Home ستاروں کےدرمیاں قابل اجمیری :جدید غزل کے پیش رَو!!

قابل اجمیری :جدید غزل کے پیش رَو!!

by قندیل

عمران عاکف خان
ا س دنیائے مظاہر میں گوناگوں اور نوع بہ نوع کے ایسے کتنے ہی حیرت ناک واقعے رو نما ہوئے ہیں جنھوں نے تاریخ اور روایتوں کے دھاڑے موڑے ہیں ۔ چنانچہ صدیوں بعد بھی ان کے نشانات باقی ہیں اور ان سے متاثر یا فیض یاب ہونے والی جماعتیں، قومیں،خطے ، ممالک، عقیدے،عقیدتیں انھیں یاد رکھے ہوئے ہیں اور نسلاً بعد نسلٍ ان رسوم و روایات کو اپناتی چلی آرہی ہیں ۔
اسی دنیامیں کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کی صنعت وخلاقیت کے ایسے نشان بھی مل جاتے ہیں جنھیں کمال صنعت کہنے کو بے اختیار دل چاہتا ہے اور پھر صانعِ حق کے سامنے خود بہ خود سرجھکتے چلے جاتے ہیں،تا کہ اس کے مظاہر حق کا اعتراف اور یقین مضبوط ہوسکے اور اس کی تعریف کا فریضہ بھی۔جس کا ذکر چل رہا ہے اس کی صنعت کے کرشمے یہ ہیں کہ وہ اگر چاہے تو ذرے کو آفتاب بنا دے اور اگر نہ چاہے تو آفتاب وماہتاب بھی ذرے بن جائیں ۔وہ بہت کم عرصے میں بڑا کام لینے کا ہنر اپنی خلقت اور بندوں سے بہت اچھی طرح سے جانتا ہے۔بلکہ خود اس نے بھی محض چھے دنوں کے مختصر ترین عرصے میں بزم کاینات سجادی۔بے حیثیت اور کمزور بندوں سے بڑے بڑے کام لینے کے تو تاریخ میں ایسے کتنے ہی واقعات درج ہیں جن کے سنہری حروف اس حقیقت کا بیان ہیں ۔
ہماری تاریخ اردو شعرو ادب میں بھی صانع حق نے ایک ایسا شاہ کار پیدا کیا تھا ،جسے حسب دستور کم عمرملی مگر اسی مختصر زندگی میں اس سے ایسے کام لیے کہ ان پر اردو دنیا کو نازہے۔عبد الرحیم قابل ؔ اجمیری نام تھا اس شاہ کار کا۔جنھیں عمر عزیز کے کل 32برس ملے ۔جن میں سے بارہ برس محض اردوشاعری کے لیے ملے اور وہ اسی انگلیوں پر گنے جانے والے عرصے میں اردو دنیا پر اپنی دائمی چھاپ چھوڑگئے۔قابلؔ اجمیری کے انتقال کو حالاں کہ نصف صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے مگر اب تک ان کے حقیقت افروز اور سدا بہار اشعار زبان زد عوام خواص ہیں:
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے!
عشق انسان کی ضرورت ہے!!
حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے !
صرف احساس کی ضرورت کی!!
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ !
زندگی کو مری ضرورت ہے !!
**
وقت کرتا ہے پرورش برسوں!
حادثے اک دم نہیں ہوتے!!
**
اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے!
تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے، ہم فغاں تک آ گئے!!
خود تمھیں آجائے گا چاک گریباں کا شعور!
تم وہاں تک آ تو جاؤ، ہم جہاں تک آگئے!!
آج قابلؔ میکدے میں انقلاب آنے کو ہے!
اہلِ دل اندیشۂ سود و زیاں تک آ گئے!!
**
تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیے!
لیکن علاجِ تنگیِ داماں نہ کر سکے!!
اک والہانہ شان سے بڑھتے چلے گئے!
ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کر سکے!!
**
کیسا شراب خانہ کہاں کا صنم کدہ!
کعبہ میں لْٹ گیا ہے مسلماں کبھی کبھی!!
**
کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں!
زندگی آج ترا قرض چکا دیتے ہیں!!
یہ وہ آواز ہے جو 1950کے قریب دنیا میں جدید لب ولہجے اورقدیم روایت میں جدت کے اسلوب میں گونجی۔اس آواز کا گونجنا تھا کہ ترقی پسند غزل( محض نعرے بازی) سے تنگ شائقین اردو شعرو ادب اس کے گرد جمع ہونے لگے۔یہ کون ہے؟یہ آواز کہاں سے آرہی ہے؟کتنی گہرائی سے یہ صدا،یہ آہنگ،یہ اسلوب،یہ طرح نکل کرآرہی ہے؟ان سوالات نے جب شدت کی شکل اختیار کی تو انھیں بتایا گیا کہ یہ ’عبد الرحیم قابل اجمیری‘کا سوز وساز ہے۔بس پھر کیا تھا اس وقت کے اہم شعرا اور قابل قدر نقادوں نے اس کا کھلے دل سے استقبال کیا اور ایک بڑا طبقہ قابل تفہیم میں مصروف ہو گیا۔ان کے اشعار کے تجزیے ہونے لگے اور ان پر تنقیدنما بصیرت افروز مضامین کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جن میں عاشق حسین سیماب اکبر آبادی، علی سکندر جگر مرادآبادی،ڈاکٹر عبادت یار خاں عبادت بریلوی،محمود ہاشمی،سحر انصاری،ڈاکٹر فرمان فتح پوری ،ماہر القادری،رئیس امروہوی وغیرہ کے نام نمایاں طور پر لیے جاسکتے ہیں ۔
قابل ؔ اجمیری کی شاعری اور شعر پارے محض برائے شاعری ہی نہیں ہیں بلکہ ہماری جدید روایت اور دستور کے ترجمان ہیں۔اس وقت انسانیت ، عوام و خواص،بڑی طاقتوں کے ظلم و جور سے تنگ آدمیت جن حالات سے دوچار تھی،اس کے بعد جو مسائل درآئے تھے اور انھوں نے گھروں و آبادیوں کو نگلنا شروع کر دیا تھا،ان سب کی عکس بندیاں ہمیں قابل کی شاعری میں ملتی ہیں ۔اگر دو لفظوں میں کہا جائے تو قابل کی شاعری ایک گہرے دکھ اور کرب کا عنوان ہے اور اس فرض کی ادائیگی جو ان حالات میں واجب ہوچکا تھا۔دل چسپ بات یہ ہے کہ قابلؔ کے اس اظہار دردوکرب کے احساس نے اردو شاعری کو ’ جدید غزل‘ کاراستہ دکھا دیا۔
عبد الرحیم قابلؔ اجمیری27 اگست 1931 کو اجمیر شریف کے محلے چرولی میں عبد الکریم اور گلاب بیگم کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ نے اجمیر شہر کے مدرسہ نظامیہ(جونظام حیدرآباد دکن کے زیر انتظام چلتاتھا) میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ محض14 برس کی عمر سے ہی شاعری کر نے لگے اور ارمانؔ اجمیری ومولانا عبدالباری معنیؔ اجمیری سے اصلاح لینے لگے۔ماں باپ کاسایہ سات سال کی عمر میں آپ کے سر سے رخصت ہو گیا ۔والد صاحب تپ دق کے مرض میں مبتلا ہو کر چل بسے اور والدہ ان کے غم میں مالک حقیقی سے جاملیں۔ قابل ؔ اس بھری پری دنیا اور کر بناک ماحول میں اکیلے رہ گئے اسی ماحول میں ان کے بھا ئی محمد شریف نے ان کی پر ورش کی ۔ اس وقت پوری دنیا جنگ عظیم دوم کے زخم چاٹ رہی تھی اور اس کے نتیجے میں بر پا ہونے والی مشکلوں کے اثرات دیگر ممالک کی طرح ہندوستان پر بھی پڑرہے تھے دوسری طرف تقسیم کی قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔جس نے وہ حشر بپا کیا کہ تاریخ انسانیت میں ایسے واقعات کم ہی نظر آتے ہیں۔پورے ملک میں نارتھ پول سے ساؤتھ پول تک اضطراب اور کشاکش کے مہیب دور شروع ہوگئے۔ ریاستوں کا غرور اور وجودٹوٹنے لگا ۔ جگہ جگہ فسادا ت اور آگ زنی ،بربادی ،عصمت دری،قتل و خون کے واقعات رونما ہونے لگے۔ان ہی سیریل اٹیکس اور مسلسل ٹریجڈیوں کو قابل نے اپنے ارد گرد محسوس کیا اور نہایت قریب سے دیکھا۔اس کا منطقی اثر یہ ہوا کہ آپ شاعربن گئے اور وہ درد و کرب،آہنگ،وہ دکھ اور سوز آپ کی شاعری میں اتر آیا۔ملک آزاد کیا ہوا ؟ہونا تھا آباد،برباد ہوگیا۔آزادی کی آڑ میں تقسیم کے شعلے بلند سے بلند ہوتے جارہے تھے نیز ہندوستانی مسلمانوں پر زندگی کا قافیہ دانستہ تنگ کیا جارہا تھا ۔ایسے حالات میں جنوری 1948 میں ، قابلؔ اجمیری بھی سرحد پار جانے والے ایک قافلے میں شامل ہوکر، اپنے چھوٹے بھائی محمد شریف کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے اور حیدرآباد ، سندھ میں قیام پذیر ہوئے۔
پاکستان آنے کے بعد قابلؔ اجمیر ی کو کچھ قدردان ملے مگر اتفاق سے وہ بھی شاعر تھے۔جنھوں نے قابل کو مشاعروں کی راہ دکھائی ۔چنانچہ انھوں نے مشاعروں میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ،وہاں امید سے زیادہ حصہ ملا اور وہ مقبول ترین شاعر بن گئے۔نیز ان کا شمار اختر انصاری اکبر آبادی، محسن بھوپالی سمیت حیدرآباد کے عظیم شعرا میں ہونے لگا اور انھیں محض 21 سال کی عمر میں اردو کے’سینئر ‘ شاعرکی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ۔قابل نے جدید غزل کی روایت کو آگے بڑھانے میں اہم کارنامہ انجام دیا بلکہ اگر انھیں جدید غزل کا پیش رَو کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔قابل کے شاگردوں میں حمایت علی شاعرؔ جیسے اہم ترین شعرا کا نام آتا ہے ۔
پاکستان میں قابلؔ اجمیری ادبی جریدے ‘نئی قدریں ‘ کے مدیر و مالک اختر انصاری اکبر آبادی کی سرپرستی میں رہنے لگے اور گزر بسر کے لیے حیدرآباد (سندھ) کے روزنامے’جاوید‘میں قطعہ نگاری کا آغاز کیا۔ اس کے بعد حیدرآباد ہی کے ایک اور ہفت روزہ جریدے ’آفتاب ‘ میں قطعات لکھنے لگے۔
قابلؔ نے پاکستان میں تقریباً 14سال بسر کیے مگر یہ عرصہ کتنی کلفتوں میں گزرا،وہی جانتے تھے۔ سب سے پہلا صدمہ انھیں اپنے بھائی شریف کی موت سے پہنچا، جو ان کی پاکستان آمد کے کچھ عرصے بعد ہی تپ دق کے مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہوگئے۔ منہ پھاڑے غیر مناسب اور مصیبت بھرے حالات نے اکیلے قابلؔ کوچاروں طرف سے گھیر لیا اور حملہ کر بیٹھے۔حالاں کہ وہ ان سے لڑتے رہے مگر کب تک؟ وہ بے شمار ، نت نئے ،لمبے لمبے دانتوں ،خوف ناک آنکھوں اور ارادوں والے اور یہ تنہا۔بالآخر 1960کی دہائی میں جب کہ وہ شاعری کی دنیا میں اپنے پرچم بلند کر رہے تھے ،حالات سے ہار مان گئے اور اس شان سے ہارے کہ زندگی اپنی جیت کے باوجود رو پڑی:
میں زندگی کی بساط پر اس شان سے ہارا!
وہ اپنی جیت پر رویا بہت تھا!!
تاہم اپنے خاندانی مرض تپ دق کے موذی مرض نے ا نھیں کوئٹہ(بلوچستان) کے ملٹری اسپتال’سینوٹوریم‘پہنچادیا۔یہاں زندگی نے ان کے ساتھ ایک خوشگوار کھیل کھیلا۔ اس نے اپنا حسن دکھایا۔’سینوٹوریم ‘کے جس وارڈ میں قابل زیر علاج تھے،اس کی انچارج ایک نصرانی نرس ’نرگس سوسن ‘تھی۔انھیں جب اطلاع ملی کہ ’قابلؔ ‘بطور پیشنٹ ان کے وارڈ میں لائے گئے ہیں تو انھوں نے ان کی تیمار داری کی تمام ذمے داریاں اپنے ہاتھ میں لے لیں۔نرگس کے اس حسن سلوک نے قابلؔ کو بہت متاثر کیا ۔مگر یہ عنایت یوں ہی نہ تھی، ’نرگس‘ان کی غائبانہ فین /مداح تھی اور اب تومحبوب سامنے تھا،بلکہ دسترس میں بھی۔ قدرت نے اس بہانے دونوں کو ملا دیا ۔محض رسماً نہیں بلکہ نر گس نے اسلام قبول کر کے قابل سے شادی کر لی۔یہ شادی ایک کامیاب شادی ثابت ہو ئی اور ’نرگس‘ کے بطن سے قابل کو ایک پھول’ظفر قابل اجمیری ‘کی صورت میں حاصل ہوا۔ مگر یہ قابل کی زندگی کے آخری ایام تھے۔مرض بگڑتا گیا۔بیگم نرگس قابل،انھیں تبدیلئ آب وہوا کی غرض سے حیدر آباد سے کوئٹہ لے آئیں لیکن قابل،اس درد سے نجات نہ پاسکے اور ایک دن دنیا کے تمام قابل ترین انسانوں کے طرز پر بہت مختصر زندگی پاکر بہ عمر31 سال عین جوانی میں تپ دق کی اسی بیماری کا شکار ہو کر 30،اکتوبر 1962 کو مالک حقیقی سے جاملے۔ان کے انتقال کے بعد ان کے قددانوں اور محبین نے حیدرآباد میں مجلس یاد گار قابل ؔ قائم کی اور اس کے زیر اہتمام سب سے پہلے ان کے شعری مجموعے’’دیدۂ بیدار‘‘1963کی اشاعت عمل میں آئی۔اس کے بعد ’’خون رگ جاں‘‘1966۔’’قابل کے سوشعر‘‘۔’’عصریات وتنقیحات ‘‘ دیگر یادگاریں شائع ہوئیں ۔ ان مجموعوں میں موجود قابل کی غزلیں،نظمیں دوہے،قطعے،گیت وغیرہ اس فکر کی غماز ہیں جو صرف اور صرف قابل کی ایجاد ہیں۔
قابل کا مطالعہ کر نے سے پتا چلاتا ہے کہ ان کی شاعری دلوں کی شاعری ہے اور ان کی غزلوں کا آہنگ ،وقت کی آوازہے ۔زندگی میں رونما ہونے والے واقعات ،وتجربات،ان کے شعری اسلوب میں ڈھل گئے۔انھوں نے دل کی ہر کسک،ہر احساس اور ہر تڑپ کو شعری پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کی ۔ان کی شاعری معیاری اورجدیدیت کے رنگ سے مزین تھی ۔جدید تصورات کے رجحانات کی عکاسی ان کے اشعار میں نمایاں طور پر موجود ہے۔اگر بغور دیکھا جائے توان کے یہاں میر ؔ کا سوزو گداز،مومنؔ کے طرز ،غالب ؔ کی خیال آفرینی اور داغؔ کی شگفتہ بیانی کے ساتھ جدیدیت کی لے بھر پور طریقے سے موجود ہے۔انھوں نے اسی قدیم روایت میں تجدد کا راستہ اختیار کیا اور شعرو سخن کو نئی فکروں کا محور بنا دیا۔قدیم و جدید اور روایت میں تجدد کی آمیزش نے ان کے کلام کو سحر طراز ی کا عنوان بخشاہے۔
قابل اجمیری اور معاصرین کا موازنہ بھی ایک اہم ترین اور معرکۃ الآرا بحث ہے۔ ایک مقام پر جرمنی میں مقیم ظفر جعفری ،قابل اجمیری اور احمد فراز کا موازنہ کر تے ہوئے ظفر قابل اجمیری کے بلاگ میں لکھتے ہیں:
’’……. احمد فراز بہت اچھے شاعر تھے اور ان کے بعد شاعری کے میدان میں جو سُونا پن اور خلا پیدا ہوا ہے وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ سوال کہ زندگی اگر قابل کو مہلت دیتی تو وہ کس مقام پر ہوتے۔ میرا جواب یہ ہے کہ احمد فراز 1970 کے عشرہ میں ابھر کر سامنے آئے تھے جس کے بعد وہ سنورتے چلے گئے۔ لیکن احمد فراز 1970 سے پہلے غیر معروف تھے۔ اسکے بر عکس قابل اجمیری 1950۔1951 ہی میں جگر اور سیماب جیسے اساتذہ سے اپنی شاعری کا لوہا منوا چکے تھے۔ اس تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے میرا یہ دعویٰ ہے کہ زندگی اگر قابل کو مہلت دیتی تو وہ استادالاساتذہ کہلاتے۔ قابل اجمیری میرے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر ہیں۔ اُنکا آہنگ انکا اسلوب اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ قابل نے غزل کے ساتھ نظم بھی اُسی پائے کی کہی ہے۔ قابل کی نظم کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو جس سے قابل کے منفرد آہنگ ، اسلوب اور شیریں بیانی اور فکر کا پتہ چلتاہے۔ اس عنوان پر(حالاں کہ) دوسرے شعرا نے لاتعداد نظمیں کہی ہیں۔
اقبال
وہ دیدہ ور کہ جس نے تجلّی نکھار دی
ذروں کو آفتابِ درخشاں بنا گیا
وہ چارہ ساز جس نے کیے تجرباتِ نو
ہر درد کو ضمانتِ درماں بنا گیا
وہ باغباں جو اپنی نسیمِ خیال سے
شامِ چمن کو صبحِ بہاراں بنا گیا
وہ دلربا کہ جس نے بدل دی سرشتِ دل
تکلیف کو نشاط کا ساماں بنا گیا
وہ فلسفی جو اپنی خودی کی تلاش میں
اربابِ دل کو محرمِ یزداں بنا گیا
وہ مردِ حق پرست مٹا کر جو تفرقے
اسلامیوں کو صرف مسلماں بنا گیا
اب کارواں کی بانگِ درا پر نظر نہیں!
سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں!‘‘
(ظفر جعفری۔عالمی اخبار۔قابل اجمیری نمبر(بلاگ)19جون2010۔جرمنی)
قابل اجمیری کی اس روایت سے تجدد کی طرف مراجعت کو بعد میں’ جدید غزل‘ کے رجحان کا نام دیا گیا ۔جو بہت جلد اردو شعرو ادب کے حلقوں میں مقبول ہوا اور پھر اجنبیت و غربت کے مراحل سے گزرتے ہوئے جب محمود ایاز نے1959 میں ماہنامہ ’سوغات‘ بنگلور۔اختر انصاری اکبر آبادی نے1950میں ماہنامہ’نئی قدریں‘حیدرآباد سندھ۔شمس الرحمان فاروقی نے جون 1966میں ماہنامہ’شب خون‘الہ آباداور نسیم درانی نے 1967میں ماہنامہ’سیپ‘کراچی شروع کیا تو اسے عالم گیر شہرت، مضبوطی اور تقویت ملتی چلی گئی پھر تو یہ مستحکم سلسلہ بن گیا۔مذکورہ بالا رسالے وہ ہیں جومستقل طورپر اس کے ترجمان بنے اور برسوں اس کی اشاعت وفروغ میں مصروف رہے ۔ان کے علاوہ دیگر معاصر رسالوں نے بھی اس رجحان کو عام کرنے میں اہم رول ادا کیا ۔ان میں اشہر ہاشمی کے دوماہی’’ گلبن‘‘ احمد آباد کا نام نمایاں ہے۔
اس رجحان کے صف اول کے شعرا میں اسلوب احمد انصاری،سرشار صدیقی،شہر ت بخاری،دیوندر اسّر ،تنویر عباسی،شوکت عباسی،مظفر علی سید ، ریحان صدیقی اوران میں نمایاں نام قابل اجمیری کاآتا ہے۔جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے قابل اس جہان میں صرف 31 برس رہے نیز اس عرصے میں بھی شاعری کے لیے انھیں بہ مشکل دس بارہ برس ہی ملے، لیکن انھو ں نے اسی مدت کو غنیمت جان کرجدید غزل کی طرح ڈال دی اور اردوغزل کا دامن نئے معانی و تراکیب سے وسیع کر دیا۔ان کی شاعری کی سطحیں جدید عناوین ورجحانات سے میل کھاتی ہیں۔ان کی غزلوں کا آہنگ خون کی دھار میں ڈوبا ہوا اورشعری ساز شعلہ وشبنم،شیشہ وتیشہ اور جگر پاش تھا۔لطف تو یہ ہے کہ ان کی یہ کربناکیاں قدیم روایت سے بالکل ہٹ کر جدید لب لہجے میں تھیں جو جدید شعرا کی اہم خصوصیت ہے۔قابل اجمیری کی حیثیت جدید غزل نگاری میں نمایندہ شاعر کی ہے۔چو ں کہ انھوں نے بہت پہلے اس رجحان کے تحت لکھی جانے والی شاعری کی ابتدا کردی تھی۔ قابل اجمیری گوباضابطہ جدید غزل کواس رجحان سے متعلق صرف دوسال ملے، مگر اس کے باوجود ان کی شاعری، فکری،فنی اور نئے و نادرامتیاز وانفرادیت کی بدولت جدید غزل کا جلی عنوان تھی۔ان کی شعری،فنی اور فکری جہات نے جد ید غزل کے رجحان سے پہلے ہی اس کی نمایندگی شروع کر دی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ ان کے کلام کا طرز فغاں ،عناوین اورموضوعات فرسو دہ روایت اور تقلید سے بالکل ہٹ کرجدید احساس و فکر لیے ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک مقام پر عبادت یار خاں عبادت بریلوی لکھتے ہیں:
’’ قابل کے یہاں تقلید کا شائبہ تک نہیں ہوتا وہ نئی بات کہتے ہیں اور نئے انداز سے کہتے ہیں۔ غزل کی روایت سے پوری واقفیت رکھنے اور اس سے خاطرِ خواہ استفادہ حاصل کرنے کے باوجود وہ کبھی لکیر کے فقیر نہیں بنے۔ ان کے یہاں خاصا تنوع ہے لیکن اس تنوع کے ہاتھوں ان کی انفرادیت کوٹھیس نہیں لگتی ان کا مخصوص زاویہ نظر اس تنوع میں بھی ایک یک رنگی پیدا کرتا ہے‘‘
(ممتاز راشد۔ مضمون :’’قابل اجمیری‘‘خصوصی صفحہ’قابل اجمیری‘(انٹرنیٹ)–اشاعت 26جنوری2011۔ممبئی)
ایک دوسرے مقام پر عبادت بریلوی یوں رقم طراز ہیں:
’’…..ایک اور بات قابل صاحب کے کلام میں قابل ذکر ہے ۔وہ یہ کہ زندگی کی محرومیوں کو محسوس کر نے کے باوجود وہ زندگی سے مایوس نہیں ہیں ۔ان کے یہاں زندگی کی کسک کومحسوس کر نے کے باوجود خاصی جولانی کا احساس ہوتا ہے اور یہ جولانی انھیں عمل کی طرف راغب کر تی ہے۔چنانچہ عمل کی راہ پر آگے بڑھنے کا احساس ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے۔‘‘
(جوہر قابل۔ مشمولہ طالب علم ڈائجسٹ۔’قابل نمبر‘ص:22،فروری 1970۔حیدرآباد۔پاکستان)
سحر انصاری کا خیال ہے:
’’…..زندگی کے مسائل کی طرح حسن کی بعض نفسیاتی کیفیات کا انھو ں نے گہرا مشاہدہ کیاہے۔قابلؔ نے حسن کے بعض ایسے پہلوؤں پر نگاہ ڈالی ہے جن کی طرف شایداس انداز سے کسی نے دیکھا نہیں اور اگر دیکھا بھی ہے تواس برجستگی اور اثر آفرینی کے ساتھ رقم نہیں کیا:
رُکا رُکا سا تبسم،جھکی جھکی سی نظر!
تمھیں سلیقۂ بیگانگی کہاں ہے ابھی!!
**
بے نیازی کو اپنی خو نہ بنا!
یہ ادا بھی کسی کو پیاری ہے!!
**
اضطراب دل سے قابلؔ وہ نگاہ بے نیاز!
بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں‘‘!!
(شاعر اعتماد:قابل اجمیری ۔سہ ماہی نخلستان۔قابل اجمیری نمبر۔مارچ:1986۔جے پور)
اس موقع کی مناسبت سے مناسب محسوس ہوتا ہے کہ رئیس المتغزلین،حضرت جگر مرادآبادی کا قول بھی نقل کرتا چلوں۔فرماتے ہیں:
’’ان(قابل) کے کلام سے ان کی انفرادیت نمایاں ہے اور یہی خصوصیت شاعر کے لیے اہم اور اہم تر ہے۔میں نے پہلی بارجب ان کا کلام(اجمیر کے مشاعرے میں) خود ان ہی کی زبانی سنا توحقیقتاً بہت متاثر ہوا۔خیالات اور جذبات کے ساتھ ساتھ اسلوب بیان بھی شگفتہ وپاکیزہ اور تغزل کا حامل ہے۔‘‘
(جگرمرادآبادی(ایک تاثر)مشمولہ۔طالب علم ڈائجسٹ۔قابل نمبر۔فروری 1970۔حیدرآباد۔پاکستان)
غزل میں تجدد اور قابل ؔ اجمیری کی خدمات کے حوالے سے مجنوں گورکھپوری کا یہ اعتراف بھی دیکھتے چلیں:
’’……..آپ کو ان الفاظ سے اندازہ ہوا ہوگا کہ قابل اجمیری میں نکتہ سے نکتہ پیدا کر لینے ،خیا ل روشن کر لینے اور روایت سے جدید روایت کو جنم دینے کی غیر معمولی صلاحیت ہے ۔ان کی طبیعت میں بلا کی جدت و لطافت اور ان کے احساس میں غضب کی تازگی و انفرادیت ہے۔یہی سبب ہے کہ غزل میں بعض حددرجہ فرسودہ اور ناموافق زمینوں میں بھی وہ ایسے آب دار نشتر نکال لیتے ہیں کہ خدا کی توفیق یاد آجاتی ہے۔‘‘
(غزل میں تجدد کی ایک مثال۔مشمولہ۔طالب علم ڈائجسٹ۔قابل نمبر۔فروری 1970۔حیدرآباد۔پاکستان)
بات ختم ،عبادت بریلوی ، سحر انصاری ، جگر مرادآبادی اور مجنوں گورکھپوری صاحبان کو جوکہنا تھاوہ کہہ چکے ۔اس کے بعد ذکر آتاہے اسی قابل ؔ اجمیری کابلکہ فخر اجمیر وراجستھان قابل ؔ اجمیری کا۔جن کے کا ذکر جدید اردو شاعری میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے ایک موقع پر قابل ؔ اجمیری کی شاعری کو ’سچی‘اور ’اچھی شاعری ‘ کہا ہے۔واقعی قابلؔ سچے اور اچھے شاعرتھے ۔ان کی زبان اور تعبیرات حیرت انگیز اور اعلا پائے کی تھیں،ان کی زبان بھی کیسی؟ کوثر وتسنیم سے دھلی ہوئی جس کی کسوٹی میں ڈھل کر ان کی شاعروں دلوں کی آواز بن گئی۔
خلاصۂ گفتگو یہ کہ قابل اجمیری وجدان اور شعری فکر و جہات کی اس روایت سے تعلق رکھتے ہیں جو ناقابل فراموش ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قابل کے ان سدا بہار اشعار پر اپنی بات کا اختتام کروں :
پاس ہے منزل مگر انجام کا کیا ٹھیک ہے!
شوق کو مانوس سعئ رائیگاں کرتے چلو!!
راستے میں بجھ نہ جائیں آرزوؤں کے چراغ!
ذکر منزل کارواں در کارواں کرتے چلو!!
**
زمیں پہ ہیں لالہ و گل، فلک پہ ماہ ونجوم!
میرا شمار یہاں بھی نہیں، وہاں بھی نہیں!!
**
ہماری خامشی اے دوست افسانہ سہی لیکن!
زباں بہکے تو افسانہ بھی افسانہ نہیں رہتا!!
**
ہر زخم ایک بہار ہے، ہر اشک اک گہر!
قابلؔ مری خزاں بھی،حسیں ہے بہار سے!!
**
میخانہ اک سراب، صنم خانہ اک طلسم!
کچھ ان سے اعتبار نظر کے سوا نہ مانگ!!
**
مآخذو مراجع:
O دیدۂ بیدار۔مجلس یادگار قابل اجمیری۔حیدرآباد۔(پاکستان)1963
O خون رگ جاں۔مجلس یادگارقابل اجمیری۔حیدرآباد(پاکستان)1966
O عصریات و تنقیحات(بیاض) غیر مطبوعہ
O طالب علم ڈائجسٹ:’قابل‘ نمبر (مرتب :محمد حسین قریشی)مارکیٹ روڈحیدر آباد(پاکستان)فروری 1970
O عالمی اخبار۔(بلاگ پیج)’قابل اجمیری‘ نمبر۔پاکستان
O قابل اجمیری: شخص اور شاعر۔(مونوگراف)عبدالمتین اجمیری۔راجستھان اردو اکادمی،جے پور (راجستھان) 1980
O نخلستان۔’قابل اجمیری ‘نمبر(مرتب :عبد المتین اجمیری)راجستھان اردواکادمی،جے پور(راجستھان) مارچ 1987
***
[email protected]
259،تاپتی ہاسٹل،جواہر لال نہرویونیورسٹی،نئی دہلی۔110067

You may also like

Leave a Comment