لوگوں میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو سماج کی بہتری کے لئے کام کریں۔ حافظ فرقان اسعدی


مصیبت زدگان،مظلوموں ، اور ملک وسماج کی خدمت کرنا ہی جمعیة یوتھ کلب کا مقصد ہے۔
نگلہ راعی کے جامعہ الہد ایہ میں جمعیة یوتھ کلب کے پروگرام میں نوجوانوں سے مولانا حکیم الدین قاسمی کا خطاب۔
مظفرنگر 22نومبر
جامعہ الہدایہ جامعہ نگر نگلہ راعی میں آج نوجوانوں کولیکر جمعیة یوتھ کلب کے زیر اہتمام ایک پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا ، جس میںمہمان خصوصی کے طور پر جمعیة علماءہند کے قومی سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی اور مہمان ذی وقار کے طور پر مولانا قاری احمد عبد اللہ قاسمی آرگنائزر جمعیة علما ءہند شریک ہوئے۔پروگرام کی صدارت حضرت فدائے ملتؒ کے خلیفہ مجاز حافظ محمد فرقان اسعدی نے کی ۔جبکہ نظامت کے فرائض جمعیة علماءضلع مظفرنگر کے سکریٹری مولانا محمد موسیٰ قاسمی نے انجام دیئے ۔
اس موقع پرجمعیة یوتھ کلب کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے مولاناحکیم الدین قاسمی نے کہا کہ مظلوم عوام کی مدد کرنا ، ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پوار کرنا مذہب اسلام کا اہم ترین جزءہے ، اور جمعیة علماءہند پورے ملک میں جہاں بھی ضرورت محسوس ہوتی ملک اور قوم کی بھلائی اور بہتری کے لئے کوشاں رہی ہے ، جمعیة کے ماضی اور حال کی تاریخ اس کی نظیر ہے ، انہوں نے کہا کہ جمعیة یوتھ کلب کا مقصد بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ، جس میں سماجی اور جماعتی خدمات کے ساتھ مظلوموں اور خلق خدا کی مدد کرناہے، انہوں نے کہا کہ قیام امن کے ساتھ وطن عزیز کی حفاظت اور ملک کے تعمیری پرو گراموں میں حصہ داری کو یقینی بنانا، مسلمانوں میں دینی رجحان پیدا کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو اسکاو¿ٹ کی ٹریننگ دینا اس کے مشن میں شامل ہے ۔مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ جمعیة علماءہند گذشتہ چار سالوںسے بچوں اور نوجوانوں کو بھارت اسکاو¿ٹ اینڈ گائڈ کی ٹریننگ دے رہی ہے تاکہ ان بچوں کو جمعیة یوتھ کلب میں شامل کیا جاسکے۔
حافظ محمد فرقان اسعدی نے کہا کہ اسکاو¿ٹ اینڈ کی ٹریننگ سے سے بچوں میں ذہنی اور جسمانی ایسی تربیت ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے بچے اور بچیاں اعلیٰ اخلاق وکردار کی حامل ہوجاتی ہیں،وہیں قدرتی حادثات کے مواقع پر کسی آلے کے سہارے کے بغیر خود اور دوسروں کے تحفظ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ اس سے سماج اور ملک کی بہتر خدمت انجام دی جاسکتی ہے۔
جمعیة علماءہند کے آرگنائزر نوجوان عالم دین مولاناقاری احمد عبد اللہ رسولپوری نے کہاکہ گالیاں کھاکر ، مخالفتوںکا سامنا بھی کرنا پڑے گا، پتھر بھی کھانے پڑسکتے ہیں لیکن انسانیت کا بول بالا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹا جائیگا۔جمعیة یوتھ کلب کے نام پر اکابرین نے ایک بار پھر انسانی خدمت کو مدنظر رکھتے ہوئے منظم طریقہ سے یہ تحریک شروع کی ہے ۔ہر زمانہ میں الگ لگ تحریکیں چلی، مختلف تدابیر سے کام لیا گیا تاکہ انسانوں کے اندر انسانیت آجائے اسی تحریک کا یہ بھی ایک حصہ ہے ، اسکاو¿ٹ کی ٹریننگ سے انسان خودکو منظم بناتاہے،کہ زندگی کیسے گزاری جائے ، کوئی نہیں چاہے گا کہ وہ کمزور رہے ، اس پر ظلم کیا جائے ، ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی پاک کی تعلیمات کی روشنی میں ہم اپنے نوجوانوں سے کہنا چاہتے کہ زندگی کو منظم بنایا جائے ، روزمرہ کے کاموں کی ترتیب کے لحاظ سب کو ٹائم ٹیبل بنانا ہوگا، لغویات سے بچتے ہوئے اپنی صحت اور تربیت کا خیال رکھنا ہوگا، تاکہ ملک اور قوم کی خدمت بہتر طریقہ سے انجام دیا جاسکے۔
مولانااحسان الحق قاسمی مینیجر جامعہ عائشہ الصدیقہ للبنات نے کہا کہ ہمارا ملک غلام تھا جس کو ہمارے اکابرین نے بڑی جددجہد اور کوششوں سے ملک آزاد کرایا، جس کے لئے انہوں نے بیش قیمتی قربانیوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کو انگریزوں کے چنگل سے آزاد کریا، اس کے لئے خون بہایا تو اب اسکی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہماری ہے ،ملک کی حفاظت، سلامتی ، اور تعمیری سرگرمیوں میں آگے بڑھ کر اقدام کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔
مولانا محمد موسیٰ قاسمی نے کہا کہ یوتھ کلب کا تصور ہمارے بڑوں نے دیا تھا ، جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جمعیة علماءہند کے صدر مولانا قاری سید عثمان منصورپوری، اور قائد جمعیة مولانا سید محمود اسعد مدنی شب وروز فکر مند ہے ، انہوں نے کہا کہ اسکاو¿ٹ پروگرام مولانا محمود مدنی کا ڈریم پروجیکٹ ہے ، جس میں وہ قوم کے بچوں کی تعلیمی ، جسمانی، اور تربیتی صلاحیتوں سے قوم اور ملک کے لئے بہتر رزلٹ کے خواہش مند ہے ، انہوں نے کہا ہمیں اپنے اکابرین کے خوابوں کی تکمیل کے لئے حتی الامکان جدوجہد کرنی ہوگی۔
نوجوان تعلیم یافتہ مفکر سعید احمد نے کہاکہ جمعیة علماءہند اور اسکی قیادت یقینا قابل ستائش ہے کہ انہوں نے بروقت ایسے اقدام اٹھائے جن کی عرصہ دراز سے شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی،
انہوں نے کہ یہ ہمارے لئے سنہرا موقع ہے ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا ہوگا،
پروگرام کے خصوصی شرکاءمیں قاری ذاکرحسین جنرل سکریٹری جمعیة علماءمظفرنگر، حافظ محمدفرقان اسعدی، پردھان نفیس احمد، سابق پردھان حاجی فیاض علی، سابق پردھان حاجی ارشد، مولانا احسان الحق قاسمی ، مولانا موسیٰ قاسمی، ماسٹر سعید احمد، مولانا محمد عمران، مولانا سلیم احمد، قاری شہزاد احمد، قاری شعیب عالم، قاری شاہ نواز احمد،مولانا مبین احمد، عرفان پرمکھ، حاجی عابد حسین، حاجی عبد القادر، افسرون پردھان،مولانا جنید، شاعر ابواکلام کلیم، نسیم پردھان،سمیت نوجوان بڑی تعداد میں موجود رہے ۔