30 C
نئی دہلی
Image default
قندیل

قندیل فکرونظر

قندیل فکرونظر
جب راہیں تاریک ہوں اورگردوپیش کاسناٹا ذہن ودماغ میں مہیب خطرات اوراندیشے  پیداکررہاہو، توایسے میں کسی مشعل کی ضرورت شدید ہوجاتی ہے، جو  اندھیاروں سے صحیح سالم نکلنے میں ہماری معاون ثابت ہوسکے، ٹھیک اسی طرح جب ذہن وفکرکے پردوں پرپراگندہ اوہام وافکارکی تاریکیاں بکھرجائیں اورسوچنے سمجھنے کی اجتماعی قوت مختل سی ہونے لگے، توایسے میں ایک قندیلِ راہنماکی ضرورت ہوتی ہے، جو ہمارے فکری وجودکوتاریکیوں سے نکال کرروشنیوں کی طرف لے چلے، ایسی روشنیوں کی طرف، جوبالآخرنفس وقلب کی سعادت اورجسم وروح کی سلامتی کاسبب بنے ـ
فی الوقت ہمیں کئی محاذوں پراجتماعی محنت وجدجہدکی ضرورت ہے، ان میں میڈیاعصرِ حاضرکی ایک زبردست ضرورت ہے، میڈیا ایک ایسی ہمہ گیروہمہ رنگ طاقت کی صورت اختیارکرچکاہے کہ جو بڑی بڑی فوجوں کازوداثر متبادل ثابت ہورہاہے،اس کاپلیٹ فارم ہرطبقۂ انسانی کے لیے کھلاہے، اس کی نئی پرانی صورتوں تک ہرمذہب کے پیروکاروں کی رسائی ہے، اس میں ہونےوالی دھماکہ خیزودھمال انگیزتبدیلیاں اورترقیات ہم سب کے سامنے ہیں، اب یہ ہرقوم پرمنحصرہے کہ وہ میڈیاکی غیرمعمولی قوت کواپنے حق میں کس طرح استعمال کرتی ہے ـ
حالاں کہ مسلمانوں میں مجموعی طورپراس تعلق سے تاہنوزبہت زیادہ بیداری کامظاہرہ نہیں ہورہا، پھربھی اپنی اپنی حدتک نئی نسل کاایک بڑاذی علم وباشعورطبقہ میڈیاکے مختلف شعبوں سے وابستہ ہوکر نہ صرف اپناکیریئربنارہاہے؛ بلکہ قوم کے حق میں بھی کچھ نہ کچھ مثبت کام کررہاہے ـ
اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ کے عالمی سطح پرپھیلاؤکے بعدمیڈیاکی ایک نئی اورحیرت انگیزشکل سامنے آئی، گوگل، یوٹیوب اوراس کے بعد سوشل میڈیاکی مختلف سائٹس نے نوجوانوں کوکہیں سے کہیں پہنچادیاہے، ایک انسان جوابھی ہندوستان کے کسی دوردرازخطے میں بیٹھاہے، وہ وہیں سے سیکنڈوں کے دوران ہندوستان کے کسی دوسرے دور درازعلاقے یامثلا ریاستہاے متحدہ امریکہ یاکسی بھی دوسرے ملک میں بیٹھے ایک شخص سے نہ صرف بات کرسکتاہے؛ بلکہ اس کی حرکت وعمل کابھی ہوبہومشاہدہ کرسکتاہے،آج سے ایک دوصدی پیشترتک اگرکسی کویہ بات کہی جاتی، تواسے یہ ایک طلسماتی کہانی لگتی، مگراکیسویں صدی میں یہ ایک حقیقت ہے، جس سے ہم سب ہرگھڑی روبروہورہے ہیں ـ
سوشل میڈیایاانٹرنیٹ کوبھی تعمیری صحافت، صالح فکرکی ترسیل، نفع بخش ادب کی تخلیق واشاعت کے لیے استعمال کیاجاسکتاہے اوراسے چند منٹوں میں دنیاکے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچایابھی جاسکتاہے، بہت سے ادارے، افراد واشخاص ایساکربھی رہے ہیں اوراس کے بہترنتائج بھی مرتب ہورہے ہیں ـ
ہم نے بھی اسی مقصدسے "قندیل آن لائن "نامی یہ بلاگ یاپورٹل شروع کیاہے، اس کابنیادی مقصد متوازن، صالح فکرکی ترجمانی اوراس سے متعلق اچھے مضامین کی اشاعت، بلاکسی سسپنس اور کذب وافتراکی آمیزش کےصحیح خبروں کی ترسیل، علمی وفکری شخصیات کامطالعہ اورادب وتخلیق اورتجزیہ وتنقید کے مفیدونتیجہ خیزپہلووں پرسنجیدہ اہلِ قلم کی نگارشات کوآپ تک پہنچاناہے ـ اگر آپ کاعلمی، فکری وقلمی تعاون ہمارے شاملِ حال رہا، تونہ صرف ہم اس پورٹل کے کے معیارواعتبارمیں اضافے کی جدوجہد کریں گے؛ بلکہ جلدہی "قندیل "نامی مطبوعہ میگزین کے اجراکابھی ارادہ رکھتے ہیں ـ

متعلقہ خبریں

14 comments

ابواللیث دسمبر 6, 2017 at 7:03 شام

ماشااللہ

Reply
حماد خان دسمبر 13, 2017 at 7:46 شام

ماشاءاللہ، ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔ بہت عمدہ پورٹل شروع کیا گیا ہے تمام منتظمین قندیل مبارکباد کے مستحق ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔دعا ہے کہ مولی کریم اس راہ میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین

Reply
Abdul Malik دسمبر 14, 2017 at 7:21 شام

آمین ثم آمین

Reply
قندیل دسمبر 16, 2017 at 7:07 شام

آمین

Reply
عبید الرحمن قاسمی دسمبر 13, 2017 at 11:31 شام

قندیل فکر و نظر کا پیج دیکھ کر دلی خوشی ہوئی. ماشاءاللہ نوجوان فضلا اس سمت میں بہت اچھی اور کارآمد کوشش کر رہے ہیں. اللہ خو ب ترقیات سے نوازے. آمين

Reply
Abdul Malik دسمبر 14, 2017 at 7:22 شام

آمین ثم آمین

Reply
عمران عاکف خان دسمبر 14, 2017 at 4:14 شام

رات کے پچھلے پہر ہو جیسے اجالا
جلتی رہے ایسے ہی یہ قندیل مسلسل

Reply
قندیل جنوری 13, 2018 at 9:49 شام

آمین

Reply
فراز خان دسمبر 16, 2017 at 2:49 صبح

کبھی نہ بجھے تیری قندیل روشن
ہوا کرے گی اس سے تاریکیاں دور

Reply
قندیل دسمبر 16, 2017 at 10:20 شام

آمین

Reply
بلال احمد بانکوی قاسمی جنوری 6, 2018 at 10:23 شام

ایک مستحسن قدم، خدا استقامت کی راہ ہموار کرے

Reply
عفان احمد قاسمی جنوری 8, 2018 at 10:18 شام

ہماری یہ دعا ہے کہ قندیل یونہی ضیا پاشی کرتارہے, اور عوام کی آواز اٹھاتا رہے, صحافت کی تاریک گلیوں میں اس کی ضیا سے کافی امیدیں ہیں.

Reply
قندیل جنوری 8, 2018 at 10:24 شام

آمین

Reply
عفیفہ تبسم فروری 24, 2018 at 10:51 شام

ماشااللہ بہت خوب ۔۔۔رب کائنات قندیل کو خوب ترقیات سے نوازے

Reply

Leave a Comment