فیس بک ڈی پی اور شعور!

رعایت اللہ فاروقی
بندہ کتنا سمجھدار ہے یہ خبر تو ڈی پی میں لگی تصویر ہی دےدیتی ہے،ڈی پی اکاؤنٹ ہولڈر کی شناختی تصویر کے لیے ہوتی ہے اور انسان شناخت چہرے سے ہوتا ہے؛ لیکن یہاں ماشاءاللہ کسی نے اپنے بچے کی تصویر لگا رکھی ہے،تو کسی نے پوتے کی۔ کسی نے طیب اردوگان کی تصویر چپکا رکھی ہے،تو کسی نے فلاں اور فلاں کی۔ پھر ان ذہین افراد کے تو کیا ہی کہنے، جنہوں نے گروپ فوٹو لگا رکھے ہیں، بندہ خوش فہمی کا شکار رہتا ہے کہ چھ افراد کے اس گروپ میں سے جو پپو سا نظر آرہا ہے،یہی اکاؤنٹ ہولڈر ہوگا، کچھ عرصے بعد اس کی ان سب سے لڑائی ہوجاتی ہے،تو غصے میں آکر سب سے پہلے گروپ فوٹو ہی اتارتا ہے،قیامت ہی ٹوٹ پڑتی ہے یہ جان کر کہ ان چھ میں سے جو سب سے قدیمی نہایا ہوا تھا،وہی اکاؤنٹ ہولڈر ہے۔ کچھ لوگ صوفے سے بہت متاثر دکھتے ہیں،یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ انہیں 30 سال کی عمر میں پہلی بار وہ موقع نصیب ہوا، جب بیٹھنے کے لیے صوفہ اور تصویر کے لیے کیمرہ بہ یک ظرف و زمان موجود پائے گئے، ایسی شان سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ڈی پی میں جلوہ افروز ہوتے ہیں کہ شکل سے زیادہ واضح ان کی "دکان” نظر آرہی ہوتی ہے۔ مسرت شاہین کے بعد اپنی دکان کی سب سے زیادہ نمائش یہی نمونے فرما رہے ہوتے ہیں۔ممکن ہے وہ یہ تصوراس لیے رکھتے ہوں کہ شکل سے تو ان کی دکان زیادہ پرکشش ہے، سو انہیں شکل کی بجائے دکان سے شناخت کیا جائے۔ اس باب میں سلام عقیدت ہے ان لوگوں کو جن کی ڈی پی پر درج ہوتا ہے "تصویر چوری ہوگئی” تصویر نہیں، بچاروں کا حسن چوری ہوگیا ہے، پر بتا نہیں سکتے۔ احساسِ کمتری کے مالک لوگ۔ اب ان کو کون سمجھائے کہ بدصورتی بھی بڑی نعمت ہے، یقین نہ آئے، تومراد سعید پوچھ لیجیے،جن بچاروں کے شعور کا ڈی پی پر ہی یہ حال ہے،وہ جب ڈی پی سے نیچے کمنٹس بار پر اترتے ہیں، تو محمد دین جوہر اور ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کو بھی اصلاح دینے سے باز نہیں آتے۔ او بھائی جی ! ڈی پی میں تصویر لگانے کا شعور تو حاصل کر لیجیے، پھر آپ کے خیالات اور اصلاح پر بھی غور کر لیں گے!