فلسطین کی بیٹی کی آزادی

ابن الحسن عباسی
کچھ عرصہ قبل چند اسرائیلی فوجی فلسطینی خواتین اور بچوں کے ساتھ بدتمیزی پر اتر آئے، تو ایک فلسطینی بچی لپکی، چند لمحے مزاحمت کے بعد اس نے ایک اسرائیلی فوجی کے منہ پر تھپڑ مارا،بچی کا یہ تھپڑ آزادی فلسطین کی جدوجہد کی ایک نئی شناخت بن گیا، اس منظر کو اب تک کروڑوں لوگوں نے دیکھا،فلسطین کی اس بیٹی کا نام عہد تمیمی ہے، اس کے والد باسم تمیمی، فلسطین کی آزادی کے لئے مسلسل جدوجہد کرنے والے جانبازوں میں سے ایک ہیں، اس کے خاندان کے جوان کیا؛ بلکہ کئی خواتین بھی اقصیٰ کی آزادی کی راہ میں شہید ہو چکی ہیں ـ
اگست 2015 میں اس کے 12 سالہ بھائی کو اسرائیلی فوج گرفتار کرنے آئی، تو اس وقت بھی وہ ان سے لڑ پڑی اور ایک فوجی کے ہاتھ پر اس کے کاٹنے کا منظر بہت مشہور ہوا۔
2017 میں عہد تمیمی کے گھر اسرائیلی فوجی گھسے، غیرت مند بیٹی چادر اور چاردیواری کی بے حرمتی برداشت نہ کرسکی، اسلحہ سے لیس فوجیوں پر حملہ آور ہوئی اور انہیں مکوں، تھپڑوں اور ٹھوکروں کا نشانہ بنا نےلگی ۔
15 دسمبر 2017 کو اسرائیلی فوجیوں نے اسےگرفتار کیا، اس کی والدہ ناریمان تمیمی جیل بیٹی سے ملنے گئی تو انہیں بھی گرفتار کرلیا ، جج نے ہتھکڑیوں میں جکڑی فلسطین کی بیٹی سے پوچھا،” تم نے فوجی کو کس طرح مکا مارا؟”کہنے لگی:” آپ میرے ہاتھ کھلوائیں ،میں مکا مارکر بتا دیتی ہوں” جج نے آٹھ ماہ کی سزا سنائی ـ
اتوار 29 جولائی 2018 کو سزا مکمل کرکے وہ نکلی،تو آزادی فلسطین کے رہنماؤں نے اس کا استقبال کیاـ
31 جنوری 2018 کو عہد تمیمی کی سالگرہ تھی، جو اس نے جیل میں منائی اور دنیا بھر سے لوگوں نے اسے پھول بھیجے، عجیب بات یہ ہے کہ یورپ و امریکہ کی نئی نسل کے یہودیوں نے بھی اس کے حق میں آواز بلند کی،عہد تمیمی کی بہادری نے فلسطین کی آزادی کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی ہے، وہ جانبازی وشجاعت کا ایک استعارہ بن چکی ہےـ
اسکی جرات وبہادری اور بے خوفی وجانبازی کے ایک نغمے نے آزادیِ فلسطین کی تحریک کےلئے ایک ملی ترانے کی حیثیت اختیار کرلی ہے،یہ فلسطینی نغمہ، عرب کے شہروں اورارض قدس کے صحراؤں میں آج گونج رہا ہے:
انت العهد وانت المجد
شامخة كزيتون الارض
منذ المهد وحتى اللحد
لا لا لا لن يدنس عرض
يا وطن مزروع فينا
يا مرساة لكل سفينة
نحن الجزر وانت المد
انت العھد وانت المجد