مالیگاؤں بم دھماکہ:سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت سات ملزمین پر دہشت گردی و غداری کا الزام عائد

ممبئی:30/اکتوبر(پریس ریلیز)
بالآخر آج دس سال اور ایک مہینہ کے طویل انتظار کے بعد خصوصی این آئی اے عدالت نے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہیت سمیت سات ملزمین پر دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا الزام عائدکردیا اور استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ ۲؍ نومبر سے باقاعدہ مقدمہ کی سماعت شروع کیئے جانے کے لیئے لائحہ عمل تیار کرے۔آج صبح گیارہ بجے جیسے ہی عدالت کی کارروائی شروع ہوئی کرنل پروہت کے وکیل ششی کانت شیودے نے خصوصٰ عدالت سے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لیئے وقت طلب کیا اور عدالت سے گذارش کی کہ کم از کم ملزم کو چار دنوں کاوقت دیا جائے تاکہ وہ ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ جس میں اس نے نچلی عدالت کے فیصلہ پر اسٹے دینے سے انکار کیا ہے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرسکے۔ایڈوکیٹ ششی کانت شیودے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو سپریم کورٹ میں اپیل داخل کرنے کا موقع ملنا چاہئے کیونکہ ممبئی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اس کی اپیل سماعت کے لیئے منظور کرلی ہے نیز سپریم کورٹ نے بھی ابھی تک اس معاملے میں حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے کہ آیا ملزمین پر یو اے پی اے قانون کا اطلاق ہوگا یا نہیں۔ ملزم کی درخواست کی این آئی اے کے وکیل اویناس رسال اور متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل شریف شیخ نے مخالفت کی جس کے بعد خصوصی جج پڈالکر نے عرضداشت کو مسترد کرتے ہوئے ملزمین پرچار ج فریم کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے اور کہا کہ ان پر شدید دباؤ ہے کہ پرانے معاملات کو جلد از جلد ختم کیا جائے نیز اس معاملے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے متعدد فیصلوں میں بھی معاملے کی جلد از جلد سماعت شروع کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے گئے ہیں۔
آج عدالت میں ضمانت پر رہائی کے بعد پہلی بار سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر(۴۷) بھی حاضرہوئی تھی اور دیگر ۶؍ ملزمین میجر رمیش اپادھیائے(۶۷) اجئے ایکناتھ راہیکر (۴۸)، سمیر شرد کلرنی(۴۷)، کرنل پروہیت(۴۶)، سوامی امرتیا نند(۴۹) اور سدھاکر چترودیدی(۴۶) بھی ان کے وکلاء اور اہل خانہ کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔خصوصی جج پڈالکر نے ملزمین سے بلند آواز میں ان کا نام پتہ اور کاروبار دریافت کرنیکے بعد انہیں ہندی، مراٹھی اور انگریزی زبانوں بتایا کہ ان پر الزام عائد کیا گیا ہیکہ وہ ابھینو بھارت نامی تنظیم کے رکن ہیں اور انہوں نے جون ۲۰۰۸ سے لیکر اکتوبر ۲۰۰۸ کے درمیان مالیگاؤں میں دہشت گردانہ کاررائیاں انجام دینے کے لیئے سازش رچی تھی اور مالیگاؤں میں واقع شکیل گڈس کمپنی اور انجمن چوک نامی مقامات پر بم دھماکے انجام دیئے تھے جس میں ۶؍ لوگوں کی موت اور ۱۰۱؍ شہری زخمی ہوئے تھے نیزان پر یو اے پی اے، آئی پی سی، ایکسپلوزیو سبٹنس ایکٹ، آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا جاتا ہے ، خصوصی جج نے ملزمین سے دریافت کیا کہ آیا انہیں الزامات قبول ہیں یا نہیں جس پر ملزمین نے کہا کہ انہیں الزام قبول نہیں ہے اور مقدمہ لڑکے کے لیئے تیار ہیں۔ ملزمین کی جانب سے نفی میں جواب موصول ہونے کے بعد تمام ملزمین کی چارج فریم پیپر پر دستخط لی گئی اور پھر عدالتی کارروائی کا اختتام ہوا۔