فضائی آلودگی کا سدباب وقت کی اہم ضرورت


ڈاکٹر منور حسن کمال
راجدھانی دہلی، این سی آر اور اس سے ملحقہ پنجاب، ہریانہ اور یوپی کے بیشتر علاقے فضائی آلودگی سے متاثر نظر آرہے ہیں۔ اس کے لیے انگریزی لفظ اسماگ(Smog) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دراصل اسماگ ایسی فضائی صورت حال کو کہا جاتا ہے جو کہرے اور دھویں کے آپس میں ملنے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف صحت کے لیے نقصان دہ ہے، بلکہ اگر اس کی سطح اتنی بڑھ جائے کہ سورج کی روشنی تک رک جائے تو ٹریفک کے مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ ملک میں جہاں بھی اس صورت حال کا سامنا ہوتا ہے، وہاں اسماگ کے سبب بچوں کے اسکول بھی بند کردیے جاتے ہیں۔ راجدھانی دہلی اور این سی آر میں ابھی یہ صورت حال پیدا نہیں ہوئی اور دسہرے کے بعد اس میں اضافہ بھی ہوا ہے، لیکن اس بات کا قوی امکان نظر آتا ہے دیوالی کے اگلے روز صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے صرف پٹاخوں اور پرال جلانے کا دھواں ہی ذمہ دار نہیں ہے، بلکہ کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں، سڑک پر بے شمار گاڑیوں کی آمدورفت اور اینٹ بھٹوں میں جلنے والی آگ کو بھی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں راجدھانی دہلی سے بھی زیادہ آلودگی اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ راجدھانی دہلی میں تو عام طور پر فضا میں کثافت کثیرمقدار میں پائی جاتی رہی ہے، لیکن یہ دسہرہ اور دیوالی کے موقع پر بڑھ کر دہلی کی فضائے بسیط پر چھا جاتی ہے اور جو اسماگ کی پیداوار کا سبب بنتی ہے۔ دہلی کی صحت کے لیے سگریٹ اور بیڑی کا دھواں بھی کم نقصان دہ نہیں ہے۔ یہ فضا کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت پر بھی خطرناک اثرات مرتب کررہا ہے اور بعض ایسے امراض کا بھی باعث بن رہا ہے، جن کا یا تو ابھی علاج دریافت نہیں ہوا یا ریسرچ کے مرحلے میں ہے۔ بظاہر اس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں کہ ہم اپنے محدود وسائل میں ایسی خطرناک بیماریوں کا علاج کراسکیں۔ حالاں کہ حکومتی سطح پر راجدھانی کے بڑے اسپتالوں میں علاج کی سہولت حاصل ہے، لیکن وہاں رجسٹریشن اور پھر ڈاکٹر کو دکھانے اور کھڑکی سے دوا کے حصول میں کتنی دشواری پیش آتی ہے، یہ وہی لوگ زیادہ جانتے ہیں جو ان مراحل سے گزرتے ہیں۔ اسپتالوں میں جہاں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، وہیں دوا تقسیم کرنے والے محکمہ میں بھی افرادی قوت درکار ہے۔ تمام اسپتالوں پر اس قدر دباؤ ہے کہ وہاں روزانہ گھمسان کا منظر نظر آتے دیر نہیں لگتی۔
فضائی آلودگی کے منفی اثرات جہاں انسانی صحت پر پڑرہے ہیں، وہیں ہماری فصلیں بھی اسماگ کی کثافت اور آلودگی کے سبب خراب اور بے جان ہورہی ہیں، ان میں غذائیت کی کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔ ریفائنریوں کے دھویں نے بھی فضائی آلودگی میں اضافہ کیا ہے۔
فضائی آلودگی نے موسموں کے نظام کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ بارشیں وقت بے وقت ہورہی ہیں، جس کے سبب زراعتی نظام بھی متاثر ہورہا ہے۔ مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کو ہدایات جاری کرتی رہتی ہے کہ فضائی آلودگی نہ بڑھے، اس کے لیے مؤثر اقدامات کریں، لیکن بات گفت و شنید سے آگے نہیں بڑھتی۔ ملک میں یہ فضائی آلودگی کوئی نئی بات نہیں۔ ہر برس اس موسم میں اس میں اضافہ جب خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے تو کئی طرح کے منصوبے زیرغور آتے ہیں، لیکن اس کے سدباب کے لیے نہ رائے عامہ ہموار ہوتی ہے اور نہ حکومت کے منصوبے ہی آگے بڑھتے ہیں۔ قدرتی طور پر بارش ہوجاتی ہے یا تیز ہوائیں چلتی ہیں، اسماگ چھٹ جاتا ہے اور سب راحت کی سانس لیتے ہیں۔ جس طرح منصوبے بنائے جاتے ہیں، اگر ان پر اسی تیزی کے ساتھ عمل آوری بھی ہوجائے تو شاید آئندہ اس طرح کی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہریانہ اور پنجاب میں پرال جلانے کے بعد دھویں کے بادل جب راجدھانی دہلی اور اس سے ملحقہ شہروں کا رُخ کرتے ہیں تو انتظامی اداروں کو ہوش آتا ہے، لیکن جب تک وہ منصوبہ بندی کرتے ہیں، اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور دھواں اور کہرا اسماگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے بھی نہایت خطرناک ہے اور اس سے عام زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی اور حکومتی سطح پر کوئی کارگر قدم نہیں اٹھائے گئے، نہ اس پریشان کن صورت حال کے لیے عوام میں ہی بیداری آئی، اس صورت حال کو وقتی اور سیزنلی بتاتے ہوئے اس پر توجہ نہیں دی گئی اور مضبوط عملی اقدامات بھی نہیں کیے گئے تو اس کے خطرناک نتائج سے بچنا مشکل ہوجائے گا۔
ماحولیات کی تبدیلی اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق عالمی سطح پر جو مہم گزشتہ کئی دہائی سے چلائی جارہی ہے اور یوروپ کے بیشتر ملکوں میں اسے زندگی اور موت کا سوال سمجھتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے جو کوششیں کی جارہی ہیں، ہمارے یہاں اس سے نمٹنے، رائے عامہ کو ہموار کرنے اور عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنے کے لیے کوئی منظم مہم بہ ظاہر نظر نہیں آتی۔ اگر کھیت کھلیان والے ہی پرال جلانے سے باز آجائیں اور اسے عام انسانی زندگی کے لیے خطرناک سمجھتے ہوئے نہ جلائیں تو بھی فضائی آلودگی پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ فضائی آلودگی کا مسئلہ نہ تو کسی ایک ملک یا خطے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ اس کے لیے صرف ایک دوسرے کو قصوروار قرار دے کر اپنا دامن بچایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ملکی سطح پر جو بھی کوششیں ہوسکتی ہوں، وہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی ماحولیات سے وابستہ ادارے اس سلسلے میں جو کوششیں کررہے ہیں، ان سے تعاون لینے میں کوئی تامل نہیں برتنا چاہیے۔ اگر حکومت سے پوچھا جائے کہ اپنے شہریوں کو فضائی آلودگی سے بچانے کے لیے اس نے عملی سطح پر کیا اقدامات کیے ہیں اور ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں تو بہ ظاہر اس کے ہاتھ خالی نظر آئیں گے۔ راقم الحروف اسی کالم میں پہلے بھی متنبہ کرچکا ہے کہ اوزون کی جو قدرتی تہہ ہے، اس کو دھویں اور دیگر کثافتوں کے سبب شدید خطرات لاحق ہیں۔ دھویں سے فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے، جس کا سیدھا اثر ماحولیات پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے موسموں کے ماہ وسال میں تبدیلی آرہی ہے، بیماریاں پھیل رہی ہیں اور گرمی، سردی اور برسات کا نظام بڑی حد تک متاثر ہوگیا ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث پہاڑوں پر برف پگھلنے لگتی ہے، جس سے آئے دن سیلاب کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سمندر میں آبی سطح بڑھنا شروع ہوجاتی ہے، جو تباہ کن طوفان کا پیشہ خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں آئے ’تتلی طوفان‘ کی تلخ یادیں لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی ہوں گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں فضائی آلودگی کے سدباب کے لیے جوبھی اقدامات کریں، ان پر عمل آوری کو یقینی بناکر ان اقدامات کو فائلوں کے کور سے باہر نکالیں اور عملی سطح پر مضبوط لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے افسران کی ذمہ داری کا تعین کریں اور اس پر عمل آوری نہ ہونے پر انہیں یہ بتادیا جائے کہ ان کی گرفت یقینی ہے۔