Home تجزیہ فلمی مکالمہ نگاری اپنے آپ میں ایک فن ہے

فلمی مکالمہ نگاری اپنے آپ میں ایک فن ہے

by قندیل

امام الدین
‘ناول اور افسانے کی طرح فلم بھی انسانی تخلیق کا عمدہ نمونہ ہے’ لیکن ضروری نہیں کہ یہ قضیہ ہر فلم پر صادق آۓ۔ ہاں کچھ فلمیں ایسی بھی ہیں جو ہر اعتبار سے عوام الناس کے درمیان کافی مقبول رہی ہیں خواہ ان کا مقصد تفریح طبع ہو یا سماجی، معاشرتی اور سیاسی صورت حال کو اجاگر کرنا۔ بہر حال فلموں نے روز اول سے ہی اپنے ناظرین کو اپنی طرف کافی متوجہ کیا ہے۔ بیشتر فلمیں ایسی ہیں جن کے نہ صرف نام بلکہ ان کے مکالمے بھی زبان زد عام و خاص ہیں۔ ان فلموں کی مقبولیت کے پیچھے ان کے مکالموں کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ جو فلموں میں مکالموں کی اہمیت اور ایک فن کی حیثیت سے اس کی مقبولیت کا بین ثبوت ہیں۔
ذیل میں فلمی مکالمہ نگاری کا معنی، اہمیت ، تاریخی پس منظر اور ہندوستانی فلموں کے مشہور مکالمے پیش کیے جاتے ہیں۔
لغوی معنی:
مکالمہ انگریزی لفظ Dialogue کا ہم معنی اردو لفظ ہے۔ انگریزی لفظ Dialogue یونانی لفظ Dialogosسے ماخوذ ہے، جو دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ ‘dia’ (ما بین) اور ‘logos’ (بات چیت یا سبب)۔ یعنی تحریری یا تقریری صورت میں دو یا دو سے زیادہ افراد کے مابین ہونے والی بات چیت کو مکالمہ کہتے ہیں۔
اصطلاحی معنی:
مکالمے کے لغوی معنی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دو یا دو سے زیادہ افراد کے مابین ہونے والی بات چیت کو مکالمہ کہتے ہیں۔ تقریبا مکالمہ کی یہی تعریف مختلف لغات میں بھی موجود ہے۔ چند تعریفات مندرجہ ذیل ہیں۔
1. کتاب، ڈرامہ یا فلم میں دو شخصوں کے ما بین ہونے والی گفتگو۔
‘A conversation between two or more people as a feature of a book, play, or film’
[https://en.oxforddictionaries.com/definition/dialogue]
2. مکالمہ کی اصطلاح کا مطلب ہے ‘دو’ (di-) اور ‘بات چیت’ (log)ہے۔ یعنی دو کرداروں کے درمیان کی جانے والی زبانی بات چیت کو مکالمہ کہتے ہیں۔
‘The term dialogue means “two” (di-) “speak” (log). In this sense, two people are speaking to create dialogue.Dialogue is a spoken conversation that includes at least two characters.’
[http://writingexplained.org/grammar-dictionary/literary-dialogue]
3. ایک پارۂ تحریر جس میں دو یا دو سے زیادہ افراد آپس میں بات چیت کرتے ہوں۔
‘A written composition in which two or more characters are represented as conversing’
[https://www.merriam-webster.com/dictionary/dialogue]
مندرجہ بالا تعریفات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مکالمہ دو یا دو سے زیادہ کرداروں کے مابین ہونے والی ایسی بات چیت اور تبادلۂ خیال کو کہتے ہیں جو فلم کی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے، کہانی کو نیا رخ دیتا ہے، کردار کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے، عام اور معمولی بات میں روح ڈالتا ہے اور حقیقی زندگی کی سماجی، سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
فلمی مکالمہ نگاری کی اہمیت:
فلمی مکالمہ نگاری ایک فن ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا؛ کیوں کہ اس کے بغیر فلم کا صحیح تصور نہیں کیا ہوسکتا ہے۔ مکالمہ نہ صرف کہانی کو دلچسپ بنا کر پیش کرتا ہے بلکہ کہانی کو آگے بڑھاتا ہے، نیا رخ دیتا ہے، کردار کے ساتھ ساتھ حقیقی زندگی کی اس کے تمام اجزا کے ساتھ عکاسی بھی کرتا ہے۔ ذیل میں فلمی مکالمہ نگاری کی خصوصیات پیش کی جاتی ہیں۔
1. کردار نگاری/کردار کی ادایٔگی :
مکالمہ شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ناظرین کردار کے بارے میں اس کے مکالموں کے ذریعے ہی بہتر طریقے سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ ان مکالموں کے ذریعے ہی ناظرین کرداروں کے نفسیات اور ان کی تہذیب و معاشرت سے روشناس ہوتے ہیں اور کرداروں کی صحیح فطرت اور معاشرت کی عکاسی مختلف طبقوں کی زبان کے ساتھ کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ زبانوں کے پیچھے پوشیدہ تہذیبی عوامل کا پتہ بھی چلتا ہے۔
2. کہانی کا ارتقا:
فلمی مکالمہ نگاری ایک فن ہے جس کی اہمیت ہر دور میں رہی ہے۔ مکالمہ نگاری فلموں میں اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر فلم کا صحیح تصور نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ اس کے ذریعے ہی فلموں کی کہانی پیش کی جاتی ہے اور آگے بڑھتی ہے۔ مکالمہ نگاری کہانی کو نیا موڑ دیتی ہے اور پلاٹ میں تبدیلی لاتی ہے۔
3. حقیقت کی عکاسی:
مکالمے فلم کو کامیاب اور مقبول عام بنانے کا بہترین اور مؤثر ذریعہ ہیں؛ کیوں کہ اگر اس کے اندر جاندار، عمدہ اور خوبصور ت مکالمے نہ ہوں تو فلم کامیاب ہوتی۔ مکالمے ہی کے ذریعے کسی بھی کردار کی شخصیت اور اس کے تمام لوازمات کا پتہ چلتا ہے اور مکالمے ہی کسی مخصوص معاشرے، سماج اور تہذیب سے کردار کی وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مکالمے عام طور سے اداکار یا اداکارہ کی شخصیت ، اس کے لب و لہجےاور جسم و جثہ کا خیال کرتے ہوۓ اس طرح لکھے جاتے ہیں کہ وہ واقعی اور اصلی معلوم ہوتے ہیں۔
4. غیر معمولی انفرادیت:
یوں تو مکالموں میں ایسے ہی جملے استعمال میں لاۓ جاتے ہیں جو عام بات چیت میں مستعمل ہوتے ہیں؛ مگر جب ایسا جملہ استعمال ہوتا ہے جو عام بات چیت سے ہٹ کر ہو تو ناظرین خود بخود اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور اس کے ذریعے اس کردار کا ایک الگ تصور ابھر کر سامنے آتا ہے جو دیر تک ناظرین کے ذہنوں میں محفوظ رہتا ہے اور مختلف پس منظر میں اس کے مختلف معانی مراد لیے جاتے ہیں۔ جیسے فلم ‘پی کے’ کے مکالمے’پھر ہم کا ایک دن اکٹھو کار ملا، ڈانسنگ کار’ میں ڈانسنگ کار کا تصور اور فلم ‘تھری ایڈیٹس ‘ کا مکالمہ ‘کسی مہا پرش نے کہا ہے کہ ۔۔کامیاب ہونے کے لیے نہیں ، قابل ہونے کے لیے پڑھو….’ وغیرہ کا نقش ناظرین کے ذہنوں پر دیر تک باقی رہتا ہے۔
فلمی مکالمہ نگاری کا تاریخی پس منظر:
ہندوستان میں بولتی فلموں کا آغاز ۱۹۳۱ء میں فلم ‘عالم آرا’ کے ذریعے ہوا جس نے فلم کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا؛ کیوں کی اس کے ساتھ ہی خاموش فلموں کا دورختم ہوا ور مکالمہ نگاری ایک فن کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آییٔ۔ اس کے بعد متکلم فلموں کا ایک سلسلہ چل پڑا اور فلم ‘عالم آرا’ کے بعد فلم ‘زندگی’، ‘بندھن’، ‘اچھوت’ [۱۹۴۰ء]، ‘اجیت’ [۱۹۴۹ء]، ‘مدر انڈیا’ [۱۹۵۷]، ‘مدھو متی’ [۱۹۵۹ء]، ‘مغل اعظم’ [۱۹۶۱ء]، ‘گنگا جمنا’ [۱۹۶۲ء]، ‘وقت’ [۱۹۶۶ء]، ‘پاکیزہ’ [۱۹۷۲ء]، ‘شعلے’ [۱۹۷۵ء]، ‘دیوار’ [۱۹۷۶]، ‘جنون’، [۱۹۸۰ء] ، ‘نکاح’ [۱۹۸۳]، ‘طوایٔف’ [۱۹۸۷ء]، ‘کرانتی ویر’ [۱۹۹۵ء]، ‘کبھی خوشی، کبھی غم’ [۲۰۰۲ء]، ‘ویر زارہ’ [۲۰۰۵ء]، ‘تھری ایڈیٹس’ [۲۰۱۰ء]، گینگ آف واسع پور’ [۲۰۱۳ء]، ‘بی کے’ [۲۰۱۵ء] ارو ‘دنگل’ [۲۰۱۶ء] نے مکالمہ نگاری کو بام عروج بخشا جن کے ذریعے ہندوستانی سنیما کو شانتا رام، سہراب مودی، کمال امروہی، کے آصف، باسو چٹر جی، دیو کی بوس،سردار چندو لال شاہ، ہمانشو راۓ، یش چوپڑا ارو مہیش بھٹ جیسے بلند قامت ہدایت کار اور راجندر سنگھ بیدی، امان، کمال امروہی، وجاہت مرزا، اخترالایمان، کیفی اعظمی، سلیم جاوید، ساغر سرحدی، علی رضا، وجے آنند، گلزار، راہی معصوم رضا، قادر خان، امتیاز علی اور راج کمار ہیرانی جیسے شہرہ آفاق مکالمہ نگار ملے۔ان کی ہدایت کاری اور مکالمہ نگاری نے ہندوستانی فلموں کو نہ صرف کامیاب بنایا بلکہ فلموں کے مکالمے عام بول چال میں شامل ہوکر ایک الگ شناخت قایٔم کی۔
اہم اور مشہور فلمی مکالمے:
کسی بھی فلم کو بنانے سے پہلے اس کا ایک خاکہ تیار کیا جاتا ہے اور پھر اس کے مطابق اداکار وں کو تلاش کیا جاتا ہے اور ان کی شخصیت، آواز، لب و لہجہ کا لحاظ کرتے ہوۓ مکالمے لکھے جاتے ہیں۔ زیادہ تر مکالمے اداکاروں کے انتخاب کے بعد لکھے جاتے ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فلم کی کہانی لکھ دی جاتی ہے اور پھر اداکار وں کا انتخاب کرکے کسی ماہر مکالمہ نگار سے مکالمے لکاۓ جاتے ہیں۔
یوں تو بہت سارے مکالمے ایسے ہیں جن کی اہمیت اب تک برقرار ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔ ان کی اہمیت کی عکاسی مندرجہ ذیل مکالمے بخوبی کرتے ہیں۔
1. ”کون کمبخت ہے جو برداشت کرنے کے یے پیتا ہے، میں تو پیتا ہوں کہ بس سانس لے سکوں”
[فلم: دیو داس، ۱۹۵۵ء، ہدایت کار: بمل راۓ، مکالمہ نگار: راجندر بیدی ، مکالمہ گو: دلیپ کمار]
2. ”زخم تو اچھا ہو گیا؛ مگر نشان ابھی باقی ہے، پیار کے نشان ویسے بھی آسانی سے نہیں جاتے۔”
[فلم: یہودی ۱۹۵۸ء، ہدایت کار: بمل راۓ، مکالمہ نگار: وجاہت مرزا ، مکالمہ گو: دلیپ کمار]
3. ”اگر ایسا ہوا تو سلیم تجھے مرنے نہیں دے گا ۔۔ اور ہم ، انار کلی! تجھے جینے نہیں دیں گے۔
‘ ‘ [فلم مغل اعظم ۱۹۶۰ء، ہدایت کار: کے آصف، مکالمہ نگار: امان و کمال امروہی ، مکالمہ گو: پرتھوی راج کپور]
4. ”ارے او سانبھا! ۔۔۔ کتنا انام رکھی ہے سرکار ہم پر؟”
[فلم: شعلے، ۱۹۷۵ء، ہدایت کار: رمیش سپی، مکالمہ نگار: سلیم جاوید ، مکالمہ گو: امجد خان]
5. ”سارا شہر مجھے لایٔن کے نام سے جانتا ہے۔”
[فلم: کالی چرن، ۱۹۷۶ء، ہدایت کار: سبھاش گھۓ ، مکالمہ نگار: جتندر جین ، مکالمہ گو: ڈینی]
6. ”رشتے میں تو ہم تمہارے باپ ہوتے ہیں۔۔۔ نام ہے شہنشاہ۔”
[فلم: شہنشاہ، ۱۹۸۸ء، ہدایت کار: ٹیمو آنند، مکالمہ نگار: اندر راج آنند ، مکالمہ گو: امیتابھ بچن]
7. ”تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب ! پیار سے لگتا ہے۔”
[فلم: دبنگ، ۲۰۱۰ء، ہدایت کار: ابھی نو کشپ، مکالمہ نگار: دلیپ شکلا ، مکالمہ گو: سناکشی سنہا]
8. ‘’My name is Khan and I am not a terrorist.’’
[فلم: ماییٔ نیم از خان، ۲۰۱۰ء، ہدایت کار: کرن جوہر، مکالمہ نگار: شبانی بتھیجا ، مکالمہ گو: شاہ رخ خان]
9. ”میں ان چیزوں کی اسمگلینگ کرتا ہوں ، سر کار جس کی اجازت نہیں دیتی۔۔ ان چیزوں کی اسمگلینگ نہیں کرتا، جس کی اجازت میرا ضمیر نہ دیتا ہو۔ ”
[فلم:ونس اپان اے ٹایٔم ان ممبیٔ، ۲۰۱۰ء، ہدایت کار: ملن بوتھر، مکالمہ نگار: رجت اروڑا ، مکالمہ گو: اجے دیوگن]
10. ”مہاری چھوریاں چھوروں سے کم ہیں کے؟”
[فلم: دنگل، ۲۰۱۶ء، ہدایت کار: نتیش تیواری، مکالمہ نگار: نتیش تیواری، پیوش گپتا، شریاس جین اور نکھل مہاروترا ، مکالمہ گو: عامر خان]
مذکورہ بالا مکالمے فلمی مکالمہ نگاری کے عمدہ اور بہترین نمونے کہے جا سکتے ہیں،جن کے اندر ایک جہان معانی پوشیدہ ہے جو اپنے عہد کے سیاسی، سماجی، معاشرتی و تہذیبی حالات کی نہایت خوبصورتی کے ساتھ بہترین تعبیر کرتے ہیں۔ اور فن کی حیثیت سے ان کی ایک الگ شناخت ہے۔ جس کا سفر ۱۹۳۱ء کی فلم ‘عالم آرا’ سے شروع ہوا اور تا ہنوز جاری ہے۔
ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی
Mob: +91 8445 43 2310
Email [email protected]

You may also like

Leave a Comment