قاضی عبدالستار کی وفات اردو فکشن کے ایک روشن باب کا خاتمہ: ڈاکٹر شیخ عقیل احمد

قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں قاضی عبدالستار کے انتقال پر تعزیتی نشست
نئی دہلی(پریس ریلیز)
ممتاز فکشن نگار پدم شری قاضی عبدالستار کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ قاضی عبدالستار کی وفات سے اردو فکشن کے ایک روشن باب کا خاتمہ ہوگیا۔ان کی تخلیقی نثر میں جو جزالت اور قوت تھی اس سے ان کے بیشتر معاصرین محروم تھے۔ ان کا ہر لفظ بولتا ہوا سا لگتا تھا۔ انھوں نے اردو فکشن کو اقدار پر مبنی تہذیبی منظرنامے سے روشناس کرایا۔ زبان و بیان کی قوت سے اردو فکشن کو مالامال کیا۔ ان کا بیانیہ ان کے ہمعصر ناول نگاروں سے مختلف ہے۔ انھوں نے زمیندارانہ نظام کی بہت ہی خوبصورت اندازمیں عکاسی کی ہے۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے قاضی عبدالستار کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اردو کو بہت سے اہم تاریخی ناول دیے ہیں جن میں داراشکوہ، صلاح الدین ایوبی، خالد بن ولید قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ شب گزیدہ، حضرت جان، تاجم سلطان ان کے اہم ناول ہیں جو معاصر تنقیدی ڈسکورس کا حصہ ہیں۔ وہ صرف فکشن نگار نہیں تھے بلکہ ادب کے عمدہ پارکھ بھی تھے۔ ان کے بہت سے تنقیدی فقرے آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ اردو شاعری میں قنوطیت، جمالیات ان کی اہم تحقیقات ہیں۔ ان کے شخصی کوائف پر روشنی ڈالتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر نے کہا کہ قاضی عبدالستار ایک سچے اور کھرے آدمی تھے۔ انھیں اپنی حق گوئی اور صداقت بیانی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا لیکن انھو ں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انھوں نے اپنی کجکلاہی آخری سانس تک قائم رکھی۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ قاضی صاحب نے مسلم یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے بہت اہم خدمات انجام دیں اوراپنے شاگردوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جس پر پوری ادبی دنیا ناز کرسکتی ہے۔ ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ اردو فکشن کو قاضی عبدالستار کی جو عطا ہے اسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ فکشن تنقید ان کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔
قاضی عبدالستار کے انتقال کی خبر ملتے ہی قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں کونسل کے جملہ اسٹاف نے شرکت کی اور دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے قاضی عبدالستار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔