لنچ فائلس:کشتگانِ نفرت کی دلخراش داستان


مؤلف : ضیاء السلام
اشاعت:سیج پبلی کیشن،نئی دہلی
صفحات : ۱۹۲
قیمت: ۴۵۰روپے
تبصرہ:فیصل نذیر(ریسرچ سکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)
انگریزی کے مشہور صحافی ضیاء السلام کی یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں؛ بلکہ ایک دستاویز اور آئینہ ہے۔ اس کتاب کے مطالعے کے دوران قاری کئی متضاد احساسات و جذبات سے گذرتا ہے،کبھی رنج و غم سے دل بھرجائے گا، تو کبھی یاس وناامیدی دامن گیرہوجائے گی، کبھی غصے اور انتقام کے جذبات غالب ہوں گے؛ لیکن اخیرمیں امید کی کرن بھی دکھائی دے گی۔ضیاء السلام نے بڑی محنت وجاں فشانی اور عرق ریزی کے ساتھ یہ کتاب لکھی اور بعض متاثرین ومجرموں سے خود انٹرویو لیا ہے۔ اس کتاب کا مقدمہ گجرات کے مشہور دلت لیڈر جگنیش میوانی نے لکھا ہے۔ اس کتاب میں ان حادثات کا بھی ذکرہے، جنھیں وہ قوم بھی نہیں جانتی، جس کے خلاف یہ حملے زیادہ تر کیے جارے ہیں۔
ضیاء اپنی کتاب میں لنچنگ لفظ(ہجومی تشدد) کی تاریخ اور پسِ منظر بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ لفظ سب سے پہلے امریکہ میں استعمال میں آیا، جب سیاہ فام غلاموں نے آزادی طلب کی ،تو تقریبا ۲۴۰۰؍ سیاہ فام امریکیوں کو سفید فام امریکیوں نے مار ڈالا؛ لیکن سر زمینِ ہندوستان میں اس لفظ کا استعمال موجودہ حکومت کے آنے کے بعد لوگوں کی سماعت میں آیا اور موضوعِ بحث بنا۔ ضیا ء نے جس درد کے ساتھ اخلاق کی شہادت کے واقعے کو بیان کیا ہے اور خاص کر جب یہ بتایا ہے کہ کس طرح ان کے گھر والوں پر ہی کیس کر دیا گیا، ان کے فریج کی پولس نے تلاشی لی اور مرحوم اخلاق پر بھی گائے ذبح کرنے کا مقدمہ لگایا گیا، ایسے ہی جب ضیاء السلام ہجومی تشدد کے شکار ہوئے افرازل کے بیوہ کی کہانی بتاتے ہیں کہ وہ ڈیتھ سرٹیفکٹ کے لیے در در بھٹک رہی تھی؛ تا کہ اس کے اکاؤنٹ کا پیسہ ان کے گھر والے استعمال کر سکیں ، ایسے ہی دیگر داستانِ درد و الم ،جہاں مقتول کے اہل خانہ کوہی مجرم بنا دیا گیا ،تو عامر عثمانی بہت یاد آئے:
کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ الزام ہے، قتل جس نے کیا ،ہے وہی مدعی
قاضیِ وقت نے فیصلہ دے دیا ، لاش کو نذرِ زنداں کیا جائے گا
اب عدالت میں یہ بحث چھڑنے کو ہے، یہ جو قاتل کو تھوڑی سی زحمت ہوئی
یہ جو خنجر میں ہلکا سا خم آگیا ، اس کا تاوان کس سے لیا جائے گا؟!
مصنف کہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات اب پرانے ہتھیار ہوچکے ہیں اور اس کے متبادل کے طور پر ہجومی تشدد کا طریقہ ایجاد کیا گیا ہے؛کیونکہ ہجوم کو مکمل طور پر سزا نہیں دی جاسکتی اور ہجوم کا کوئی چہرا نہیں ہوتااور پولس اسے ایک بھیڑ اور جذباتیت سے پرُ چند نوجوانوں کی بدمعاشی بتا کر معاملہ رفع دفع کر دیتی ہے ، ساتھ ہی مقامی نیتاؤں اور لیڈروں کی سرپرستی بھی اس کیس کو ہلکا کر دیتی ہے اور ہجومی تشدد کے شکار شخص کی مسخ شدہ لاشیں مسلم قوم کے وجود کوہلا کر رکھ دیتی ہیں، یہ واقعات جس طرح مسلمانوں میں خوف کی نفسیات پیدا کرتے ہیں وہ اور کوئی طریقہ نہیں کرتا۔
ضیاء صاحب کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کے واقعات اکثریت کو ایک طرح کا سکون عطا کرتے ہیں اور اس طرح کی ہلڑ بازی سے وہ وہی پیغام دینا چاہتے ہیں ،جو ان کے لیڈر گولوالکر نے کہا ہے کہ’’ اگر غیر ملکیوں (مسلمانوں اور عیسائیوں) کو اس ملک میں رہنا ہے، تو انہیں اکثریتی فرقہ کے رحم و کرم پر رہنا ہوگا اور اپنے کلچر کو فرموش کر کے اسی میں گھل مل جانا ہوگا‘‘۔
مصنف نے اس کتاب کو کل ۵؍ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور وہ ان حصوں کو باب یا فصل کہنے کے بجائے ’’فائل‘‘کا عنوان دیتے ہیں، دوسری فائل، جس کا عنوان ہے ’’ کیا مسلمانوں کو نشانہ بنانا آسان ہے؟‘‘ ،یہ سب سے طویل فائل ہے اور مصنف نے بالتفصیل ہر واقعے کوبیان کیا ہے، کچھ واقعات پڑھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے اور ہیبت طاری ہو جاتی ہے اور دنیا کی سب سے عظیم جمہوریت کا ہندوستان کا دعوی کھوکھلا معلوم ہوتاہے۔
اس کرب و اندوہ سے صاحبِ کتاب نے تعصب پرست بھیڑ کے ذریعے حافظ جنید کی شہادت کا ذکر کیا ہے کہ ہر دلِ درد مند رکھنے والا اشکبار ہوجائے گا ،عید سے چند روز قبل تراویح کے پیسے سے خریداری کرنے دہلی آئے جنید کی چلتی ٹرین میں جان لے لی گئی اور صد افسوس کہ کسی نے بھی اس حادثے کو روکنے کی کوشش تک نہیں کی، جبکہ ٹرین لوگوں سے بھری ہوئی تھی،بزبان عنایت علی خان:
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ، جس میں جھارکھنڈ کے مرحوم علیم الدین انصاری کی جان لے لی گئی، وہ گھر سے کچھ سامان لینے نکلے تھے کہ بھیڑ نے انہیں چارو ں طرف سے گھیر لیا اور انہیں بے تحاشا مارنے لگے ،پھر اس پورے واقعے کی ویڈیو بنا کر انٹر نیٹ اور واٹس اپ گروپ پر بڑی تعداد میں لوگ ادھر اُدھر بھیجنے لگے ، حتی کہ وہ ویڈیو علیم الدین انصاری کے۱۶ ؍سالہ بیٹے شہباز کے فون میں بھی آئی ، اس نے جب اس ویڈیو کو دیکھا ،تو اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی کہ ویڈیو میں ہجومی بربریت کا شکار ہورہا شخص کوئی اور نہیں،اس کے والد صاحب ہیں، جو ابھی کچھ دیر قبل گاڑی سے گئے تھے ، وہ بدحواسی کے عالم میں گھر سے بڑے بھائی کو ساتھ لے کر سڑک پر پہنچا، تو دیکھا کہ ان کی گاڑی جلی ہوئی حالت میں الٹی پڑی ہے اور سڑک پر خون کے نشانات موجود ہیں۔ وہ جلدی سے ہاسپیٹل گئے، تو وہاں ان کی لاش تھما دی گئی۔
غرضیکہ یہ کتاب اس طرح کے دہشت ناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ایسے معاملوں میں مجرموں کی گرفتاری کے دو تین گھنٹوں کے اندر ہی انھیں بیل مل جاتی ہے اور ہجومی تشدد میں اموات کے۸۸؍ شرمناک واقعات کے باوجود اب تک باضابطہ ایک بھی معاملے میں کسی کو سزا نہیں سنائی گئی۔ پھریہ کہ اس طرح کے واقعات صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی پیش نہیں آرہے ہیں ؛بلکہ متاثرین میں دلتوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔
ضیاء السلام کی اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف پولس کے یک طرفہ اور جانبدارانہ رویے کا ہی ذکر نہیں ہے ؛بلکہ ان کی بہادری اور ایمانداری کا بھی ذکر ملتا ہے، جیسا کہ گریڈیہہ، جھاڑ کھنڈمیں پولس نے بر وقت موقعِ واردات پر پہنچ کر عثمان انصاری کی جان بچائی اور اسے ہاسپیٹل پہنچایا اوروہ جب عثمان کو پولس جیب میں لے کر جانے لگے ،تو ہجوم نے پتھر پھینکنا شروع کر دیا، اس کے باوجود پولس نے بہادری کا مظاہرہ کیا اور ان لوگوں کے خلاف سخت کیس بھی بنایا۔
اس کتاب کے آخری باب میں ضیاء السلام نے سپریم کورٹ کی تعریف کی ہے اور جس طرح کے اقدامات جوڈیشری کی جانب سے کئے گئے اور بعض دفعہ کورٹ نے ہی صوبائی حکومتوں کو معاوضہ دینے کو کہا،اس یہ یقین پختہ ہوتا ہے کہ جوڈیشری ہی ہمارے لیے امید کی آخری کرن ہے۔ ضیاء السلام کی یہ کتاب ایک مثبت اختتام کے ساتھ آئین کی فکر کرنے والے تمام ہندوستانیوں کو دعوتِ فکر وبحث دیتی ہے۔اپنی معنویت،موضوع کی حساسیت اور مؤلفِ کتاب کی دردمندی اور ملکی سالمیت و جمہوری ڈھانچے کے تئیں ان کی فکر مندی کا تقاضا ہے کہ یہ کتاب ہرہندوستانی پڑھیں،کتاب کی طباعت عمدہ اور معیاری ہے اورزبان انگریزی ہے، اردو داں حضرات کے لیے اگراس کتاب کا ترجمہ ہوجائے ،تو افادیت کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*