قصہ ’’مولانا‘‘ کے تھپڑ کا!

غلام مصطفیٰ نعیمی(ساؤتھ افریقہ)
آج کل ’’تین طلاق‘‘ کے ساتھ ”تین تھپڑ” بھی خوب ٹرینڈ میں ہیں،17 جولائی 2018ء کو ”زی ہندوستان”نامی ایک غیر معروف ٹی وی چینل پر مباحثہ کے درمیان دہلی کے مولانا اعجاز ارشد قاسمی نے سپریم کورٹ کی وکیل سے ایک تھپڑ کھانے کے بعد یکے بعد دیگرے تین تھپڑ رسید کرکے خوب سرخیاں بٹوریں اور دیکھتے ہی دیکھتے مولانا کے ساتھ یہ غیر معروف ٹی وی چینل بھی مشہور ہوگیا۔
اصل معاملہ کیا تھا؟
بریلی کی ندا نامی لڑکی کے حلالہ کے متعلق دیے گئے غیر شرعی بیانات پر مرکزی دارالافتا بریلی سے ایک فتوی جاری کیا گیا ہے،اسی فتوے پر مسلمانوں اور علما کو بدنام کرنے کے لئے یہ ڈبیٹ سجائی گئی تھی،جس میں یہ چار افراد شامل تھے:
1۔مولانا اعجاز ارشد قاسمی
2۔ یاسر جیلانی
3۔ فرح فیض عرف لکشمی ورما
4۔ عنبر زیدی
ان چار کے علاوہ اینکر بھی بی جے پی نواز ہی تھی،یعنی چار بی جے پی حامی اور مذہب بیزار افراد کے مابین ”مولانا قاسمی” تنہا تھے،اب ایک نظر چاروں پینلسٹ کے پروفائل پر ڈال لیتے ہیں ؛تاکہ اندازہ ہوجائے کہ اسلامی احکام پر رائے دینے کے لییکیسے اسلام پسند لوگ جمع ہوئے تھے۔
شُرَکا (Panelist) کا بیک گراؤنڈ:
اس ڈبیٹ میں موجود افراد کا بیک گراؤنڈ اس طرح ہے:
1۔مولانا اعجاز ارشد قاسمی:
دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل، مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن، نیز ملی معاملات میں بظاہر خاصے ایکٹیوہیں۔
2۔فرح فیض عرف لکشمی ورما:
محترمہ آر ایس ایس کی خواتین وِنگ ”مسلم راشٹریہ مہیلا سنگھ” کی صدر، بی جے پی کارکن، گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی بھکت اور سپریم کورٹ کی وکیل ہیں۔محترمہ خاصی فراخ دل اور کشادہ ذہن واقع ہوئی ہیں،اسی کشادہ قلبی کی وجہ سے انہیں مسلم سماج میں کوئی شوہر نہیں ملا، تو انہوں نے ”ونود ورما” نامی ایک غیر مسلم سے شادی کر لی؛اس لئے ان کا اصلی نام ”لکشمی ورما” ہے،سابقہ نام ”فرح فیض” کا استعمال صرف مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے کرتی ہیں۔
3۔سید یاسر جیلانی:
آنجناب آر ایس ایس کے ”مسلم راشٹریہ منچ” کے یوتھ کوآرڈنیٹر اوربی جے پی کارکن ہیں،جیلانی صاحب بھی ”تنگ نظر” نہیں ہیں ؛اس لیے ماتھے پر ٹیکا بھی لگاتے ہیں، ہولی بھی کھیلتے ہیں اور غیر مسلموں کی تصویروں پر پھول مالا چڑھا کر اپنے ہندو بھائیوں کو خوش رکھنے میں بخل نہیں کرتے۔
4۔ عنبر زیدی:
موصوفہ فلم پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور سوشل ایکٹوسٹ (social activist) ہیں،نیز مسلم خواتین سے جڑے مسائل پر میڈیا فرینڈ۔
ان چاروں کے پروفائل پر نظر ڈالنے کے بعد ایک عام بندہ بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ جس ڈبیٹ کے چار شرکا میں سے تین آر ایس ایس کے کارکن اور مذہب بیزار افراد ہوں، وہاں ان سے کسی اسلامی مسئلے پر کسی مذہبی ادارے کے فارغ التحصیل کا مباحثہ کرنا کہاں تک درست اور عقل مندی ہے؟
مقابلۂ تھپڑ بازی:
ایسی ڈبیٹس میں بات کم اور ہُلڑبازی زیادہ ہوتی ہے؛اس لیے موجودہ ڈبیٹ کی کلپس میں بھی شور زیادہ ہے،پھر بھی”تھپڑبازی” کی جو کلپس وائرل ہوئی ہیں، ان کو غور سے دیکھااور سنا جائے، تو چند باتیں صاف سنائی دیتی ہیں،تنازع کیوں بڑھا ،اس کے لییچار سین سمجھنے ضروری ہیں:
پہلا سین:
مباحثہ کے دوران مولانا قاسمی اور عنبر زیدی کے مابین تکرار ہوجاتی ہے اور عنبر زیدی بڑی بدتمیزی کے ساتھ مولانا سے کہتی ہے:
”میں تمہارا منہ توڑ دوں گی”۔
جواب میں قاسمی صاحب کہتے ہیں ”میرے پاس بھی جوتا ہے‘‘۔
جیسے ہی مولانا نے یہ کہا، فوراً ہی اینکر مولانا پر برس پڑتی ہے کہ آپ مولانا ہوکر ایسی بات کرتے ہیں،فوراً معافی مانگیے!اور زیدی صاحبہ ایسے بلک بلک کے روتی ہیں گویااُن پر آسمان ٹوٹ پڑا ہو،ویسے عنبر صاحبہ فلم پروڈیوسر ہیں؛ اس لیے اتنی ایکٹنگ تو آنی بھی چاہیے؛لیکن اینکر کا تعصب دیکھنے لائق ہوتا ہے کہ وہ عنبر زیدی کے منہ توڑنے والے بیان پر ایک لفظ نہیں کہتی؛ لیکن مولانا کے جوتے والے بیان پر معافی کا مطالبہ کرتی ہے۔
دوسرا سین:
اینکر ٹیلی فونک لائن پر جڑی ندا سے کچھ پوچھ رہی ہوتی ہے کہ مولانا قاسمی کی آواز آتی ہے ”دیکھئے یہ(لکشمی ورما) ہمارے ساتھ بدتمیزی کر رہی ہیں،ہم بھی انسان ہیں (شاید اینکر اور شرکا مولانا کو کسی اور سیارے کی مخلوق سمجھ رہے ہوں گے) آخر کب تک برداشت کریں گے؟‘‘
جواب میں لیڈی اینکر مولانا کو ٹالنے والے انداز میں کہتی ہے کہ’’ ٹھیک ہے مولانا! ان کو بول دیا ہے ،اب آپ ذرا خاموش ہوجائیں،ایک گھنٹے کا پروگرام ہے، ذرا کچھ ان(ندا)سے پوچھنے دیں‘‘۔
تیسرا سین:
اینکر سے فریاد کے باوجود مولانا پر فرح عرف لکشمی کا حملہ جاری رہتا ہے اور مولانا کے یہ کہنے پر کہ ”ہم بھی انسان ہیں” وکیل صاحبہ کہتی ہیں کہ ”تم انسان نہیں جانور ہو‘‘(ہم نے تو پہلے ہی کہا ہے کہ وہ مولانا کو انسان سمجھ ہی نہیں رہی تھی) اتنا سنتے ہی مولانا غصے میں کہتے ہیں کہ ”جانور تم ہو‘‘جیسے ہی مولانا نے یہ جملہ کہا،فوراً ہی اینکر مولانا پر برس پڑی اور کہا کہ ’’مولانا ہوکر عورت کو گالی دیتے ہو؟ شرم نہیں آتی‘‘۔(لکشمی ورما نے جانور کہا ،تو خاموشی؛لیکن مولانا نے کہا تو گالی!!)
چوتھا سین:
فرح عرف لکشمی ورما کے جانور کہنے کے جواب میں جیسے ہی مولانا نے جانور کہا ،سبھی پینلسٹ کھڑے ہوگئے اور اس عورت نے مولانا کو ”پاکھنڈی ،ڈھونگی” کہنا شروع کر دیا،جواباً مولانا بھی اس کے لفظوں کو اس پر لوٹاتے گئے، حتی کہ اس عورت نے کمال بدتمیزی کرتے ہوئے مولانا کے گال پر چپت لگا ہی دی، بس اس کے بعد مولانا نے ایک کے بعد ایک تین کرارے تھپڑ لگا کر وکیل صاحبہ کو مردانہ قوت کا بھرپور احساس کرا دیا۔
ویسے ویڈیو غور سے دیکھا جائے ،تو اس تھپڑ بازی ڈرامے میں یاسر جیلانی کا رول سب سے اہم ہے،جب فرح عرف لکشمی ورما اور اعجاز ارشد قاسمی کھڑے ہو کر ایک دوسرے پر برس رہے تھے ،تب یہ یاسر جیلانی فرح لکشمی ورما کے بائیں طرف تھے اور بظاہر لکشمی ورما کا بایاں ہاتھ پکڑ کر روکنے کی کوشش کر رہے تھے،اِسی دوران انھوں نے ویڈیو میں نظر نہ آنے والے کسی شخص کی طرف دیکھا،ایسا لگ رہا ہے کہ وہ کسی کے اشارے کے منتظر تھے اور اشارہ پاتے ہی تیزی سے فرح فیض عرف لکشمی ورما کے داہنی طرف گئے اور لکشمی ورما کا داہنا ہاتھ پکڑ کر زبردستی مولانا کے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کروا دیا،جس کے جواب میں مولانا قاسمی نے تین بار ہاتھ چلایا، مگر ایک بھی صحیح سے نہیں لگا۔
چینل کا متعصب چہرہ:
اس تماشے کے فوراً بعد چینل نے مولانا کی آڑ میں مسلمانوں کی کردار کشی شروع کردی،چینل کا تعصب دیکھیے:
جب لکشمی ورما عرف فرح نے مولانا کو تھپڑ مارا وہ کلپ بالکل نہیں دکھائی،جب کہ مولانا والی کلپ مسلسل دکھائی جارہی ہے۔
عنبر زیدی کے منہ توڑنے والے بیان کو بالکل ہضم کرلیا اور مولانا کے بیان کو ”بدتمیزی”کہہ کر ابھی بھی نشر کیا جارہا ہے۔
مارپیٹ کی وجہ سے پولیس بلا کر مولانا کو گرفتار کرایا گیا، حالانکہ مارپیٹ کی شروعات خود لکشمی ورما عرف فرح نے کی تھی،اصولاً اس کو بھی گرفتار کرانا چاہیے تھا۔
اس واقعے کے بعد چینلز والوں کی منہ مانگی مراد پوری ہوگئی؛کیوں کہ ان کا پروپیگنڈہ یہی تھا کہ ”مسلم معاشرے میں عورتوں کو آزادی نہیں ہے” اور مولانا قاسمی نے اپنی نادانی سے ان کو ثبوت فراہم کر دیا۔مولانا کو پہلے ہی سوچ لینا چاہیے تھا کہ جو عورت آر ایس ایس کے لیے کام کرتی ہو، اسلام کو چھوڑ کر ایک ہندو کی بیوی بنی ہو،وہ کیا اسلام کو جانتی ہوگی اور کیا علما کی عزت کو؟لیکن افسوس! قاسمی صاحب کی نادانی نے خوب جگ ہنسائی کرائی،اگر تھپڑ کھا کر چلے آتے ،تو بے غیرت کہلاتے اور اب جوابی تھپڑ مار کر بدتمیز کہلا رہے ہیں۔
کیا سبق سیکھیں گے علما؟
شہرت کی ہوس کے شکار کئی علما ان چینلز کی ڈبیٹ میں جانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور وہاں جاکر اپنی اور قوم مسلم کی بے عزتی کراتے ہیں،جب کہ ایک عام مسلمان بھی یہ جانتا ہے کہ اس وقت میڈیا کا بڑا حصہ بی جے پی کا حامی ہے،حتی کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے نیتاؤں کو بھی یہ میڈیا جھوٹی اسٹوری چلا کر بدنام کرتا ہے، تو مسلمانوں کی تو اوقات ہی کیا ہے؟ لیکن پھر بھی پانچ ہزار کے لفافے اور ٹی وی پر آنے کے شوقِ بیجا میں کئی مولوی نما چہرے مسلسل ان ڈبیٹس میں جاتے ہیں اور جگ ہنسائی کراتے ہیں،ایسے بھی کئی مولوی ہیں، جو اندر خانہ آر ایس ایس کی پالیسی کے لیے کام کرتے ہیں اور پلان کے مطابق بظاہر ان کی مخالفت کرتے ہیں ؛لیکن درمیان میں کچھ کچی باتیں کہہ دیتے ہیں، جس سے آر ایس ایس اور بی جے پی کو اپنا فرقہ وارانہ کارڈ کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے اور اسی مقصد کے لیے ایسے مولویوں کو چینلز پر بلایا جاتا ہے۔اب جملہ مکاتبِ فکر کے سنجیدہ علما کو چاہیے کہ وہ آر ایس ایس نواز چینلز کا بائکاٹ کریں اور شریک ہونے والے مولویوں کو سختی سے روکیں ،ورنہ ان کا بھی عملی بائکاٹ کریں ؛تاکہ ان کی وجہ سے قوم اور مذہب بدنام نہ ہوں۔
gmnaimi@gmail.com

  • محمد ذوالفقار
    20 جولائی, 2018 at 22:41

    آپ نے بھت ہی اچھے انداز میں لکھا ہے جزاک اللہ
    علماء کے پاس کام بھت زیادہ اور وقت بھت کم مجھے افسوس اس بات کا ہیکہ اس مولوی صاحب کو کوئی دوسرا کام نھیں ملا اور یہ آر ایس ایس کی گود میں بیٹھ کر اپنا پیٹ پالتا ہے اور علماء اور مسلمانو ں کی بد نامی کا ذریعہ بنتا ہے کتنی بار اس کو خاموش کراکے گویا مسلموں کو لاجواب کر دیا

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*