فلسطینی علماکاوفددارالعلوم دیوبندکے دورے پر

دیوبند(سمیر چودھری)
فلسطین تحریک سے وابستہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے دورکنی علماء کے وفد کاآج یہاں دارالعلوم دیوبند پہنچنے پر مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے پرزور خیر مقدم کیا ،اس دوران مہمانوں نے فلسطین کاز کے لئے دارالعلوم دیوبند سے حمایت کی اپیل کی جس پر ذمہ داران ادارہ نے مہمانوں کو یقین دہانی کرائی کہ فلسطین کو روز اول ہی سے ہماری حمایت حاصل ہے اور انشاء اللہ یہ تحریک ضرور کامیاب ہوگی۔ موصولہ تفصیل کے مطابق آج دوپہر فلسطین تحریک سے وابستہ معروف عالم دین مولانا علی یوسف الیوسف (لبنان) اور مولانا ابراہیم احمد منہا(کویت) نے دارالعلوم دیوبند پہنچ کر ادارہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور جمعیۃ علماء ہند کے صدر و استاذ حدیث مولانا سید ارشد مدنی سے دفتر اہتمام میں ملاقات کی۔ اس دوران ذمہ داران ادارہ نے مہمانوں کا روایتی انداز میں استقبال کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کی تاریخ کے بابت مختصر معلومات فراہم کرائی۔ اس دوران وفد نے دارالعلوم دیوبند سے اپیل کی کہ وہ فلسطین کاز کی حمایت میں آگے آئے، انہوں کہاکہ ہندوستانی مسلمان فلسطین کی حمایت میں رہا ہے اور یہاں کے معالجین نے وہاں جاکر پریشان حال اور بیماروں کی خدمت انجام دی ہے، فلسطین کے عوام ان خدمات کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں ،انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے کہ ایک نہ ایک دن کامیابی ہمارے قدم چومے گی، علی یوسف نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند اگر فلسطین کی حمایت میں آواز بلند کرتا ہے تو وہ زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔ اس دوران وفد کو مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ ہماری اخلاقی حمایت ہمیشہ فلسطین کے ساتھ رہی ہے ،ہم اس کی کامیابی کے لئے دعاء گو ہیں اور آرزو مند ہیں لیکن عملی طورپر جمعیۃ علماء ہند کے بینر تلے فلسطین کی حمایت میں متواتر تحریک جاری ہے ۔ اس دوران جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی بھی مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہے ہوئے کہاکہ ہم روز اول سے فلسطین کاز کے حامی رہے ہیں اور انشاء اللہ ایک دن سرزمین فلسطین کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوگا ۔ اس دوران مہمانوں کو دارالعلوم دیوبند کی تاریخ روشناس کراتے ہوئے یہاں کی علمی ،دینی ،اصلاحی ،تربیتی اور تبلیغی خدمات پر روشنی ڈالی۔ اس دوران مہمانوں نے کہاکہ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے بارے میں بہت کچھ سنا اور پڑھا تھا ،آج یہاں آکر انہیں بہت مسرت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج دارالعلوم دیوبند آنے کے بعد ہماری نظروں میں اس کی قدرو منزلت میں مزید اضافہ ہواہے، انہوں نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند جو علمی خدمات انجام دے رہاہے وہ تاریخ کا سنہرا باب ہے۔اس دوران مہمانوں نے ادارہ کی قدیم و جدیدلائبریری،مسجد رشیدوغیرہ کی زیارت کی،مہمانوں نے لائبریری میں موجود تاریخی کتب کو دیکھ کر حیرت کا اظہا رکرتے ہوئے اس کو تاریخ کازریں حصہ قرار دیا۔ دوران ملاقات دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی، نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی، استاذ حدیث مولانا شوکت بستوی،استاذ حدیث مولانا اشرف عباس وغیرہ موجودرہے۔