ماب لنچنگ، مسلم قیادت اور مسلم عوام


مسعود جاوید

بعض لوگ اس سے نالاں ہیں کہ ” ملک میں کچھ بهی ہوتا ہے اس کا بخار عوام ملی قائدین پر اتارتی ہے.” اس پر ان بعض کو اعتراض کیوں ہے. ؟ کیا ملی قیادت کو جوابدہ بنانا گستاخی ہے ؟ یہ اعتراض میری حقیر رائے میں کئی زاویوں سے غلط ہے..

1- موب لنچنگ پر مسلم نمائندوں کے ایک وفد بلکہ کئی وفود کو وزیراعظم سے مل کر میمورنڈم سونپنا چاہئے …محض پریس ریلیز جاری کرکے بری الذمہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملی قائدین موب لنچنگ جیسے واقعات کے بارے میں بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں. ملاقات اور میمورنڈم اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کا اندراج ریکارڈ میں ہوتا ہے . یہ کام ملی قائدین ملی نمائندے ایم پی ایم ایل اے کا ہے. نہ کہ عوام کا.
اگر سڑک پر عوام کو اترنا ہے تو اس کے لیے بهی قیادت کی ضرورت ہوگی تاکہ سب کچھ قانون اور دستور کے تحت ہو اور عوام میں سے کچھ لوگ جذبات میں بہ کر معاملہ بگاڑ نہ دیں یا اپنی سیاسی منفعت کے لئے ہیش پیش نہ رہیں.
کتنے آل انڈیا کہلانے والی ملی تنظیموں نے اپنی مقامی شاخ سے گراؤنڈ زیرو رپورٹ طلب کیا ؟. متاثر خاندان سے ملی قائدین کے وفد نے ملاقات کی؟. ایڈمنسٹریشن سے ملاقات کرکے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا؟
جهارکهنڈ کا بہار سے علیحدہ ہو کر مستقل ایک الگ ریاست بننے سے قبل مولانا منت اللہ رحمانی کے زمانے میں ایسے موقعوں پر فوراً رابطہ کیا جاتا تها اور امارت کی طرف سے وزیر اعلیٰ اور دیگر متعلقہ وزراء اور دیگر مسلم ہمدرد سے رابطہ کیا جاتا اور متاثرہ اضلاع کے ڈی ایم اور ایس پی کو فون کرایا جاتا .. اس سے ایڈمنسٹریشن کو احساس ہوتا تها کہ ان مظلوم مسلمانوں کے سر پر بعض بڑی شخصیات اور ملی جماعتیں ہیں. آج ملی قائدین کی خاموشی یہ تاثر دیتی ہے کہ ان مظلوموں کے سر پر کسی بڑی شخصیت یا ملی تنظیم کا چهتر چهایہ نہیں ہے.
اب بحیثیت مجموعی امارت بهی ایسے موقعوں پر بہت زیادہ متحرک نہیں ہوتی ہے .. اور جهارکهنڈ کا معاملہ تو یتیموں جیسا ہے. نہ امارت نہ جمعیت نہ جماعت نہ اہل حدیث .. کوئی پرسان حال نہیں ہے. ان جماعتوں کا مسئلہ مسلمان نہیں ہے. ان کا مسئلہ ہے کہ ان علاقوں میں جماعت کے کتنے متفق معاون رکن ہیں ؟ جمعیت کا مسئلہ ہے کہ وہاں کتنے ممبر ہیں امارت کا مسئلہ ہے کہ وہاں کتنے نقیب ہیں اور اہل حدیث کا مسئلہ ہے کہ وہاں کتنے سلفی ہیں اور سلفیوں کی کتنی مساجد ہیں ـ