فرقہ پرست عناصر کی بڑی کامیابی


عظیم اختر
M: 9810439067
عام لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے اور ان کی سوچ و فکر کا رخ موڑنے اور اپنی پارٹی کے دوسری تیسری صف کے نیتاؤں اور ورکروں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے عام طورپر ہر حکمراں پارٹی کے ذمہ دار اقتدار میں آنے کے بعد اپنی پارٹی کی کامیابیوں اور فتوحات کا ڈنکا پیٹنے، ڈھول بجانے اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے موجودہ ذمہ داروں نے اقتدار میں آتے ہی اپنے سیاسی عزائم اور فتوحات کا ڈنکا پہلے دن ہی سے پیٹنا شروع کر دیا تھا اور جبکہ پارلیمانی الیکشن دروازے پر دستک دے رہا ہے اس لیے حکمراں پارٹی کے چھوٹے بڑے تمام نیتا اپنی پارٹی کی کامیابیوں، کارناموں اور فتوحات کو گنوانے اور اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے میں جی جان سے مصروف ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اقتدار اور جزبِ اختلاف میں بیان بازی کا بازار گرم ہے۔
ہم حکمراں پارٹی کے تمام تر دعووں اور کارناموں کے پس منظر میں اپنے قارئین کی توجہ حکمراں پارٹی کے اس کارنامے اور کامیابی کی طرف دلانا چاہتے ہیں جس کا صبح و شام اخباروں اور ٹی وی چینلز پر سنائے جانے والے فسانے میں دور دور تک کوئی ذکر نہیں اور نہ شاید حکمراں پارٹی کا قد آور سے قد آور نیتا بھی بھول کر بھی کبھی زبان پر نہ لاتے کہ یہ ان کے ہی قدموں کی برکت ہے کہ آج گؤ رکھشا، لو جہاد، بیٹی کی واپسی اور گھر واپسی کے نعرے لگا کر مسلمانوں کے خلاف مذہبی نفرت، تنگ نظری، عدم رواداری اور عصبیت کا بازار گرم کرنے والے اس کے کٹر پنتھی، متعصب ورکر اور امن دشمن عناصر آزاد گھوم رہے ہیں اور انڈین پینل کوڈ یعنی تعزیراتِ ہند کی انگنت دفعات اپنے بے اثر ہونے پر خاموشی سے نوحہ خواں ہیں۔ اسے کارنامہ ہی کہا جائے گا کہ ملک میں گرچہ دستورِ ہند کی پابند ایک منتخبہ حکومت موجود ہے،وطن دشمن عناصر اور مذہب کے نام پر منافرت، تنگ نظری اور عدم رواداری پھیلانے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے گرچہ متعدد قوانین اور دفعات موجود ہیں لیکن یہ حکومتِ وقت ہی کا کارنامہ ہے کہ اپنے متعصب، کٹر پنتھی اور بے لگام ورکروں کو بچانے کے لیے ان قوانین کے نفاذ کو کمالِ ہوشیاری سے اس طور برف میں لگایا کہ راجستھان، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں مسلم دشمنی کی وہ لہر اپنا رنگ دکھا رہی ہے جس کا تصور مسلم بے زاری کے لیے مشہور اور آر ایس ایس کے آنجہانی سنچالک گورو گولوالکر جی نے بھی شاید کبھی نہ کیا ہو۔
دورِ شاہی میں اگر ایک طرف تحریر و تقریر کی آزادی نہیں تھی تو دوسری طرف گردن زدنی کے خوف سے مذہبی اور ذات پات کی بنیادوں پر کسی بھی قسم کی نفرت اور عصبیت پھیلانے کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن جب برطانوی سامراج نے ہندوستان پر اپنا مکمل تسلط جما لیا اور یہاں کے عوام کا ذہنی تجزیہ کرتے ہوئے سادھو، سنتوں، رشیوں اور منیوں کی تعلیمات کا گہوارہ کہلائی جانے والی دھرتی پر مذہبی نفرت، عصبیت، علاقائی تنگ نظری کے انکر پھوٹنے کے امکانات نظر آئے تو لارڈ میکالے نے یہاں کے عوام کو انڈین پینل کوڈ کا تحفہ دیتے ہوئے ایک ایسی دفعہ کو خاص طورپر شامل کیا گیا تاکہ یہاں کے عوام تحریر و تقریر کی آزادی کی آڑ میں مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر نفرت و تعصب اور تنگ نظری کی کاشت شروع نہ کر دیں۔ انڈین پینل کوڈ یا تعزیرات ہند کا مسودہ تیار کرتے ہوئے شاید لارڈ میکالے نے سوچا بھی نہ ہو کہ اس ملک میں ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب تحریر و تقریر کی آزادی کا استحصال کرتے ہوئے یہاں کے کٹر پنتھی عناصر تنگ نظری اور عصبیت کی کاشت کرتے ہوئے اقتدارِ اعلیٰ تک پہنچ جائیں گے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ انگریزوں نے اپنے دورِ اقتدار میں تعزراتِ ہند کی اس دفعہ کا کتنے مؤثر طریقے سے استعمال کیا لیکن تقسیمِ وطن کے بعد کانگریس جیسی سیکولر جماعت کے طویل ترین دورِ اقتدار میں دہلی اور اتر پردیش وغیرہ کے اردو اخبارات کے خلاف بھی اس کا استعمال کیا جاتا رہا اور اردو اخبارات کے مولانا عثمان فارقلیط، مولانا عبد الوحید صدیقی، مولانا محمد مسلم اور صاحبزادہ محمد مستحسن فاروقی وغیرہ جیسے محتاط صاحبِ قلم مدیرانِ کرام دفعہ ۱۵۳A کے تحت برسوں قید و بند کی مصیبتیں جھیلتے رہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ اردو اخبارات کے مدیران اور مسلمانوں کے سیاسی اور مذہبی لیڈروں نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے ملک میں کبھی مذہبی منافرت، عصبیت اور تنگ نظری پھیلانے کی کوشش نہیں کی، اس کے بر عکس حکمراں پارٹی کی ذیلی تنظیمیں اور ان کے ذمہ دار حضرات تحریر و تقریر کی آزادی کی آڑ میں صرف مذہبی نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ حکمراں جماعت کی ان ذیلی تنظیموں کے ذمہ داروں کے بیانات پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم اپنے قارئین کو بتا دیں کہ تعزیراتِ ہند کی اس دفعہ میں کیا کیا ہے۔
تعزیراتِ ہند میں دفعہ153A کی تعریف یوں کی گئی ہے :
’’مذہب ، نسل ، جائے پیدائش ، سکونت، زبان وغیرہ کی بنا پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی بڑھانی اور موافقت کے قیام میں مضرت رسال افعال کرنا:
153 ۔ الف۔ جو کوئی:
( الف) بذریعہ الفاظ خواہ کہے گئے یا تحریری یا تقریری یا بذڑیعہ اشارات یا واضح اظہار یا دیگر طورپر مذہب، نسل،جائے پیدائش، سکونت، زبان، ذات پات یا فرقے یا کسی بھی دیگر بناء پر مختلف مذہبی، نسلی، لسانی یا علاقائی گروہوں یا ذاتوں یا فرقوں کے درمیان نا موافقت یا دشمنی ، نفرت یا بد ظنی کے جذبات بڑھائے یا بڑھانے کا اقدام کرے ۔ یا
(ب) کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرے جو مختلف مذہبی، نسلی، لسانی یا علاقائی گروہوں یا ذاتوں یا فرقوں کے درمیان موافقت کے قیام میں مضرت رساں ہو یا جس سے عافیت عامہ میں خلل واقع ہو یا واقع ہونے کا امکان ہو۔ یا
( ج) کوئی مشقت، نقل و حرکت، ڈرل یا دیگر ایسی سرگرمی ادارے سے منظم کرے کہ ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے کسی مذہبی، نسلی، لسانی یا علاقائی گروہوں یا ذات یا فرقے کے خلاف قوت مجرمانہ یا تشدد کا استعمال کریں یا استعمال کی تربیت پائیں، یہ جانتے ہوئے کہ ایسی سرگرمی میں حصہ لینے والوں کی نسبت یہ امکان ہے کہ وہ قوت مجرمانہ یا تشدد کا استعمال کریں گے یا استعمال کی تربیت پائیں گے یا اس ادارے سے ایسی سرگرمی میں حصہ لے، قوتِ مجرمانہ یا تشدد کا استعمال کرے یا استعمال کی تربیت پائے یہ جانتے ہوئے کہ ایسی سرگرمی سے کسی بھی وجہ سے ایسی مذہبی، نسلی، لسانی یا علاقائی گروہ یا ذات یا فرقے کے افراد کے درمیان خوف یا خطرہ یا عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو یا پیدا ہونے کا امکان ہو، اسے تین سال تک کی سزائے قید یا جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔‘‘
تعزیراتِ ہند کی دفعہ 153(الف) اور اس کی دوسری شقوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر گھر واپسی، لو جہاد، بیٹی کی واپسی وغیرہ وغیرہ جیسے لایعنی موضوعات پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہم نوا تنظیموں کے ذمہ داروں کے وقتاً فوقتاً اخبارات کی زینت بننے والے بیانات کو دیکھا جائے تو ہر چھوٹا بڑا بیان مذکورہ بالا دفعات کی دھجیاں اڑاتا ہوا نظر آئے گا۔ہم یہاں پروین تو گڑیا ، سبرامنیم سوامی اور اسی قسم کا ذہن اور فکر و نظر رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہم نوا اور متعصب نیتاؤں کے بیانات کے اقتباسات دے کر مضمون کو طول دینا نہیں چاہتے لیکن یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ مسلم دشمن عناصر صرف’’ سیّاں بھئے کوتوال،ہمیں ڈر کاہے کا‘‘ کے زعم میں اپنی ذہنی خباثت اور دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔ گرچہ یہ تمام قوانین قابلِ دست درازی پولیس کے زمرے میں آتے ہیں لیکن پولیس کے عملے سے اس طرح کے بیانات پر از خود کسی قسم کی قانونی کارروائی کی امید رکھنا عبث ہے کیونکہ ہمارے ملک کی پولیس کا عملہ اس قسم کے بیانات کی تہہ تک پہنچنے کی وہ ذہنی صلاحیت ہی نہیں رکھتا جو اس طرح کے نازک اور حساس مسائل کو ڈیل کرنے کے لیے اشد ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ لو جہاد، گھر واپسی، گؤ رکھشا وغیرہ کے حوالے سے اخبارات میں چھپنے والے قابلِ اعتراض بیانات کی شدت کو ہمارے ملک کی کسی بھی ریاستی پولیس نے آج تک محسوس کر کے مذکورہ بالا دفعات کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی۔ موب لنچنگ کے پردے میں معصوم مسلمانوں کے قتلِ عمد پر مقامی پولیس ذرا حرکت میں آئی ہے جس کی وجہ ان معاملات میں سپریم کورٹ کی دلچسپی ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے ذمہ داران موب لنچنگ کے معاملات میں از خود دلچسپی نہ لیتے تو شاید ہریانہ ، راجستھان ، مدھیہ پردیس اور اترپردیش میں مسلمانوں کا یہ قتلِ عمد قانون کی توجہ کا سبب ہی نہ بنتا، لیکن المیہ یہ ہے کہ گؤ رکھشا کے نام پر معصوم ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے قاتل جب گرفتاری کے بعد عدالتوں سے ضمانت پر چھوٹ کر آئے تو مرکز اور ریاستی حکومتوں میں وزارتوں کا قلمدان سنبھالے ہوئے بھاجپائی نیتا انسانیت کے ان ملزموں کو پھول مالائیں پہنا کر اور عوامی ہیرو کی طرح ان کا استقبال کرتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کو وہ خاموش پیغام دیتے ہیں جس کی وضاحت کرنا ہم ضروری نہیں سمجھتے، بلکہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اقتدار کا حصہ بنے ہوئے ایسے تنگ نظر لوگوں کے اس طور خاموش پیغامات نے تعزیراتِ ہند کی دفعہ153A کو آج کے سیاسی اور سماجی منظر نامے میں ایک بے اثر دفعہ بنا کر رکھ دیا ہے، ورنہ اس دفعہ کا مؤثر استعمال اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی بڑے بڑے منہ پھٹ لوگوں کا منہ بند کرنے کے لیے کافی ہے، لیکن یہ ایک المیہ سے کم نہیں کہ تحریر و تقریر کی آزادی کے پردے میں مذہبی نفرت کے دیدہ و دانستہ فروغ نے اس دفعہ کو بے اثر بنا کر رکھا دیا ہے۔