فکرِاقبال کی عصری معنویت پر توسیعی لیکچرکا انعقاد

حیدرآباد:(پریس ریلیز)
فقہ اسلامی کا کارواں ہمیشہ سے رواں دواں ہے۔ گو اقبال انحطاط کے دور میں تقلید کو بہتر سمجھتے ہیں لیکن اصولا وہ انفرادی اجتہاد کی بجائے اجتماعی اجتہاد کی وکالت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارکشمیر سے آئے مہمان مقرر پروفیسر ڈاکٹر حمیداللہ مرازی، صدر شعبہ مذہبی مطالعات، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر سرینگر نے اقبال اکیڈمی حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقد ایک توسیعی لکچر بعنوان عصر حاضر میں اقبال کی معنویت ، تشکیل جدید کی روشنی میں‘‘ کیا۔ اس نشست کی صدارت جناب عمر علی خان ، صدر اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن نے کی ۔ پروفیسر حمیداللہ نے مزید کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری کی طرح ان کی نثر بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔ خاص طور پر آپ کے خطبات پر مشتمل ’’ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ قابل ذکر ہے۔ اس میں آپ نے اسلام کے اجتہادی اصولوں کے تحت فکر اسلامی کی تشکیل نو پر سیر حاصل گفتکو کی ہے۔ اقبال نے قرآن و سنت کی روشنی میں فکر اورفقہ کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیاہے۔ان کے نزدیک فقہ اسلامی جامد اورساکت نہیں بلکہ متحرک ہے۔ زمان و مکان کے تقاضوں سے بالکل ہم آہنگ ہے۔اپنا پرمغز خطاب جاری رکھتے ہوئے پروفیسر موصوف نے مغرب کی کئی مثالیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ مغرب میں سائنس اورفلسفہ نے مذہب کو عملی طور پر ختم کردیا ہے۔ مذہب کی معقولیت پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔اس سے ہماری نئی نسل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ پروفیسر صاحب نے کہا کہ اقبال کی عصر حاضر میں معنویت اور بڑھ گئی ہے۔اقبال نے فلاح انسانیت اور اسلامی کی نشاۃ ثانیہ کا جو خواب دیکھا اور دکھایا تھا ،وہ ہنوز تعبیر کی تلاش میں ہے۔ اقبال کے آفاقی پیغام میں ان کی روح کی گرمی اور ایقان کی روشنی شامل ہے، جس کی آج شدید ضرورت ہے۔قبل ازیں نشست کا آغازحافظ نعیم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جناب شاہ نواز نے کلام اقبال پیش کیا۔ جناب ایاز الشیخ ، صدر شعبۂ تحقیق اقبال اکیڈمی و نائب صدر اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن نے فاضل مقرر کاتعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ صحیح معنوں میں ایک بین الاقوامی اسلامی اسکالر ہیں ۔ آپ نے اسلامیات ، فلسفہ اور اقبالیات پر زائد از پچاس کتابیں تحریر کی ہیں۔ دنیا بھر کی پچاس سے زائد یونیورسٹیز میں آپ کے لکچرز ہوتے ہیں۔ آپ ملک و بیرون ملک کے کئی علمی ، تحقیقی اور اسلامی اداروں سے وابستہ ہیں۔ جناب ضیاء الدین نیر ، نائب صدر اقبال اکیڈمی حیدرآباد نے فاضل مقرر کا استقبال کیا اور حیدرآباد میں اقبالیات سے متعلق ہو رہی سرگرمیوں اور اقبال اکیڈمی کی تاریخ اور سرگرمیوں سے واقف کرایا اور حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے میں فکر اقبال ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اپنے صدارتی خطاب میں جناب عمر علی خان صاحب نے مقرر کے خطاب کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مقرر موصوف نے موضوع کا حق ادا کردیا۔ عصر حاضر میں فکر اقبال جو دراصل قرآن کی طرف دعوت ہے ،اسے اپنانے کی ضرورت ہے ۔خصوصا طلبا و نوجوانوں کو اس سے واقف کرانا بہت ضروری ہے۔ اقبال اکیڈمی اور اسلامک ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سے پروفیسر حمیداللہ صاحب کو ان دو اداروں کی جانب سے شائع شدہ مطبوعات اور قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ تحفتاً پیش کیا۔ ولی سکندر ، معتمد اسٹڈی سرکل و نشر و اشاعت نے نشست کی نظامت کے فرائض بخوبی انجام دیے اور فاضل مقرر اور حاضرین اور انٹرنیٹ پر لا ئیو دیکھنے والے ناظرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس نشست کی ویڈیو اقبال اکیڈمی حیدرآباد کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔