قاضی عبدالستار ایک دبستان تھے: پروفیسر ابن کنول

نئی دہلی:29؍ اکتوبر(پریس ریلیز)
شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی کے استاد اور قاضی عبدالستار کے عزیز شاگرد پروفیسر ابن کنول نے مشہور فکشن نگار قاضی عبدالستار کے وفات پر اردو ریسرچ جرنل کے دفتر میں منعقد ہ تعزیتی نشست میں اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا کہ قاضی عبدالستار ایک دبستان تھے۔ ان کی رہنمائی، سرپرستی اور ان کے قدموں میں بیٹھ کر نہ جانے کتنے افسانہ نگاروں نے لکھنا سیکھا۔ وہ ایک خاص اسلوب اور موضوع کے موجد تھے جو ان کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔ تاریخی ناول نگاری کو قاضی صاحب نے ایسا وقار بخشا جو ناقابل تقلید ہے۔ ان کے افسانوں میں اودھ کی مٹتی ہوئی تہذیب کی عکاسی کی گئی ہے۔ ان کے تاریخی ناول عظیم شخصیات کی عظمت کو بیان کرتے ہیں ۔ قرۃ العین حیدر کے بعد اردو فکشن کی تاریخ کا یہ ایک ناقابل تلافی حادثہ ہے۔ ڈاکٹر محمد کاظم نے قاضی عبدالستار کے انتقال پرافسوس ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب نے تقریباً ستر سال اردو کی خدمت کی۔ زندگی میں پریشانیوں کے باوجود ان کا قلم کبھی رکا نہیں۔ وہ آخر وقت تک لکھتے رہے۔ وہ ایک بے باک قلم کار اور بے خوف انسان تھے۔ ان کے یہاں مصلحت پسندی نہیں تھی۔ اردو ریسرچ جرنل کے مدیر ڈاکٹر عزیر اسرائیل نے قاضی صاحب کے انتقال کو اردو کا ایک بڑا نقصان بتاتے ہوئے کہاکہ قاضی صاحب ایک بے باک قلم کار اور بے خوف انسان تھے۔ شاداب شمیم، عبدالسمیع، شاہد اقبال، سراج الحق اور سطوت اللہ خالد وغیرہ نے بھی تعزیتی کلمات کا اظہار کیااو رمرحوم قاضی عبدالستار کے لیے مغفرت کی دعا کی۔