا شکار نہیں ہوتا۔ اسی لیے میں نے مضمون کے شروع میں ہی یہ وضاحت کر دی تھی کہ شاعر کا محبوب’محبوبِ حقیقی‘ نہیں ہے بلکہ گوشت پوست کا انسان ہے جو شاعر کی طرح تڑپتا ہے، آنسو بہاتا ہے، اُس کی غزلوں کو گنگناتا ہے اور وفا کے نغمے سناتا ہے۔
ایک کامیاب فن کر انتہائی حساس ہوتا ہے۔ جمیل اختر شفیق کو جن لوگوں نے قریب سے دیکھا ہے وہ اُن کی حساسیت اور خود داری کی گواہی دے سکتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں جا بجا ان کے مزاج کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے بطور مثال چند اشعار پر اکتفا کر رہا ہوں:
ہمیں کچھ لوگ اپنے عہد کا باغی سمجھتے ہیں
سبب یہ ہے امیرِ شہر کو سجدہ نہیں کرتے
۔۔۔۔
دولت کی نمائش بھی تھوڑی سی ضروری ہے
ورنہ یہ جہاں والے نادار سمجھتے ہیں
بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی منظر نامے پر بھی شاعر کی گہری نگاہ ہے۔ طوالت میں جائے بغیر مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
شفیقؔ اس عہد کی گندی سیاست سے الگ رہنا
یہاں ہر موڑ پر ابلیس کے سردار بیٹھے ہیں
۔۔۔۔
سب لوگ کہہ رہے ہیں الیکشن قریب ہے
یہ دیکھنا ہے اب کہ وہ کیا گُل کھلائے گا
۔۔۔۔
ماسٹر مائنڈ تھا وہ قتل کی سازش کا مگر
اُس کے سر پر کوئی الزام نہیں آیا ہے
۔۔۔۔۔
جمیل اختر شفیق کی شاعری میں کہیں پیام ہے تو کہیں بھرپور تغزل۔ تشبیہات و استعارات کے استعمال پر بھی انہیں دسترس حاصل ہے۔’دھوپ کا مسافر‘ سے چند مختلف نوعیت کے اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ملے خیرات میں عہدہ تو فوراً دوڑ مت جانا
یہی اک بھول قائد سے قیادت چھین لیتی ہے
۔۔۔۔
یہ کبھی مت دیکھیے کہ کس نے کیا تنقید کی
خامشی سے صرف اپنا کام کرتے جائیے
۔۔۔۔
بغیر رب کی مشیت کے کچھ نہیں ہوتا
وہ میرے قتل کی سازش فضول کرتا ہے
۔۔۔۔۔
امیر شہر سے ملنا ذرا قرینے سے
وہ موقع دیکھ کے گردن تمام کر دیں گے
۔۔۔۔
آتی ہے تو جانے کا کیوں نام نہیں لیتی
کوئی تو تعلق ہے خوشبو کو ترے گھر سے
۔۔۔۔
اندھیری رات میں کھڑی کو مت کھلا رکھنا
نہیں تو وہ بھی تجھے چیخ کر جگائے گی
ــــــــ
تم نے کیوں گھر نیا بنایا ہے
کتنے مفلس کا دل جلا ہوگا
’دھوپ کا مسافر‘ کی اشاعت پر جمیل اختر شفیق کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اُن کی یہ تخلیقی کاوش شائقین علم و ادب کے درمیان مقبول ہوگی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*