لسانی اکادمیوں کے اشتراک سے مشاعرہ جشنِ نو بہار۲۰؍جولائی کو

نئی دہلی۔18جولائی(پریس ریلیز)
اردو اکادمی، دہلی اردو ادب و شاعری کے فروغ کے لیے جہاں سمینار ، مشاعرے و توسیعی خطبات وغیرہ منعقد کرتی ہے وہیں سماجی اور ادبی تنظیموں کو سمینار اور مشاعروں کے انعقاد پر مالی تعاون بھی دیتی ہے۔ اسی سلسلے میں جشن بہار ٹرسٹ کے زیر اہتمام مشاعرۂ جشنِ نو بہار کے لیے محکمۂ فن، ثقافت و السنہ حکومتِ دہلی کی لسانی اکادمیوں اردو اکادمی، دہلی اور ہندی اکادمی، دہلی کے مالی اشتراک سے منعقد کیا جارہا ہے۔ اردو اکادمی، دہلی خود بھی اس طرح کے پروگرام اس لیے منعقد کرتی ہے کہ مشاعرے نہ صرف قوموں کے اتحاد کا ایک پلیٹ فارم ہے، بلکہ ان کے انعقاد سے قومی یکجہتی، بھائی چارہ اور ملک کی قدیم گنگا جمنی تہذیب کے فروغ کا ذریعہ ہیں اور سیاسی و تہذیبی تنظیموں کے ذریعہ سمینار، ادبی اجلاس، توسیعی خطبات اور مشاعروں کے انعقاد کے لیے مالی تعاون بھی اسی لیے دیتی ہے کہ یہ سب بھی اردو کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔
سماجی تبدیلی کے لیے شاعری بے حد مؤثر اور طاقت ور میڈیم ہے ۔ نوجوان ذہن ان تبدیلیوں کو جیتا ہے اور مستقبل کو سنوارنے میں مثبت رول ادا کرسکتا ہے۔ نوجوان تخلیق کاروں کے جدید خیالات اور اندازِ فکر سے ہماری امیدیں وابستہ ہیں۔ جشن نو بہار کی یہ گنگا جمنی محفل ان کی کاوشوں کو منظرِ عام پر لانے کے لیے ایک بے مثال پہل ہے۔
20جولائی2018 بروزجمعہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر ،نئی دہلی میں منعقد ہونے والے مشاعرہ جشنِ نوبہار میں جن نوجوان شعرا کو مدعو کیا گیا ہے ان میں حسین حیدری (ممبئی)، ثبیقہ عباس نقوی (بنگلور)، وِپُل کمار(گڑگاؤں) ،رمنیک سنگھ (جموں)، قیس جونپوری (جونپور)، مدیتا رستوگی (دہلی)، اظہر اقبال( میرٹھ)، گورو ترپاٹھی (کانپور)، ابھیشیک شکلا (لکھنؤ)، عاطرہ طہور(سری نگر) کے اسمائے گرامی شامل ہیں جب کہ ڈاکٹر سیف محمود اس مشاعرے کی نظامت کریں گے۔محترمہ کامنا پرساد کا کہنا ہے کہ ہم نے نوجوان شعرا کا انتخاب اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی شاعرانہ فکر سے نوجوان نسل آشنا ہوسکے اور ان میں بھی اظہارِ خیال کرنے کی دلچسپی پیدا ہو اور نئی نسل مشاعروں کی آبیاری کا ذریعہ بنے جس سے جہاں اردو کا فروغ ہو وہیں بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کے فروغ کا سبب بنے۔