ماب لنچنگ:شہیداحسان جعفری کی صاحبزادی شتروگھن سنہاکو خط لکھتی ہیں


مکرمی شتروگھن سنہاصاحب!
جب میرے والد احسان جعفری(سابق ممبرپارلیمنٹ،چھٹی لوک سبھا)۲۸؍فروری ۲۰۰۲ء کو گجرات کے ایک مشہور شہراحمد آبادمیں دن دہارے نہایت وحشیانہ طریقے سے ہجومی تشددکے ذریعے ماردیے گئے تھے،تواس کے بعدمیں نے سوچاتھاکہ میرا دیش آیندہ کبھی بھی کسی کے ساتھ ایسانہیں ہونے دے گا،میرے لیے یہ نہایت دردانگیزحادثہ تھا،اس سے ابھرنے کے لیے میں نے بہت جدوجہد کی؛کیوں کہ مجھے آگے بڑھنا تھا،میرے دماغ میں سوتے جاگتے،کام کرتے وہی لنچنگ کا حادثہ گردش کرتا رہتا ،کس طرح انھیں ہجومی تشددکانشانہ بنایاگیا،وہ حادثہ آج بھی میرے دل و دماغ میں گردش کرتا رہتاہے۔

میں نے اپنے والد کو مرتے ہوئے نہیں دیکھاتھا؛لیکن لوگوں نے مجھے پوری داستان سنائی کہ وہ سانحہ کیسے رونما ہوا تھا،لوگوں نے بتایاکہ کس طرح بھیڑنے انھیں اپنی طرف کھینچ لیا اورانتہائی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھر اور لوگوں کے سامنے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے،میرے والد اس وقت ۷۳؍ سال کے تھے؛لیکن گزشتہ دوسال سے دیکھ رہی ہوں کہ آئے دن خونی بھیڑکی ایسی ویڈیوز سامنے آرہی ہیں،جن میں بھارت کا ایک نوجوان طبقہ لاچار لوگوں کو،جن میں بوڑھے اور جوان سب شامل ہیں،بے رحمی سے دن کے اجالے میں ماررہاہے اوراس سے بھی بھیانک صورتِ حال یہ ہے کہ کچھ نامی گرامی لوگ اس بھیڑ کو لوگوں کو مارنے پر اکسارہے ہیں،ان کے سامنے یا توپولیس بے بس ہے یا وہ کچھ کرناہی نہیں چاہتی اور شہریوں کا جوبقیہ حصہ ہے،وہ سوشل میڈیاپر ان ویڈیوز کو دیکھ رہاہے ،جبکہ نیوز چینلوں پر گرماگرم بحثیں ہورہی ہیں۔
محترم شتروگھن سنہاجی!مجھے لگتاہے کہ ایک والد ہونے کے ناطے آپ اس طرح کے حادثے میں اپنے والد کوکھونے کے بعد کے میرے جذبات کو سمجھ سکتے ہیں اور ایک انسان ہونے کے ناطے آپ ان بے بس لوگوں کے جذبات کو بھی سمجھیں گے،جوجنونی بھیڑکے ہاتھوں اپنے خاندان کے لوگوں کو کھورہے ہیں اور دوسری طرف پوراملک اس منظر کو خاموشی سے دیکھ رہاہے،لوگ اپنے آپ کو بھی بے بس محسوس کررہے ہیں اور انھیں ملک کا قانون،سسٹم بھی بے بس نظر آرہاہے۔
محترم شتروگھن سنہاجی!میں آپ سے اس بارے میں آواز اٹھانے کی گزارش کرتی ہوں اور آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ ان واقعات کی باضابطہ طورپرمذمت کریں،میں ان معاملوں میں آپ سے ایک کمیٹی بنانے کی بھی درخواست کرتی ہوں،جومتاثرہ لوگوں کے کام آئے،میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ ہجومی تشددکے حادثات کو روکنے کے لیے اعلیٰ سطح کی سیاسی قیادت کو مجتمع کریں اور یہ گذارش میں آپ سے اس لیے کررہی ہوں کہ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کی آواز سنی جائے گی،آپ اپنے سیاسی اثرورسوخ کااستعمال کرکے پورے ملک میں پھیلنے والے اس پاگل پن کو روک سکتے ہیں۔
(ترجمانی:نایاب حسن)