قومی کونسل کے نئے ڈائریکٹر،نئے عزائم اور نئی امیدیں!


اشرف علی بستوی
آزادی کے بعد ہندوستان میں اردو کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اردو کے تمام ریاستی اور مرکزی اداروں کے باوجود اردو دن بدن محدود ہوتی چلی گئی۔ 2001 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں 5 کروڑ 15 لاکھ اردو بولنے والے تھے ، یہ ہندوستان میں کسی زبان کو بولنے والوں کا چھٹا سب سے بڑا گروپ تھا، جبکہ 1981 میں یہ تعداد 5 کروڑ 25 لاکھ تھی اور 1991 میں5کروڑ 18 لاکھ تھی ، گویا مرض بڑھتاگیا، جوں جوں دوا کی،حالاں کہ ان دنوں این سی پی یو ایل نہیں تھا، اتنی اردو اکیڈمیاں بھی نہیں ، اتنی یونیورسٹیاں بھی نہیں تھیں اور جو تھیں ،ان میں اردوکے شعبے بہت کم قائم تھے، اردو کے اتنے اخبارات و رسائل بھی نہیں تھے ، عالمی اردو کانفرنسوں کا اہتمام نہیں ہوتا تھا ، ملک و بیرون ملک میں اتنی کثرت سے مشاعرے نہیں ہوتے تھے ؛لیکن لیکن تب اردو پڑھنے بولے والے آج کے مقابلے میں زیادہ تھے ،اب اردو سننے والوں کی تعداد زیادہ ہے ، اگراردو پڑھنے اور بولنے والے نہ پیدا ہوئے، تو ہماری آئندہ نسل اردو صرف یو ٹیوب پر سنا کرے گی۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جدید وسائل اور اس قدر اردوادارے نہیں تھے ،توپھر کیا وجہ تھی کہ اردو والے زیادہ تھے ، اس کا جواب ہمیں تاریخ سے ہی ملتا ہے کہ پہلے پرائمری سطح پر اردو میڈیم اسکول تھے ،بچوں کوپرائمری تعلیم اردو میں بہ آسانی دستیا ب تھی ،اتر پردیش جہاں یہ زبان پیدا ہوئی ،وہاں اِس وقت ایک بھی اردو میڈیم اسکول نہیں رہ گیا ہے۔
مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کے حوالے سے مغربی مفکر ابراہم ڈی سوان کہتے ہیں کہ” اپنی مادری زبان کو ترک کرنے والے ایسا یا تو نقل مکانی کی وجہ سے کرتے ہیں؛اس لئے کہ انہوں نے کسی اور چیز کو اختیار کرلیا ہے اور کسی دیگر زبان سے ان کی توقعات زیادہ وابستہ ہو جاتی ہیں یاوہ اپنی مادری زبان کو اس لئے نظر انداز کرتے ہیں کہ اسکولوں، سرکاری محکموں یا عدالتوں میں کسی دوسری زبان کو ترجیحی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور ان کی مادری زبان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے یا انہیں اس کا استعمال اس لئے ترک کرنا پڑتاہے کہ ان پر کسی دوسری قوم کی حکمرانی ہوتی ہے، جو اپنی زبان ان پر تھوپ دیتی ہے اور دلبرداشتہ ہوکر وہ اپنی زبان کا تحفظ کرنا ترک کردیتے ہیں۔‘‘مغربی مفکر کا یہ کہنا اردوپر حرف حرف صادق آتا ہے۔ پھر بھی قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے نئے ڈائریکٹر شیخ عقیل اردو کے مستقبل کو بہت روشن دیکھتے ہیں،چارج سنبھالتے ہی انہوں نے جن عزائم کا اظہار کیا ہے ،خدا کرے یہ عزائم ان کے زہن و دل میں آئندہ تین برس تک اسی طرح تازہ دم رہیں، وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ قطعی طور پر بدعنوان لوگوں کے سایے سے خود کو دور رکھیں گے اور این اسی پی یو ایل کوبدعنوانی سے پاک کر کے ہی دم لیں گے، یقیناًیہ ان کی سب سے بڑی حصولیابی ہوگی اگر وہ روایتی سرکاری سسٹم سے ہٹ کرنئی راہ نکالنے میں کامیاب ہوگئے،یوں تو ان کے عزائم پر ابھی کچھ تبصرہ کرنا قبل ازوقت ہوگا، انہیں کم ازکم 6 ماہ کی مہلت تو ملنی ہی چاہیے،وہ ایک بے خانماں زبان کی لڑائی ایسے وقت میں ایسے لوگوں سے لڑنے کی بات کر رہے ہیں ،جو ایک عرصے سے اردو رسم الخط کو ہی تبدیل کردینے کی مہم جوئی کر رہے ہیں۔
ان سے قبل کے ڈائریکٹرس کے عزائم بھی کچھ کم نہ تھے؛ لیکن ایک بار سسٹم میں آنے کے بعد سبھوں نے سسٹم کا حصہ بن کر رہنے میں ہی عافیت سمجھی؛ کیونکہ جو بھی آتا ہے، اسے یہاں تین سال کی مدتِ کار کے لیے موقع دیا جاتا ہے؛ اس لیے ہر آنے والا اس نظام کا حصہ بن کر اپنی مدتِ کار پوری کرکے اپنی راہ لیتا ہے،اگر آپ کویاد ہو! بدعنوانی سے دور رہنے اورکونسل کو بدعنوانی سے پاک کرنے کا شیخ عقیل کا عزم وزیر اعظم نریندرمودی کے عزم سے ہوبہو میل کھاتا ہے ،جس کا اظہار انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی کیا تھا ،کہا تھا ن’’ہکھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘‘ لیکن ان کے اس عزم کا حشر کیا ہوا ،گزشتہ ساڑھے چار برس میں کتنے ہزار کروڑ لیکر وجے مالیا ، میہل چوکسی جیسے آدھا درجن سے زائد لوگ رفو چکر ہوگئے اوراب جاتے جاتے خود وزیر اعظم کی گردن رافیل میں پھنس گئی؛یہ ساری صورتحال ہمارے سامنے ہے۔
ابھی تو وہ پرجوش و پرزور لہجے میں جابجا یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ سبھی محبانِ اردو سے میری دست بستہ درخواست ہے کہ میرے کاموں کا حساب سختی سے لیتے رہیں اور اپنے قیمتی مشوروں سے بھی نوازیں ؛ لیکن ہم سب نے گزشتہ چار برس میں چوکیدار اور پردھان سیوک کا لفظ بھی سن رکھا ہے، یہ کانوں کواچھا ضرور لگتا ہے؛ لیکن کسی سطح پر عمل ابھی تک نظر نہیں آیا، صحیح معنوں میں کسی بھی جمہوری ملک کے سرکاری ادارے کی یہی شان ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی شمولیت کو یقینی بنائے،کہا جا رہا ہے کہ شیخ عقیل کے لیے کچھ ناممکن اس لیے نہیں ہے کہ وہ این سی اپی یو ایل کے لیے حکومت کے پسندیدہ ترین نمائندے ہیں ،ایک عرصے سے حکمراں طبقے کی اہم ترین شخصیات کی قربت انہیں حاصل ہے؛ اس لیے متعلقہ وزارت میں وہ اپنی بات کافی باوزن طریقے سے رکھ سکتے ہیں اور کسی بھی پروپوزل کو بڑی آسانی سے پاس کرا سکتے ہیں؛ لیکن ابھی تو ان کے سامنے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وزارت نے گزشتہ ایک سال سے کونسل میں ایگزیکیٹیو باڈی ہی نہیں ہے۔
پہلے مرحلے میں انہیں چاہیے کہ وہ جلد ازجلد ایگزیکیٹیو باڈی کی تشکیل کی فکر کریں؛ کیونکہ یہی باڈی ڈائریکٹر کو کام کرنے کے تمام اختیارات منتقل کرتی ہے اورمنصوبوں کو ہری جھنڈی دیتی ہے، کونسل کی ڈائریکٹر شپ ایک عجیب و غریب قسم کی پیچیدہ ذمے داری والا کام ہے، کونسل کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں اب تک جو آیا ،سسٹم کے ساتھ چلنا سیکھ لیا،شیخ عقیل کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اردو کا کھویا ہوا وقار اور مقام کیسے دلائیں گے؟ ابھی کچھ ماہ قبل ہی ہندوستان میں اردو کے حوالے سے دل خراش اورغم ناک خبریہ آئی تھی کہ اردو زبان ،جو چھٹے مقام پر تھی ،اب گر کر ساتویں مقام پر پہنچ گئی ، یعنی ہندوستان کا اردو حلقہ دن دن بدن محدود ہوتا جارہا ہے، یہ بھی معلو ہوا ہے کہ کونسل ہندوستان بھر میں اردو کی بقا کے لیے 1600 اردو اخبارات کو اشتہارات کے ذریعے آکسیجن فراہم کرتی ہے، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ابھی تک اردو ڈیجیٹل کا کوئی بجٹ نہیں تھا ؛لیکن اب ضرور بنائیں گے ، اردو نیوز پورٹلس واردو ویب سائٹس کو مالی تعاون دینے کی کوئی شکل نکالی جائے گی،ایسا لگتا ہے کہ شیخ عقیل اس وقت انتقامی جذبے سے بے تاب ہیں، انہیں چاہیے کہ انہیں جو کچھ وقت ملا ہے اسے انتقامی کاروائی میں ضائع کرنے کی بجائے، کسی لکیر کو مٹانے میں توانائی صرف کرنے کے بجائے اپنی لکیر لمبی کرلیں ، یہ سب سے بڑا جواب ہوگا، یہ جواب زیادہ مناسب ہے اور محفوظ بھی؛ کیونکہ تین سال بعد انہیں بھی آخر کار این سی پی یو ایل کو الوداع ہی کہنا ہوگا۔
ashrafbastavi@gmail.com

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*