Home ادبیات فسانۂ آزاد کی ادبی اہمیت

فسانۂ آزاد کی ادبی اہمیت

by قندیل

عبدالباری قاسمیؔ
ریسرچ اسکالر شعبۂ اردودہلی یونیورسٹی دہلی
9871523432
[email protected]
فسانۂ آزاد پنڈت رتن ناتھ سرشارکی ایسی معرکۃ الآرا تصنیف ہے،جس نے نہ صرف یہ کہ سرشار کو تاریخِ اردو ادب کے صفحات میں ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ کر دیا ؛بلکہ اردو ادب کو ایک نئی زبان،نیا اسلوب وانداز اور نئے طرزِ فکر سے آشنا کیا،سرشار نے اسیے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں جہاں داستان گوئی اور مافوق الفطرت عناصر پر یقین کرنے کا عام رواج تھا،عام طور پر داستان گو حضرات طلسم و سحر اور مافوق الفطرت عناصر کے ذریعہ اپنی کہانیو ں کو رنگین اور دلچسپ بنانے کی کوشش کرتے تھے ،مگر سرشار نے ایک نئی راہ نکالی اور اپنی شاہ کار تصنیف جسے کوئی داستانی ناول،کوئی صحافتی ناول،تو کوئی داستان اور ناول کے درمیان کی کڑی کہ کر پکارتا ہے ،اس میں ماحول و معاشرہ کی ترجمانی اور عکاسی اس انداز سے کی کہ پوری دنیائے اردو ادب حیران رہ گئی ،اپنے اس لاجواب تصنیف میں سرشار نے نہ صرف یہ کہ عمدہ زبان ،نئے الفاظ ،دلفریب محاورے ،فصیح وبلیغ جملے اور چست بندشیں شامل کرکے اپنی زبان دانی اور فنکاری کا ثبوت دیا ہے،وہیں اپنے قارئین کو بولنے کا سلیقہ اور معاشرہ کو سمجھنے کا طریقہ بھی بتلایا ،ان کا پلاٹ اگرچہ کمزور ہے ؛مگر کرداروں اور ان کے مابین ایک اچھوتے انداز سے مکالمہ کراکے اس کمی کو دور کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور کامیاب بھی ہوئے ہیں ،ا س کی ادبی اہمیت کا اندازہ لگانے کیلیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ یہ پہلا ایسا شہ پارہ ہے جو کتابی شکل میں شائع ہونے سے پہلے قبولیت عام حاصل کرچکا تھا اور سرشار کو مبارکبادیوں کے سینکڑوں خطوط موصول ہونے شروع ہوگئے تھے،رتن ناتھ سرشار کا یہ داستانی ناول چوں کہ قسط وار اودھ پنچ اخبار میں شائع ہوا تھا ،اس لیے پلاٹ میں نحافت اور ضعف ہے ،مگر اس کی کمی مزاحیہ اور لازوال کردار خوجی نے کر دی ہے اور سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ جیسا کردار استعمال کیا ہے ویسی ہی زبان بھی،نواب کی گفتگو نوابی انداز میں ہے اور بھٹیارن کی اسی کی طرح ،اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لکھنؤکے تہذیب و معاشرت کو سرشار کس قریب سے دیکھتے ،سمجھتے اور جانتے تھے ،انہوں نے سرور کی تقلید میں مسجع اور مقفی جملے ضرور استعمال کیے ہیں،مگر ایسا ماحول تیار کردیا ہے کہ قاری پرذرہ برابر اکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا اور وہ کچھ اور کچھ کے طلب میں غرق ہو جاتا ہے ہم اس مضمون میں مختصرا سرشار اور فسانہ آزاد اور اس کی ادبی اہمیت کا جائزہ لیں گے ۔
رتن ناتھ سرشار کا مختصر تعارف: پنڈت رتن سرشا ر کے والد کا نام بیج ناتھ در تھا ،سرشار کی پیدائش کے متعلق محققین نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے،پریم پال اشک نے ان کی تاریخ پیدائش ،۵؍ جون ۱۸۴۶ ؁ء لکھاہے جبکہ جمیل جالبی اور چکبست نے ۱۸۴۷ ؁ء قرار دیا ہے اور تاریخ وفات جمیل جالبی اور پریم پال اشک نے ۲۷؍ جنوری ۱۹۰۲ ؁ء اور چکبست نے ۲۱ ؍ جنوری ۱۹۰۳ ؁ لکھا ہے ،ان کا تعلق کشمیری پنڈت گھرانے سے تھا ،ان کے والد بغرض تجارت کشمیر سے ہجرت کرکے لکھنؤآگئے تھے اور پورے طور پر لکھنؤ کے تہذیب و معاشرت میں رنگ گئے تھے ،فارسی اور عربی کی تعلیم مدرسہ میں اور انگریزی تعلیم کنگ کالج لکھنؤمیں حاصل کی ،ادبی سفر کا آغاز ’’مراسلۂ کشمیر‘‘ سے کیا ،البتہ نئے طرز تحریر کی ابتدا اودھ اخبار سے کیا ،اس کے بعد مختلف اداروں میں ملازمت کرنے کے بعدحیدرآباد تشریف لے گئے اور وہاں بھی دبدبۂ آصفی کے نام سے ایک رسالہ نکالنا شروع کیا جو کچھ ہی عرصہ بعد بند ہو گیا اور وہیں انتقال بھی کیا ،سرشار کی بہت سی تصانیف اور بہت سے ترجمے ہیں ،جیسے شمس الضحی ٰ،فسانۂ آزاد،اعمال نامہ روس،جا م سرشار،سیر کہسار،کامنی،خمکدۂ سرشار،پی کہاں،بچھڑی دلہن ،شاخ بنات اور الف لیلہ کا ترجمہ کافی اہمیت کے حامل ہیں،مگر ان کی اصل مقبولیت فسانۂ آزاد کی وجہ سے ہوئی حالاں کہ مشہور ہے کہ سرشار لا ابالی پن میں رہتے تھے اور کاتب ان کا کالم لکھنے کے لیے ڈھونڈتا رہتا تھا ،اسی سے ان کی فنکاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،اگر انہوں نے سنجیدگی اور حضوری دل سے اس شاہ کار تصنیف کو لکھا ہوتا تو اس کی اہمیت کیا ہوتی ؟ جمیل جالبی نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ ’’یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں خصوصاً فسانۂ آزاد میں بلا ضرورت تکرار بہت زیادہ ہے ،لیکن طباعی کی اسی فراوانی معلوم ہوتا ہے کہ ایک دریا ہے کہ بہتا چلا جا رہا ہے‘‘(۱)
فسانۂ آزاد۔ وجہِ تصنیف اور سن تصنیف: فسانۂ آزاد پنڈت رتن ناتھ سرشار نے اودہ پنچ اخبار میں ۱۸۷۸ ؁ء سے ۱۸۷۹ ؁ء کے درمیان قسط وار شائع کی تھی اور کتابی شکل میں پہلی مرتبہ ۱۸۸۰ ؁ء میں منظر عام پر آئی ،اس کی چارضخیم جلدیں ہیں جو سواتین ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے ،اس کی وجہِ تصنیف کے تعلق سے بھی لوگوں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے،بعض حضرات نے اسے اصلاح معاشرہ سے تعبیر کیاہے تو بعض نے انہیں نثر کی دنیا کا حالیؔ قرار دے کر مصلح قوم قرار دینے کی کوشش کی ہے،مگر بہت ہی اہم وجہ پریم پال اشکؔ نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے’’جب سرشار کھیری سے لکھنؤ آئے تو یہاں شب و روز یاران دقیقہ رس و صحیح نفس کی صحبت میں گزرتے تھے ،اس صحبت میں جہاں ایک سے ایک طرار اور حاضر جواب موجود ہوتا تھا وہیں منشی سجاد حسین ایڈیٹر اودھ پنچ اور پنڈت تربھون ناتھ ہجرؔ بھی شریک ہوا کرتے تھے ،اسی صحبت میں ایک روز پنڈت تربھون ناتھ ہجرؔ نے کہا کہ اگر کوئی ناول ایسا ہے کہ جس کا ایک صفحہ پڑھیے اور ممکن نہیں کہ بیس مرتبہ نہ ہنسیے تو وہ ڈان کوٹکسائٹ ہے ،اگر اردو میں اس طرز کا افسانہ لکھا جائے تو خوب ہے ،حضرت سرشار کے دل پر اس وقت کی بات ایسی کارگر ہوئی کہ اردو میں ڈان کوٹکسائٹ کے انداز پر مضامین لکھنے کا شوق پیدا ہوا چنانچہ اودھ اخبارمیں مختلف مضامین شائع ہونے لگے ‘‘(۲)اس کے علاوہ جمیل جالبی نے بھی اسی انگریزی ناول کو اس کا محرک قرار دیا ہے مگر دوسرے انداز میں مذکورہ اقتباس دیکھیے جالبی نے اس تناظر میں کیا بات کہی ’’یہ وہ تصنیف تھی جس نے سرشار کو حد درجہ متاثر کیا تھا اور انہوں نے اسی کے انداز و ہیئت میں فسانۂ آزاد لکھا‘‘(۳)۔
پلاٹ و کردار: اس شاہ کار تصنیف کے پلاٹ میں ویسے توکئی جان نہیں ہے؛ اس لیے کہ کمزور اور غیر مربوط ہے ،اس کے علاوہ بعض حضرات کے کرداروں پر بھی غیر سنجیدگی او ر غیر متانتی کا الزام عائد کرتے ہیں ،مگر یہ حقیقت ہے کہ فسانۂ آزاد کی اصل شناخت قصہ و کہانی کی وجہ سے نہیں بلکہ کرداروں کی وجہ سے ہے،اس کے کرداروں میں اصل ہیرو آزاد ہے اور دوسرا مقام خوجی کا ہے جو افسانوی دنیا کا ایک لازوال کردار ہے،اگر صحیح نقطۂ نظر سے غور کیا جائے تو اس داستانی ناو ل میں جان اور کشش اسی خوجی کی وجہ سے ہے ،ان کے علاوہ حسن آرا،سپہر آرا ،نواب،مصاحب،راوی،چپراسی،مرزا،اللہ رکھی،بوا زعفران وغیرہ ہیں،ڈاکٹر جمیل جالبی فسانۂ آزاد کوطویل ناول کی طرح قرار دیا ہے اور چھ پلاٹ کی نشاندہی کی ہے،’’۱۔آزاد اور حسن آرا کا قصہ ،۲۔دوسرا قصہ ہمایوں فر اور حسن آرا کی بہن سہ پہر کے عشق سے تعلق رکھتا ہے ،۳۔تیسرے قصہ میں نواب ذوالفقار علی خاں کی بٹیر بازی کا قصہ بیان کیا گیا ہے،۴۔اللہ رکھی بازاری عورت ہے جو زندگی میں مختلف طبقوں سے گذرتی ہوئی دکھائی جاتی ہے،۵۔خوجی کے آزاد کے ساتھ اور الگ رہ کر مختلف واقعات میں پھنسنے کا قصہ ہے،۶۔متعدد چھوٹے قصے جو محلات میں پیدا ہوتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں ‘‘(۴)
اگر ان کرداروں پر تبصرہ کیا جائے تو بلا جھجک کہا جا سکتا ہے کہ خوجی کی شکل میں سرشار خو دہیں اور وہی اصل ان کے عین مزاج کے مطابق ہے جس تحریک کے تحت اس معرکۃ الآرا کتاب کی تصنیف کی ،پلاٹ کی کمزوری کی طرف جمیل جالبی اور پریم پال اشک دونوں نے اشارہ کیا ہے دیکھیے جالبی نے کیا تبصرہ کی ہے’’یہ سب پلاٹ نہایت درجہ نحیف ہیں اور ان کو ہزاروں صفحات پر پھیلاتے ہوئے سرشار لکھنوی معاشرے کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں‘‘(۵)پریم پال اشک نے اسی بات کو اس انداز سے تحریر کیا ہے’’پلاٹ کے نقطۂ نظر سے نہایت کمزور اور ناقص ہے ،البتہ جتنے بھی کردار پیش کیے ہیں اس نے زندگی کی صحیح ترجمانی کی ہے‘‘(۶)۔
زبان : فسانۂ آزاد کی اصل خوبی اس کی زبان ہے،چو کہ سرشار نے لکھنؤ کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں،ا س لیے ایک بھنگی سے لے کر نوابوں تک اور مردوں سے لے کر عورتوں تک ہر طبقہ اور صنف کی زبان کو کوبہت اچھی طرح جانتے تھے اور اس کا انہوں نے پورا حق بھی اداکیا ہے،جہاں جیسا کردار ہوتا ہے ویسی زبان بہ آسانی اختراع کر لیتے ہیں اور چوں کے انہوں نے مسلمان عورتوں کو بھی قریب سے دیکھا تھا اس لیے مسلمان اور ہندو دونوں گھرانوں کی عورتوں کے زبان کو بھی سلیقے سے ادا کرتے ہیں ،سرورؔ کی تقلید میں ابتدائی زبان مسجع ،مقفی اور رنگین ہے ،اس کے متعلق جالبی ؔ نے لکھا ہے کہ ’’سرشار ؔ کے بیان میں زبان کے لچھے ویسے ہی ہیں جیسے سرور کے ہاں ملتے ہیں ،مگر ان لچھوں میں واقعیاتی و حقیقی اور مزاحیہ عناصر نے بیان میں ایک نیا رنگ پیدا کر دیا ہے‘‘(۷)،پریم پال اشک نے فسانۂ آزاد کی زبان کا نقشہ اس انداز سے کھینچا ہے کہ ’’سرشار نے اپنے فن کے روپ میں اردو ادب کو زبان دی ،بولنے کاسلیقہ سکھایا ،نئے نئے محاورے ،نئے نئے الفاظ اور نئی نئی بندشیں ہی نہیں ؛بلکہ انہیں ادا کرنے کا ایک نیا ،لاجواب اور اچھوتا انداز بخشا ،سرشار اپنے فن میں طاق ہیں ،اس میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ‘‘(۸)۔
اسلوب: سرشار کا زمانہ چوں کہ سرور کے بعد کا ہے ،اس لیے سرشار پر ان کا رنگ گہرا ہے ،ثقیل اور بھاری بھڑکم الفاظ کا استعمال خوب کرتے ہیں ،مگر ایسا انداز بیان اختیار کرتے ہیں کہ جس سے ان کے کلام میں ندرت او ررنگینی پیدا ہوجاتی ہے،بطور نمونہ ایک اقتباس’’ آزاد : بندہ پرور مجھے جو کچھ صلواتیں سنانا ہوسنالیجیے ،الو بنا لیجیے مگر برائے خدا ایسے طبیب النفس ،فخر بنی نوع انساں ،بلیغ نکتہ داں بزرگوار کے حق میں توکلمات خرافات زبان سے نہ نکالیے ‘‘(۹)
مزاح : سرشار نے چوں کہ ایک نئے انداز سے لکھنؤ کے معاشرت کی عکاسی اور اس پر چوٹ کی ہے،اس لیے جا بجا مزاحیہ باتوں کا سہارا لیتے ہیں اور ان کا کوئی کردارایسا نہیں ہے ،جس پر مکمل طور پر سنجیدگی ہو سب کے ذمہ کچھ نہ کچھ مزاح ضرور ہے اور سرشار کا سب سے اہم کرادر خوجی ت ومزاح کا امام ہے ،اس کا تعارف ہی اس انداز سے ہوتا ہے کہ قاری ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا ’’ٹھگنا سا قد،منحنی سی گردن،لمبوترا چہرہ ،اس پر بکرے جیسی لمبی ڈاڑھی ،اور ساٹھ سال کی عمر ‘‘اس کے علاوہ خوجی اور آزاد کے درمیان جو گفتگو ہے وہ بھی مزاح کی عمدہ مثال ہے’’ خوجی : (آزاد سے ) اب طبیعت کیسی ہے؟ آزاد: مر رہا ہوں ،خوجی : الحمد للہ ،آزاد : خدا کی مار تجھ پر دل لگی کا بھی کیا بھونڈا وقت ہاتھ آیا ہے،جی چاہتا ہے اس وقت زہر کھالوں ،خوجی: نوش جاں اور اس میں تھوڑی سی سنکھیا بھی ملا لیجیے گا‘‘(۱۰)۔
مکالمہ نگاری : سرشار نے مکالمہ نگاری بڑی فنکاری سے کی ہے ،وہ مکالمہ میں گفتگو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ کردار کا معاشرتی اور تہذیبی نقشہ بھی واضح ہو جاتا ہے،یہی ان کا کمال ہے کہ اگر کردار اشراف سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی زبان بھی علمی ہوتی ہے او ر اگر بازاری ہے تو وہی بازاری اور ابتذال آمیز زبان اسے عطاکرتے ہیں ،اسی وجہ سے ان کی اس گرامایہ تصنیف میں جان پڑ گئی ہے ،ابتدا میں تو بیانات زیادہ ہیں مگر جوں جوں تصنیف آگے بڑھتی گئی مکالمات بڑھتے گئے ہیں ،اسی لیے جمیل جالبی نے تبصرہ کیا کہ ’’یہ تصنیف مکالموں کی وجہ سے زندہ ہے‘‘ ’’اس نے مکالموں سے اپنے کرداروں اور خصوصاً خوجی کے کردار کو زندۂ جاوید کرکے ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ کر دیا ہے ،مکالمے اور کردار ہی اس تصنیف کو زندہ رکھیں گے ‘‘(۱۱)۔
لکھنوی معاشرت کی عکاسی: سرشار چوں کہ لکھنؤ کے طرز معاشرت اور وہاں کی تہذیب کو بہت اچھی طرح جانتے تھے ،اس لیے انہوں نے اپنے اس تصنیف میں لکھنؤ کی روبہ زوال تہذیب کی سچی نمائندگی کی ہے ،انہوں نے لکھنوی تہذیب کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ آج بھی ان کی اس کتاب کو پڑھ کر اس وقت کی تہذیب کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں،انہوں نے ہر اعتبار سے اس تہذیب کی منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے،خواہ تعیش پسندی ہو،مذہبی عقائد یا پھر علمی اور ادبی ذوق کا معاملہ سب کو اسی انداز سے بیا ن کیا ہے ،جمیل جالبی اس تعلق سے اظہار خیال کیا ہے کہ ’’فسانۂ آزاد نے لکھنوی معاشرت کی ایسی بھرپور ترجمانی کی ہے کہ آج بھی ہم فسانۂ آزاد کے مطالعہ سے اس تہذیب کے خدو خال نمایاں کر سکتے ہیں‘‘(۱۲)،ڈاکٹر لطیف حسین نے لکھاہے کہ ’’سرشارکا فسانۂ آزاد غدر کے بعد کے انحطاط پذیر لکھنوی تمدن کی سچی تصویر ہے ‘‘(۱۳)۔
حقیقت نگاری : سرشارنے لکھنؤ کے معاشرہ و تہذیب کی سچی اور حقیقی منظر کشی کی ہے،مصنوعی اور مبالغہ آمیزی کا احساس خوب ہوتا ہے ،ان کے کرداروں میں بھی عیش پسندی اور لذت اندوزی کا رنگ جھلکتا ہے،مگر حقیقت ہے کہ اس وقت لکھنؤ کا ماحول ہی کچھ ایسا تھا او ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی ادیب روبہ زوال تہذیب کی منظر کشی کرے گا تو وہی چیزیں نگاہ میں آئیں گی ہی ،یہ الگ بات ہے کہ ان کی مزاح نگاری میں میں بے ڈھنگا پن کا احساس ہوتا ہے ،اس کے باوجود اس زوال پذیر معاشرہ پر مزاح کے سانچے میں ڈھال کر ایسا طنز کرتے ہیں کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ،ان کی یہ معرکۃ الآراء کتاب طویل اور ضخیم ضرور ہے ،مگر انہوں نے صرف معاشرہ کی سچی تہذیبی جھلکیوں سے ہی صفحات پر کیے ہیں ،مافوق الفطرت عناصر کا بالکل سہارا نہیں لیا ہے یہ ان کا کمال ہے ۔سہیل بخاری نے سرور اور سرشارکا اس تناظر میں موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’سرور کا لکھنؤ قبرستان ،وحشتناک ،ویران اور سنسان ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے غنیم کے حملے سے بیشتر مکیں اپنے اپنے مکان چھوڑ کر شہر سے نکل گئے ہیں ،سبھی کچھ موجود ہے ،مگر آدمی مطلق نہیں واں نام کو ،سرشار کے یہاں آدمیوں کا جنگل ہے اور واقعات کا سیلاب ،مختصر یہ کہ سرور سے زندگی اور سرشار سے موت پناہ مانگتی ہے ‘‘(۱۴)،ڈاکٹر لطیف حسین ادیب نے لکھا ہے کہ ’’سرشار حقیقت نگار تھے ،انہوں نے معیاری چیزوں کو چھوڑدیا اور جو کچھ وہ روزانہ اپنے گردو پیش دیکھ رہے تھے ،اس کی مرقع کشی کی ،سرشار کی تصنیفات اس نظر سے دیکھی جانے کی مستحق ہے ،ان کو معیارِ اخلاق یا معیار شرافت سمجھنا حددرجہ غلطی ہے ،وہ ایک زوال پذیر سو سائٹی کا نقشہ کھینچ رہے تھے اور یہ یاد رکھیے کہ زوال پذیر سوسائٹیوں کا کسی طرح معیار بلند نہیں ہوتا ‘‘(۱۵)۔
خلاصہ: فسانۂ آزاد جسے پنڈت رتن ناتھ سرشار نے اودھ اخبار میں قسط وار شائع کیا،اردو ادب میں بہت ہی بلند مقام رکھتی ہے،یہ الگ بات ہے کہ اس کے پلاٹ میں کمزوری ہے،مگر دوسرے فنی اور ادبی محاسن اس قدر موجود ہیں جو اس ضعف کو سامنے آنے نہیں دیتے ،زبان وبیان کی چاشنی ،نئے نئے الفاظ و محاورات اور عمدہ مکالمات و اسلوب کے ذریعہ سرشار نے لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کی ایسی منظر کشی کی ہے کہاس کی نظیر نہیں ملتی اور اس کے ادب میں بلند مقام ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ نہ صرف یہ ا س کی ادبی اہمیت کا تمام نقادان فن نے اعتراف کیا ہے ،بلکہ آج تک ادبی دانش گاہوں کے نصاب کا حصہ ہے ،اس سے بڑھ کر مقبولیت کی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔
حوالہ جات: (۱)۔تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص: ۱۳۴۸،(۲) رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص:۲۸،
(۳) تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص:۴۴۔۱۳۴۳،(۴)ایضاً ص: ۱۳۵۲،(۵) ایضاً ص :۱۳۵۳،(۶) رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص: ۵۴،(۷) تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص:۱۳۵۳،(۸)رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص:۵۸،(۹)فسانۂ آزاد تلخیص ص: ۱۲(۱۰) ایضاً ص :۱۱(۱۱)تاریخ ادب اردو جمیل جالبی۱۳۵۶،(۱۲)ایضاً ص:۵۵۔۱۳۵۶(۱۳)رتن ناتھ سرشار کی ناول نگاری ص:۳۹۵،(۱۴)اردو ناول نگاری مصنفہ سہیل بخاری(۱۵)رتن ناتھ سرشار کی ناول نگاری ۔
ABDULBARI,D-29,SHAHEEN BAGH,ABUL FAZAL ENCLAVE PART 2,JAMIA NAGAR,OKHLA,
NEW DELHI -25

You may also like

Leave a Comment