لوک سبھا الیکشن : عشق کی ہم جزا کی بات کریں!


احمدخان پٹھان، رام پور
لو ک سبھا الیکشن کے ایام جوں جوں قریب آرہے ہیں ، بھگوا دہشت گردی بھی حجابات سے عاری ہورہی ہے ۔ گزشتہ عام انتخابات تو رام مندر اور مفروضہ ’’کرپشن ‘‘ کے نام پر جیت لیا گیا ؛لیکن اس بار پھرزعفرانی شدت پسندوں کورام مندر کی یاد بے قرارکررہی ہے ۔وہ اس کے نام پر ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں ؛کیوں کہ اس کے سوا ان شرپسندوں کے پاس اس کے سوا اور کوئی ایشو نہیں ہے ،وہ تہی دامنی میں حیراں و پریشاں ہیں ۔ موہن بھاگوت سے لے ک رگری راج سنگھ ، تمام ادنیٰ سے ادنیٰ کارکنان اور ’’برساتی نیتاؤں ‘‘ تک کی زبان پررام مندر کانام ہے ۔ میڈیا جس کو حق کا علمبردا رہونا چاہیے تھا ا س نے بھی اپنی عفت کو جھوٹے مکار سیاستدانوں کے یہاں ’’رہن ‘‘ رکھ کر اسی سر اور تال میں برہنگی کا مظاہرہ کررہا ہے ،جس کا اشا رہ ان کے آقاؤں کی طرف سے ملا کرتا ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ میڈیا کو نااہل حکمرانوں کے وعدے یاد دلانے چاہیے ، نوجوانوں کی بے روزگاری کے تئیں سوالات پوچھنے چاہیے تھے ، مگر ان تمام امور سے سوا ہو کر میڈیا بھی اسی ’صوت الحمیر ‘ میں سوال کررہا ہے کہ رام مند رکب بنے گا ؟ ۔ کیا عوام کا پیٹ رام مندر کی تعمیر سے بھر جائے گا ، یقیناًنہیں،مگر ملک کے عوام کی نادانی ہے کہ تمام مفادات اور بنیادی ضرورتوں کو بالائے طاق رکھ کر بار بار یہی سوال کیا جارہا ہے کہ رام مندر کب بنے گا ۔ جب کہ خود میڈیا اور سیاستدانوں کو یہ معلوم ہے کہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر بحث ہے ۔ بار بار اس کو موضوع بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ میڈیا بکا ہی نہیں ؛بلکہ حکمراں طبقہ کی ترجمانی کررہا ہے ۔ ملک کے عوام کو وجے مالیا کے متعلق سوالات نہیں پوچھنے چاہیے ، میہول چوکسی اور نیرو مودی جیسے مفرور اقتصادی مجرموں کے متعلق سوال نہیں کرنا چاہیے ، بیروزگاری اور بڑھتی ہولناکی سفاک مہنگائی کے متعلق سوال پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ہاں ان کو حق صرف یہ ہے کہ وہ صرف محو تماشا رہیں اور نام نہاد مفروضہ نعروں کے جواب میں ’’لبیک لبیک و آمناو صدقنا ‘‘کا نعرہ بلند کریں، یعنی مہر بہ لب خاموش نگاہوں سے ان کے کارنامے اور ’کرتوت‘ ملاحظہ کریں ۔
لوک سبھا کے ایام قریب آرہے ہیں برسر اقتدار طبقہ کے پاس اس کے سوا کوئی اور موضوع سردست ہے نہیں ، سرجیکل اسٹرائیک کے نام پر ایک گمراہ کن عنوان تھا اس کی بھی ہوا کانگریس اور کجریوال نے نکال دی۔ جن لوگوں کو ’مودی فوبیا ‘ کا گمان تھا؛بلکہ یقین تھا کہ مودی ’وکاس‘ کی نہریں بہائیں گے ، ان کو نوٹ بندی اور جی ایس ٹی اور مہنگائی کا صلہ ملا ، جن کو یہ یقین تھا کہ ان کی بے روزگاری ختم ہوگی انہیں مزید روزگا ر، معاش اور چند نوالوں کے لیے در در کی ٹھوکریں اور چاکری کرنا پڑی، یہ بھی کہہ لیں کہ جن کو ’نئے انقلاب ‘ کی تمنا ئے بے داد تھی ، ان کو ہولناکی اور’ مرگ مفاجات ‘ کا تحفہ ملا ۔ یہ بھی کہہ لیں کہ جن کو ’’اچھے دن ‘‘ کا کامل یقین تھا ،حتیٰ کہ ان کا یہی ایمان بھی تھا کہ ’اچھے دن ‘ آکر رہیں گے ، انہیں گورکھپور میڈیکل کالج میں ڈیڑھ سو سے زائد نومولود بچوں کی ہلاکت کا زخم ملا ۔ بی جے پی کے لیڈران کا یہی موقف تھا اور اب بھی وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہیں کہ ملک میں ’وکاس ‘ کی گنگا بہہ رہی ہے،مگر نیرو مودی، وجے مالیا، میہول چوکسی جیسے مفرور صنعت کار اسی وکاس کی گنگا میں ڈبکی لگاتے ہوئے ایک خطیر رقم لے کر فرار ہوگئے ،ملک کی خفیہ ایجنسی اس سے بے خبر رہی،مگر پھر یہی برہنہ زعم ہے کہ ملک میں وکاس کی ’گنگا ‘ بہہ رہی ہے ۔ اس زعم اور برہنہ خیال کی کئی مثالیں ہیں جن کو ملک کے عوام نے ملاحظہ کیا ہوگا ۔ مگر پھر بھی عوام نے اس سے کوئی سبق نہ لینے کا عزم کج کلاہی کر رکھا ہے ، وعدے وعدے ہوتے ہیں ، وعدوں سے نہ تو پیٹ بھرا جاسکتا ہے اور نہ ہی وعدے انسانی ضروریات کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ہاں البتہ وعدے خوابوں کو زندہ رکھ سکتے ہیں جس سے انسان اپنا وقت ،سرمایہ اور بھی بہت کچھ گنواسکتا ہے ۔مگر اس ملک کے عوام کی حماقت ، جنون ، ابلہی اور کارضیاع ہے کہ وہ بنیادی مسائل سے پرے ہوکر مذہب کے نام پر دیوانہ ہوئے جا رہے ہیں جس سے وہ اپنا ہی نقصان کررہے ہیں اور آنے والی نسلوں کو سدا کے لیے اپاہج بنا رہے ہیں ؛بلکہ یوں کہہ لیں کہ یہ اپنی اور آنے والی نسلوں کی اجتماعی ’خودکشی‘ ہے ۔
ملک کے عوام کا ذوق ، شعور ، آگہی، ’گیان‘شاید مفلوج ہی ہے ؛کیوں کہ عوام کوبنیادی مسائل کا تصفیہ چاہیے ، اعلیٰ تعلیم چاہیے ، بہتر صحت چاہیے تھی ، پر امن ماحول چاہیے ، لیکن عوام کو مذہب کے نام پر فرقہ واریت کا ’’لالی پاپ ‘‘ دے دیا گیا ، وکاس کے نام پر ’وناش ‘ دے کر بہلا دیا گیا اور عوام کی نادانی کہہ لیں کہ اسی میں مست او ربیخود بھی ہیں ۔مہنگائی بڑھی ، لیکن عوام نے اپنی زبان پر تالا لگالیا، کیوں ؟ نوٹ بندی کے نام پر عوام سے ’’آہوتی ‘‘(قربانی) طلب کی گئی تھی ، تقریباً 170معصوم جان ا س پرفریب ’آہوتی‘ کی بھینٹ بھی چڑھی، اور جب اس کے نتائج سامنے آئے تو خود آر بی آئی کو کہنا پڑا کہ 99فیصدی ہزار اور پانچ سو کے پرانے نوٹ سرکاری خزانے میں واپس آچکے ہیں، عوام نے اس کے متعلق سوال نہ کیا کیوں؟ گورکھپور میں انتظامیہ کی سست روی اور غفلت آشکارا ہوگئی ، سینکڑوں معصوم نومولود کی جان اس غفلت کی وجہ سے بے موت فنا کے گھاٹ اتر گئی ،اس عوام کی نادانی ؛بلکہ حماقت کہہ لیں کہ عوام نے اس کو ’اگست میں تو بچے مرتے ہی ہیں ‘ کو ’آکاش وانی ‘ سمجھتے ہوئے خاموش اشکباری پر ہی اکتفاکرلیا،حتیٰ کہ عوام نے اُس بیان پر بھی احتجاج کرنا مناسب نہ سمجھا کہ جس میں کسی بی جے پی کے لیڈر نے کہا تھا کہ ’اگست میں تو بچے مرتے ہی ہیں ‘ ۔ جنہوں نے ’بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ ‘ کا نعرہ دیا تھا ، وہی لیڈران جموں میں ایک زانی کی حمایت میں ’مارچ ‘ نکال رہے ہیں اورجس کلدیپ سنگھ سینگر نے اناؤکی سڑکوں پر نکل کر ’بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ ‘ کا نعرہ لگایا تھا ، وہی سینگرجنسی استحصال کا ملزم ثابت ہوتا ہے، ریاستی حکومت اس کو تحفظ فراہم کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ عوام نے کیوں نہیں پوچھا؟ الغرض حکمراں طبقہ کے اتنے ’کارہائے زریں‘ ہیں کہ جن کو شمار تو نہیں کیا جاسکتا ،البتہ اس پر عوام کو ’ماتم ‘ اور’ سینہ کوبی‘ ضرور کرنی چاہیے کہ انہیں سبز باغ دکھا کران کے ساتھ بدترین مذاق کیاگیا ہے ،بدلے میں عوام کو صرف رسوائی،حیرانی،عدم وفااوربھکمری ہی ملی۔ ان تمام کارہائے بدذوقی اور تمام واضح’ناکامیوں‘ کے باوجود ایک بار پھر مودی اینڈ کمپنی تمام حربے،آلات، اشتعال انگیزی، فرقہ واریت اور خوش فکر نعروں کے ساتھ میدان میں کود پڑی ہے ، اب ٹھگے ہوئے عوام ہیں، حزب اختلاف ہے اور برسر اقتدار طبقہ ہے جو اقتدا رکے نشہ میں چور بھی ہیں۔اس حالات میں کیا کیا جائے ،یہ سوال اہم ہے ۔ ستر فیصدی عوام اس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں ’ہندوتوا‘ کے آسیب نے جکڑلیا ہے ؛بلکہ حالات تو یہ ہیں کہ اس سے انہیں عشق بھی ہے ۔تمام جفاؤں کو فراموش کرکے اس سے ہم کنار و ہم گیر بھی ہوتے ہیں ، چومتے بھی ہیں ، پرستش بھی کرتے ہیں اور ’’شیش ‘( سر) بھی ’نواتے ‘ (جھکاتے ) ہیں ۔کیوں کہ ان کا یہ گما ن ہے کہ اس سے ان کے ہندوتوا کو ترقی ملے گی ، عوام کی اس ستر فیصدی نے اس جوش جنون میں اپنا سر کچھ قربان بھی کردیا ؛لیکن نتائج تلخ ہی ثابت ہوئے۔ان کا جو بھی گما ن ہو ہم اس گمان اور تصور کی تضحیک یا توہین نہیں کرتے ؛لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کے اس گمان اورعقیدے کو جو مضمرات ہیں وہ سوائے جوش جنون اور تعبد کے سوا کچھ بھی نہیں ، جس کے نتائج کبھی نیک اور خوش گوار نہیں ہوسکتے ہیں ۔ستر فیصدی عوام کی صواب دیدپر منحصر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ، ان تمام جفاؤں کے بعد بھی ان کا جوش جنون سرد ہوا یا نہیں ؟ ذلت و فضیحت کے بعد ان کی عقل ٹھکانے لگی یا نہیں ؟ اگر اس کا جواب مثبت ہے تو حکمراں طبقہ کو مئے آتشیں چھوڑ کر مئے تلخ پینا چاہیے اورآہنگِ سوگ پر بین کرنا چاہیے اور اگر اس کاجواب نفی ہے تو پھر حکمراں کے مزید اچھے دن آنے والے ہیں ، نیرومودی ، وجے مالیا جیسے بھگوڑے اور بھی پیدا ہوں گے ، حکمرانوں کے ہاتھوں میں مئے آتشیں و جام ناب ہوں گے اور عوام کوابھی مزیددرجنوں ’آہوتیوں‘ کے لیے تیار رہنا ہوگا ؛کیوں کہ ان کے جوش جنون ابھی رام (مطیع )نہیں ہوا ہے ؛بلکہ جولانیوں کا شکار ہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اسی ستر فیصدی کے پاس اقتدارکی کلید ہے ،اگر مسلمانوں کا متحدہ محاذ ہو تو پھر یہ بھی تمام سیاسی قواعد اور اصول کی دھجیاں اڑاسکتا ہے ۔
ِ