فوقانیہ اور مولوی کے امتحانات پھر ملتوی طلبہ و طالبات کا بیش قیمتی ایک سال برباد


 پٹنہ:(عبدالغنی/قندیل نیوز)
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کی خستہ حالی اب اجاگر ہونے لگی بورڈ پہلے چندہ ماہ تاخیر ہی سہی امتحانات کے یقینی بناتی تھی تاکہ بورڈ کے ہزاروں ملحقہ مدارس کے لاکھوں طلبا و طالبات امتحانات میں شریک ہوکر آئندہ تعلیمی سال کے لئے بروقت اپنا داخلہ کرواسکیں، مگر دن بدن بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف گامزن ہے،بورڈ کی بدنظمی کا عالم یہ ہےکہ رخصت پذیر تعلیمی سال 18_2016 کے لئے فوقانیہ( دسویں) مولوی(بارہویں) کے امتحانات مارچ اور اپریل کے درمیان ہوجانا تھے،مگرپانچ ماہ تاخیر کے بعد 23 جولائی 2018 سے امتحانات ہونا تھے،یہ بھی اعلان کے مطابق نہیں ہوسکا بلکہ بورڈ نے 23 جولائی سے منعقد ہونے والے فوقانیہ اور مولوی امتحانات کو تا حکم ثانی ملتوی کردیا ہے اور تعلیمی کلینڈر کے مطابق جون کے پہلے دوسرے اور زیادہ سے زیادہ آخری ہفتہ تک امتحان کے نتائج کا بھی اعلان ہوجاتا ہے اور اعلی تعلیمی اداروں،کالجز اور یونیورسیٹیز میں جون سے نئے داخلوں کا آغاز ہوتا ہے،جو وسط جولائی تک اختتام پذیر ہوجاتا ہے،بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ گزشتہ 4 ماہ سے بغیر اکزامنیشن کنٹرولر کے چل رہا ہے، مارچ 2018 میں اکزامنیشن کنٹرولر صلاح الدین سبکدوش ہوچکے ہیں،اب تک اس کی جگہ پر نہیں ہوسکی ہے،امتحانات کنٹرولر کی عدم موجودگی میں دو ماہ  تاخیر ہی سے سہی وسطانیہ امتحانات کا انعقاد بھی ہوگیا ہے،اسی طرح گزشتہ تین جون کوبورڈ کے چیئرمین پروفیسر شمشاد حسین بھی سبکدوش ہوگئے ہیں،سمجھ سے بالاتر پہلو یہ ہے کہ تقریبا ڈیڑھ ماہ سے بورڈ بغیر چیئرمین کے کام کررہا ہے،وقت مقررہ پر امتحانات کے منعقد نہ ہونے کے سبب ملحقہ مدارس کے لاکھوں طلبہ و طالبات کا بیش قیمتی ایک سال برباد ہورہا ہے، مگر محکمۂ تعلیم کو اس پر ایک ذرا بھی افسوس نہیں ہے،چیئرمین کی عدم موجودگی ہی کے سبب 3 ماہ کی تاخیر سے منعقد ہونے والے فوقانیہ اور مولوی کے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے، بورڈ میں کارگزار چیئرمین کا بھی چارج کسی کو نہیں ملا ہے، جس کے سبب ملحقہ مدارس کے اساتذہ اور طلبا سبھی پریشان ہیں،گزشتہ چار ماہ سے ضلع کے سیکڑوں مدارس کی کمیٹیوں کی منظوری، اساتذہ کی تقرری، اساتذہ کے تنخواہ کا معاملہ معلق ہے،ضلع کے ہزاروں طلبا و طالبات جنہیں فوقانیہ اور مولوی امتحانات کے بعد دیگر اداروں میں داخلہ لینا تھا، وہ اب پریشان ہیں، طلبا و طالبات کا بیش قیمتی ایک سال ضائع ہوگیا،جس سے گارجین کو بھی اپنے بچوں کی فکر ستارہی ہے کہ تعلیمی سال کی بربادی سے بچوں کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، کئی ایک گارجین نے بتایاکہ فارم پرکرتے وقت ملحقہ مدارس میں ہم لوگوں نے  16 سو سے 200 ہزار کے درمیان جمع کروائی تھی، جس کا بنک ڈرافٹ بورڈ میں جمع ہوتا ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ اخراجات کے لئے صرف بورڈ کے چیئرمین کو مالیاتی اختیار حاصل ہوتا ہے،جب کہ بورڈ تقریبا ڈیڑھ ماہ سے چیئرمین کے بغیر اونگھ رہا ہے، اس دوران مالیاتی اختیارات نہیں رہنے کے سبب بورڈ کا بیشتر کام ٹھپ پڑا ہوا ہے، انہوں نے بتایا کہ بورڈ کی لاپرواہی و تساہلی کے سبب پیسہ،وقت اور بچوں کی زندگی برباد ہورہی ہےـ واضح ہوکہ ملک کی دیگر ریاستوں اورخود بہار اسکول اکزامنیشن بورڈ اور انٹر کاؤنسل کا ریزلٹ جون اور جولائی کے پہلے ہفتہ تک منظر عام پر آچکا ہے،بورڈ اور کاونسل کے طلبا اعلی تعلیم کالجز، ٹریننگ کالج، پالیٹکنک، پارا میڈیکل،آئی ٹی آئی، نرسنگ،بی ایڈ کالج اور یونیورسٹیز میں اپنے داخلے مکمل کرواچکے ہیں یا داخلہ کے عمل سے گزر رہے ہیں،مگر بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے الحاق شدہ مدارس میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ و طالبات  دسویں( فوقانیہ) اور بارہویں( انٹر میڈیٹ) کے امتحانات کے لئے سراپا منتظر ہیں،مگر بورڈ امتحانات کے انعقاد میں دلچسپی کے بجائے ملتوی یا موخرہونے کے اعلانات کررہا ہے،جس سے طلبہ و طالبات کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں ـ