ماب لنچنگ پرہنگامے کوگری راج نے اپوزیشن کی نوٹنکی قراردیا

نئی دہلی:25جولائی(قندیل نیوز)
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے سینئر لیڈر اور چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے راجستھان کے الور ضلع میں پیٹ پیٹ کر ایک شخص کے قتل کئے جانے کے واقعہ کو اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے بار بار اٹھائے جانے کو نوٹنکی قرار دیتے ہوئے بدھ کو کہا کہ اس واقعہ کو ووٹوں کی خاطر اتنا طول دیا جا رہا ہے۔مسٹر سنگھ نے پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ راجستھان کے ہی باڑمیر ضلع میں مسلم عورت سے محبت کے معاملات کی وجہ سے ایک دلت نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کے واقعہ پر کوئی اپوزیشن پارٹی کچھ نہیں بول رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الور کا واقعہ قابل مذمت ہے لیکن کیا دلت نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہئے۔انہوں نے کانگریس پرووٹوں کا سوداگر ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا ماب لنچنگ کا واقعہ تو 1984 میں سکھوں کے ساتھ پیش آیا تھا ۔ الور کے واقعہ کو ووٹوں کی خاطر اتنی ہوا دی جارہی ہے جبکہ اس معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بیان دے چکے ہیں اور پولیس قانون کے مطابق کام کر رہی ہے۔غورطلب ہے کہ راجستھان میں الور ضلع کے رام گڑھ تھانہ علاقہ کے للاونڈی گاؤں میں جمعہ کی رات رکبر نامی شخص کی گؤ اسمگلر کے شک میں گؤ رکشکوں کی پٹائی کئے جانے کے بعد موت ہو گئی۔ راجستھان کے ہی باڑمیر ضلع کے چوہٹان تھانہ علاقہ کے بھنڈے کا پار گاؤں میں دلت نوجوان کھیت رام بھیل کی مسلم عورت سے محبت کے معاملہ کو لے کر 20 جولائی کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیاگیا تھا۔