19 C
نئی دہلی
Image default
بین الاقوامی خبریں

لبنانی صدر ميشال عون نے کہا ہے کہ سعد حریری جس پراسرار صورتحال کا سامنا سعودی عرب میں کر رہے ہیں

لبنانی صدر ميشال عون نے کہا ہے کہ سعد حریری جس پراسرار صورتحال کا سامنا سعودی عرب میں کر رہے ہیں

لبنانی صدر ميشال عون نے کہا ہے کہ سعد حریری جس پراسرار صورتحال کا سامنا سعودی عرب میں کر رہے ہیں اس کی وجہ سے انھوں نے جو کچھ کہا یا کہیں گے اس سے حقیقت کی عکاسی نہیں ہو گی۔

’ایک ہفتہ قبل وزیراعظم سعد حریری کی جانب سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد سے ان کی حالت کے بارے میں ابہام کی کیفیت موجود ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ان کی جانب سے کیے گئے یا ان سے منسوب تمام اقدامات اور موقف سچائی کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔‘

لبنان کے صدر نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ کیوں ایک ہفتہ قبل ریاض میں مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سے وہ واپس لبنان نہیں لوٹے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران اور اس کی اتحادی لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

دوسری جانب لبنان کے ایک سینیئر اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ’صدر عون نے جمعے کو غیر ملکی سفارت کاروں کے ایک گروپ کو بتایا ہے کہ سعد حریری’ کو اغوا‘ کیا گیا تھا۔‘

تاہم ان کے بیان کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے لیکن فرانس کے وزیر خارجہ نے جمعے کو کہا تھا کہ’ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ( سعد حریری) نقل و حرکت کرنے اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔‘

گذشتہ سنیچر کو لبنان کے وزیرِاعظم سعد حریری نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر شدید تنقید کی تھی۔

سعد حریری وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سے دوبارہ منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔

خیال رہے کہ جمعے کو امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو استعفی کے لیے مجبور نہیں کیا اور نہ ہی انھیں یہ تاثر ملا ہے کہ سعد الحریری نے اپنی مرضی کے بغیر استعفیٰ دیا ہے۔

اس کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ نے اُن ممالک کو خبردار کیا تھا جو بقول ان کے لبنان کو اپنی جنگ لڑنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ لبنان کی آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment