فخرالدین علی احمد میموریل لکچر۱۹جولائی کو

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام سابق صدر جمہوریہ ہند مرحوم فخرالدین علی احمد کے یوم ولادت کی مناسبت سے ہرسال کی طرح اس سال بھی فخرالدین علی احمد میموریل لکچر کا اہتمام کیا جارہاہے۔ اس دفعہ سابق نائب صدر، جمہوریہ ہند جناب حامد انصاری’’گناہ اور گنہگار: غلطی کہاں ہوئی؟‘‘ کے عنوان سے ۱۹ جولائی، بروز جمعہ کوشام چھے بجے ایوانِ غالب میں خطبہ پیش کریں گے۔ اس جلسے کی صدارت سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب اے۔ایم۔ احمدی فرمائیں گے اور سابق لیفٹیننٹ گورنر،دہلی نجیب جنگ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہیں گے۔
جناب حامد انصاری نے نائب صدرجمہوریہ ہند کے عہدے پر دس سال تک فائز رہ کرملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔نائب صدرجمہوریہ ہند کے علاوہ آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ملک میں کئی اہم باوقارعہدوں پربھی فائز رہے۔ آپ کئی ممالک میں سفیر بھی رہے اورسفارتی عہدے پر رہ کر آپ نے اہم امور انجام دیے۔سیاسی رہنما اورڈپلومیٹ کے علاوہ آپ کاشمار بڑے دانشوروں میں ہوتا ہے۔جناب حامد انصاری آج بھی کئی اداروں کے سرپرست ہیں اور آپ جس ادارے  سے وابستہ رہے اپنی فکراور اپنے اعلیٰ وژن سے اُس ادارے کو بلند مقام پر پہنچایا۔ آپ کی تحریروں اور تقریروں سے سماج کومسلسل رہنمائی اور روشنی ملتی ہے۔ 
فخرالدین علی احمد میموریل لکچر کی خاص بات یہ ہے کہ اندرکمار گجرال، جسٹس اے۔ایم۔احمدی، موسیٰ رضا،پروفیسر مشیرالحسن،پروفیسر عرفان حبیب، منی شنکر ایئر،پروفیسر جسپال سنگھ، جسٹس مارکنڈے کاٹجو، پروفیسر احتشام حسنین، پروفیسر شمیم جیراجپوری جیسی اہم شخصیات نے اپنے خیالات کااظہار کیا ہے۔
 موضوع کی معونیت اور افادیت کو دیکھتے ہوئے امید کی جارہی ہے کہ بڑی تعداد میں اہلِ علم اس لکچر میں موجود رہیں گے۔