فتح پور کا تخلیقی طور


حقانی القاسمی
وہ شہر کبھی نہیں مرتے، جس کی شمعوں سے بہت سے ذہنی منطقے فروزاں ہوں اور جس کی روشنی کا دائرہ صرف شہر میں نہیں بلکہ پوری کائنات تک پھیلا ہوا ہو۔ نثری اور شعری سطروں میں جس شہر کی سانسیں چلتی رہتی ہوں، اس شہر کی قسمت میں فنا نہیں لکھا ہوتا۔ گنگا اور جمنا جیسے دو مقدس دریاؤں کے کنارے، الہ آباد اور کانپور جیسے اہم شہروں کے درمیان واقع فتح پور ہسوا، ایک ایسا شہر ہے جس کی پرانی تاریخ عظمتوں کی عبارتوں سے روشن ہے اور جدید تاریخ بھی اس عظمت کے تسلسل کو قائم رکھے ہوئے ہے۔
ویدک عہد میں یہ سرزمین انتردیش یعنی زرخیز سمجھی جاتی تھی۔ امتداد زمانہ کے باوجود اس کی زرخیزی قائم ہے۔ ویدک عہد کا یہ وہ درخشاں اور تاباں شہر ہے جس کے کئی علاقے آثار قدیمہ کے اعتبار سے نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں کہ وہاں سے 800 قبل مسیح کی اشیا برآمد ہوئی ہیں۔ موریا کشن گپتا عہد کے آثار کی موجودگی عہد قدیم میں اس شہر کے ترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے۔ جس شہر کے تذکرے پران اور ہندوؤں کے مقدس صحیفوں میں ہوں اور جہاں کے ایک علاقے کی زیارت مشہور چینی سیاح ہیونگ سان نے کی ہو، جس کے بارے میں جنرل کرمنگھم نے لکھا ہو تو اس سرزمین کی عظمت کے بارے میں کسی کو کیسے شک ہو سکتا ہے۔ یہی تذکرے کسی بھی زمین کو ابدیت اور تاریخی معنویت عطا کرتے ہیں۔ شہر ایسے ہی حوالوں میں سانس لیتا ہے تو اسے زندگی نصیب ہوتی ہے اور ایسے حوالے شہروں کی زندگی سے خارج ہو جائیں تو ایسے شہر اجاڑ اور ویران کہلاتے ہیں۔
فتح پور کی عظمتوں کے حوالے مختلف سطحوں پر نمایاں ہیں۔ اسی سرزمین میں اسنی اور بھتورا کے دومقدس گھاٹ بھی ہیں، جن کا ذکر پران میں ملتا ہے۔بودھی ادب میں بھی فتح پور کے علاقوں کا ذکر نمایاں طور پر ہے۔ یہ شہر اپنے جلو میں عظمتوں کے بہت سے آثار سمیٹے ہوئے ہے۔ اب بھی کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں تاریخی عظمتوں کے نقوش کندہ ہیں۔ فتح پور کا 52 املی، ان 52 مجاہدین آزادی کی یاد تازہ کرتا ہے جنہیں انگریزوں کے دور میں املی کے درخت پر پھانسی دی گئی تھی۔ یہیں بھتورا نامی وہ مقام بھی ہے جہاں گنگا کے بہاؤ کا رخ بدل جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کی تقدیسی معنویت بدل جاتی ہے۔ ہتگام جیسا قصبہ بھی ہے جو گنیش شنکر ودیارتھی اور اقبال ورما سحر جیسی شخصیتوں کا مسکن ہے۔ تندولی ایک ایسی جگہ ہے جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ افراد جو پیراسائیکلوجی کی پریشانیوں سے دوچار ہیں، جو سانپ، کتے کے کاٹنے کی وجہ سے اذیتوں میں مبتلا ہوتے ہیں انہیں اس گاؤں کے باباجھام داس کے مندر میں راحت ملتی ہے۔ راجہ وینوکی کے نام پر آباد بندکی وہ جگہ ہے جوشہید وطن جودھا سنگھ اور راشٹر کوی سوہن لال دیویدی کا مستقر ہے۔ فتح پور کا کھجوا ایسا علاقہ ہے جو مغل عہد میں بہت ہی اہمیت کا حامل تھا۔ یہیں کوڑا جہان آباد بھی ہے جہاں سے حسرت موہانی کی ابتدائی تربیت کا تعلق ہے۔
زمینوں کی زندگی ایسے ہی آثار اور عظمتوں پر منحصر ہوا کرتی ہے۔ فتح پور کو بہت سی سطحوں پر عظمتیں، رفعتیں اور بلندیاں نصیب ہیں۔ علوم و فنون، مذہبیات، ادبیات ہر اعتبار سے یہ علاقہ زرخیز اور روشن ہے۔ علامہ نیاز فتح پوری نے اس شہر کی تاریخی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یہ قدیم شہر ہے جو کسی وقت قنوج کی حکومت سے وابستہ تھا۔ یہاں کے ہندو فرمانروا جو راجگان ارگل کہلاتے تھے۔ قنوج کے باج گزار تھے۔ جب 1193 میں معز الدین بن سام غوری نے اس حکومت کو ختم کیا تو اس کے آخری فرمانروا جے چند نے اپنا خزانہ یہیں منتقل کر لیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے عہد میں یہ حکومت جونپور اور صوبہ کوڑا سے متعلق ہو گیا لیکن راجگان ارگل کا وجود پھر بھی باقی رہا۔ اس کے بعدعہد مغلیہ میں جب ہمایوں اور شیر شاہ کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو راجہ ارگل نے شیرشاہ کاساتھ دیا اور آخرکار مغل حکومت نے اسے ختم کر دیا۔ اکبر کے زمانے میں ضلع فتح پور کا نصف حصہ سرکار کوڑا سے متعلق تھا اور نصف مشرقی حصہ سرکار کڑا سے۔ عہد مغلیہ میں یہاں بمقام کھجوا دو بار جنگ ہوئی۔ پہلے اورنگ زیب اور شاہ شجاع کے درمیان 1659 میں، پھرفرخ سیر اور عزالدین جہاں دار کے بیٹوں کے درمیان۔ اورنگ زیب کے زمانے میں نواب عبدالصمد خاں یہاں کے حاکم تھے، جن کا مقبرہ اب بھی شکستہ حالت میں موجود ہے۔ زوال عہد مغلیہ میں صوبہ دار اودھ کا تسلط یہاں قائم ہو گیا۔ 1736 میں جاگیردار کوڑا کے اشارے پر مرہٹوں نے تاخت کی اور 1750 تک یہاں قابض رہے۔ اس کے بعد یہ علاقہ خوانین فتح گڑھ کے قبضے میں آ گیا لیکن 3 سال کے بعد نواب صفدر جنگ متصرف ہو گیا۔ اس کے بعد 1765 میں شاہ عالم کو مل گیا لیکن جب وہ مرہٹوں کا دست نگر ہو گیا تو انگریزوں نے اسے50لاکھ میں نواب وزیر اودھ کے ہاتھ فروخت کر دیا، لیکن چونکہ نواب وزیر رقم خراج ادا نہ کر سکا اس لئے 1801 میں سرکار کوڑا اور سرکار الہ آباد پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔ جب 16؍جنوری 1857 کو کانپور میں ہنگامہ شروع ہوا اور 8کو الہ آباد کے خزانے کا گارڈ فتح پور سے گزرا تو اسے لوٹ لیا گیا اور یہاں بھی لوٹ مار شروع ہو گئی۔ انگریز حکام یہاں سے بھاگ کر باندہ چلے گئے اور پورے ایک مہینے تک پورا ضلع انقلاب پسندوں کے قبضے میں رہا۔ 11؍جولائی کو جنرل ہویلاک نے انہیں بمقام باندہ شکست دے کر پھراپنا تسلط قائم کر لیا اور لکھنؤ کی حکومت ختم ہونے کے بعد اس طرف کے سارے علاقے پر انگریزوں کی مستقل حکومت قائم ہو گئی۔ (سال نامہ ’نگار‘ پاکستان1963)
نیاز فتح پوری کا یہی وہ شہر ہے جس سے علوم و اد بیات کے روشن ستاروں کا رشتہ ہے۔ اردو ڈرامے کے اولین معمار عبداﷲ فتح پوری، ہندی ڈرامے کی ممتاز شخصیت اصغر وجاہت، تحقیق و تنقید کے معتبر نام نیاز فتح پوری، فرمان فتح پوری، ابو محمد سحر، مظفر حنفی، یعقوب یاور فکشن میں امراؤ طارق، شاعری کے باب میں مولانا ابوسعید ایرایانی (فاضل دیوبند)، عطا علی خاک فتح پوری، نشتر، سحر، علی اوسط رشک، زیبا کوٹی، غلام مرتضیٰ راہی، فاروق ارگلی، ظفراقبال ظفر، حباب ہاشمی جیسی شخصیتوں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ آزادی کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے والے حکمت اﷲ خاں بھی اسی شہر کے ہیں اور فتح پور کی عظمت کو ایک نئی جہت اس طور پر بھی مل جاتی ہے کہ ندوۃ العلما لکھنؤ کاتاسیسی تعلق بھی اسی شہر سے جڑا ہوا ہے کہ مولانا سید شاہ ظہور الاسلام اسی شہر کے تھے اور بقول فرمان فتح پوری بعض تاریخی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا فی الواقع ندوۃ العلما کے محرک اور بانی تھے۔
علامہ نیاز فتح پوری (لیاقت علی خاں) اس شہر کی عظمت کا نشان امتیاز ہیں، جنہوں نے ادبیات کو نئی لہریں عطا کیں اور جنسیات کو نیا ارتعاش۔ ’نگار‘ جیسے مجلے سے ادبی مباحث کو تحرک بخشا۔ ترکی کی مشہور شاعرہ نگار بنت عثمان سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنے مجلے کا نام ’نگار‘ رکھا تھا۔ جس کی تجویز ل۔احمد، ڈاکٹر ضیا عباس ہاشمی، مخمور اکبرآبادی، ملک حبیب احمد خاں، مقدس اکبرآبادی، شاہ دلگیر اکبرآبادی کی موجودگی میں رکھی گئی تھی۔ 1921 میں آگرہ سے شروع ہونے والا یہ رسالہ اتنا مقبول ہوا کہ اس نے لوگوں کی فکر و نظر کے زاویے تبدیل کر دیے۔ ایک ہمہ جہت رسالہ جس میں ادبیات کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی مضامین شامل ہوتے تھے۔ معاشرے کو مختلف علوم و فنون سے روشناس کرانے کا سہرا اسی رسالے کے سر ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آج کے اس عہد زوال میں پھر نیاز اور نگار کی ضرورت ہے کہ ہمارے عہد میں ذہنی تاریکی بڑھ گئی ہے اور تنگ نظری کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ نیاز فتح پوری ایک روشن خیال نان کنفرمسٹ اور آزاد طبع ادیب تھے۔ وہ مدرسہ اسلامیہ فتح پور، ندوۃ العلما لکھنؤ اورمدرسہ عالیہ رام پور کے فیض یافتہ تھے، مگر مدرسے کا ان کے ذہن پر اتنا منفی اثر پڑا کہ وہ ملحد قرار پائے۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ ’’میرا تجربہ مولویوں کے باب میں تلخ سے تلخ ترہوتا گیا اور میں نے سمجھ لیا اس طبقے کی طرف میں کبھی مائل نہیں ہو سکتا۔ ان کی رعونت، ان کا تقشف، ان کا فرعونی انداز گفتگو، ان کا یہ عقیدہ کہ مذہب کو عقل سے کوئی لگاؤ نہیں اور ان کا یہ پندار کہ وہ عام سطح سے بہت بلند ہیں اور ہر شخص کا فرض ہے کہ انہیں دیکھتے ہی وہ سربسجود ہو جائے، مجھے ان سے متنفر کرتا جا رہا تھا اور میں بار بار یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ اگر یہ واقعی مذہبی تعلیم کا نتیجہ ہے تو مذہب سے زیادہ نامعقول چیز دنیا میں کوئی اور نہیں ہو سکتی اور اس سلسلے میں مجھے مذاہب کے تقابلی مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ میں نے مذاہب کا مطالعہ صرف اس نقطہ نگاہ سے شروع کیا کہ اخلاق کی عملی تعلیم کے لحاظ سے اس کا درجہ کیا ہے اور اس نے مجھے مولویوں سے اور زیادہ متنفر کر دیا کیونکہ جس حد تک اخلاق کا تعلق ہے، میں نے ان میں کوئی بات ایسی نہیں پائی جسے بعید ترین تاویل کے بعد بھی اسلام اور بانی اسلام کی بلند تعلیم اخلاق سے منسوب کیا جا سکے۔ میں جس وقت ان کے بطون کا تصور کرتا تھا تو مجھے بالکل سیاہ پتھر کی طرح نظر آتا تھا اور میں ایسا محسوس کرتاتھا کہ ان کی روح بالکل اجاڑ ہے اور ان کا دل بالکل ویران۔‘‘
مولویوں کے تعلق سے نیاز فتح پوری کے جو محسوسات اور جذبات ہیں ان کی صداقت میں آج بھی کمی واقع نہیں ہوئی ہے کہ تقریباً مولویوں کا 80 فیصد طبقہ تنگی چشم حسود کا شکار ہے اور کشادگی کی اتنی کمی ہے کہ غیر ضروری اور فروعی مسائل میں جنگ و جدل کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جن صفات کی وجہ سے نیاز فتح پوری کے دل میں مولویوں کے لئے نفرت پیدا ہوئی، وہ صفات آج بھی بہت سے مولویوں میں موجود ہیں۔ مولویوں سے اسی نفرت کے ردعمل کے طور پر نیاز کی وہ تحریریں وجود میں آئیں جن کی وجہ سے نیاز لامذہب اور ملحد قرار دیے گئے۔ زاہد تنگ نظر نے انہیں کافر جانا مگر حقیقتاً نیاز فتح پوری مذہب کو عقلی اور منطقی نقطہ نظر سے سمجھنا چاہتے تھے۔ ’نقوش‘ لاہور کے مدیر محمد طفیل نے نیاز فتح پوری کی دہریت کا دفاع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بچپن ہی میں یہ سنا تھا کہ ’لکھنؤ میں ایک کافر نیاز نامی بھی ہے، جو ایسی باتیں لکھتا ہے جو اسلام کا بدترین دشمن بھی نہیں لکھ سکتا۔ اس وقت ان کے خلاف جلسے ہوتے تھے۔۔۔ تقریریں ہوتی تھیں۔۔۔ کیا خبر تھی کہ جب اس کافر و ملحد سے ملاقات ہو گی تو وہ کئی عابدوں سے بہتر انسان ثابت ہو گا۔‘‘ آگے محمد طفیل لکھتے ہیں کہ ’’جہاں تک میرا خیال ہے نیاز صاحب اندر سے بڑے مذہبی آدمی ہیں۔ انہوں نے اب تک مذہب کے بارے میں جو کچھ اور جتنا کچھ لکھا اس میں صرف جھوٹی مذہبیت کو جھنجھوڑا، بنے ہوئے خدائی فوجداروں کے مذہبی پندارکو آئینہ دکھایا، نیاز صاحب کوئی کافر وافر نہیں ہیں بلکہ معاملہ صرف اتنا نظر آتا ہے: کافر ہوا میں دین کے آداب دیکھ کر۔‘‘
نیاز فتح پوری پر مولوی طبقے کی برہمی کا کچھ بھی اثر نہیں پڑا۔ وہ اپنے معتقدات اور نظریات پر اٹل رہے۔ رموز دین سے ناواقف مولویوں کی دشنام طرازیوں کا جواب دلیلوں سے دیتے رہے اور آخر میں صاف صاف یہ کہہ دیا کہ : ’’نازم بہ کفر خویش کہ بہ ایماں برا برست‘‘
نیاز فتح پوری کی نظر بہت وسیع اور گہری تھی۔ ان کے یہاں خرد افروزی اور حریت فکر کی رو روشن تھی۔ ان کی فکر میں اس نوع کا تصلب اور تعصب نہیں تھا جس کی وجہ سے ذہنی دائرے سکڑنے اور سمٹنے لگتے ہیں اور اپنے سوا ہر کوئی غلط اور باطل نظر آنے لگتا ہے۔ ادبیات میں بھی ان کے یہاں یہی توسع تھا۔ جنسیات کے باب میں تو یہ توسع اور بھی نمایاں ہے کہ وہ صاف صاف کہتے ہیں کہ ’’جنسیات کی اہمیت اور تمام علوم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔‘‘ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ’’جس طرح انسان نے اپنی اور تمام خواہشات میں اعتدال پیدا کرنے کے لئے تعقل کے ذریعہ سے متعدد علوم و فنون کی بنیاد ڈالی اسی طرح اس نے اپنی خواہش جنسی کو جائز حدود میں رکھنے کے لئے جنسیات کو پیدا کیا اور اگر انصاف سے کام لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ اس علم کی اہمیت اور تمام علوم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے کیونکہ تمدن کا بڑا ہنگامہ اسی خواہش پر منحصر ہے۔‘‘
جنسیات آج کی زندگی کا نہایت حساس اور اہم موضوع ہے، اسی لئے نیاز فتح پوری نے ’ترغیبات جنسی‘ کے نام سے کتاب تصنیف کی جو جنسی مسائل و موضوعات پر نہایت عالمانہ تصنیف سمجھی جاتی ہے۔یہ کتاب ہیولاک ایلس کی کتابوں سے مستفاد ہے، مگر جنسیات پر واتسائن، کلیان مل، پنڈت کوکا اور بھوگ پھل، شوہر کا رہنما، لذت النسا، قانون مواصلت اور جنس لطیف جیسی کتابوں سے ذرا مختلف ہے۔ شمیم رضوی نے بہت صحیح لکھا ہے کہ ’’ترغیبات جنسی اپنی نوعیت کی اردو زبان میں واحد کتاب ہے۔ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی اور کتاب نظر آتی ہے۔ جس میں اتنی تفصیل سے شادی، اعضائے جنسی کی پرستش، قحبگی، ہم جنس پرستی، جانوروں سے لطف اندوزی کی ابتدا و ارتقا سے مثالوں اور مستند حوالوں کے ساتھ بحث کی گئی۔ ان موضوعات پر یہ منفرد اور مستند کتاب ہے۔‘‘ علامہ نیاز فتح پوری کی ترغیبات جنسی، ادب جنسیات میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔ نیاز فتح پوری فکشن نگار بھی تھے، شاعر بھی اور نقاد بھی۔ ’نگار‘ ان کا ایسا رسالہ تھا جس کے خصوصی شماروں نے پوری اردو دنیا میں دھوم مچائی۔ غالب نمبر، تنقیح اسلام نمبر، علوم اسلامی اور علمائے اسلام نمبر ایسے شمارے تھے، جس کی وجہ سے علمی دنیامیں تحرک کی ایک فضا قائم ہوئی۔ غالبیات ان کا خاص موضوع تھا۔ غالب پر لکھے گئے ان کے تمام مضامین کا انتخاب فرمان فتح پوری نے ’غالبیات نیاز فتح پوری‘ کے نام سے شائع کرایا۔
اسی خاک سے دو ایسے مثنوی نگاروں کا بھی تعلق ہے جن کی مثنویاں ہندوستانی تہذیب و تمدن سے روشناس کراتی ہیں۔ ان میں ایک مثنوی تو ایسی ہے جس میں فتح پور ہسوہ کو موضوع بنا کر اسے حیات جاودانی عطا کی گئی ہے اور یہ مثنوی عطا علی خاک کی ہے۔ گلدستہ مسرت کے نام سے یہ مثنوی فتح پور ہسوہ کے ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے جو مطبع نظامی کانپور سے 1285 میں شائع ہوئی تھی۔واحد علی وحید کے ایک قطعے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ مثنوی فتح پور ہسوہ کے پس منظر میں ترتیب دی گئی ہے:
وحید مثنوی جو یہ عطا علی نے کہی
معاملہ ہے قریب جوار ہسوا کا
حسن کا قصہ ہے روپا ہے اس کی جان عزیز
یہ قصہ دید کے لائق ہے دل ہے شیدا کا
اس مثنوی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اردو کے ممتاز ناقد پروفیسر گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے کہ ’’ہسوہ کے قریبی علاقے میں ایک گل فروش رہتا تھا اس کی نوجوان بیٹی روپا اپنے حسن و جمال کی بدولت گاؤں بھر میں مشہور تھی۔ کمسنی میں اس کی شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی گونا نہیں ہوا تھا اور وہ ماں باپ ہی کے گھر رہتی تھی۔ صبح و شام گاؤں کے کنوئیں سے پانی بھر لانا اس کا معمول تھا۔ اس کنوئیں کے قریب زمیندار کے کارندے شیخ حسن کا مکان تھا۔ ایک دن ناگہاں دونوں کا سامنا ہوا اور روپا دل و جان سے حسن پر فدا ہو گئی۔‘‘ وارفتگی اور شیفتگی کی اس کیفیت کو عطا علی خاک نے یوں بیان کیا ہے:
ہوش جاتے رہے نگاہ جو کی
ہل گیا آسمان آہ جو کی
تھی وہ لیلیٰ مگر بنی مجنوں
چشم بیمار سے وہ روئی خوں
پانی چھڑکا نہ ہوش میں آئی
اور بھی آگ اس نے بھڑکائی
لائے گھر تک ولے جگر تھانبے
کوئی بازو کوئی کمر تھانبے
کی دوا جس نے جو کہ بتلائی
لیک آئی نہ کچھ توانائی
بڑھی دو دن میں ایسی بیماری
جیسے برسوں کا کوئی آزاری
نہ کھلا اس کا کچھ بھی راز بطون
بڑھ چلا رفتہ رفتہ اور جنون
نارنگ صاحب لکھتے ہیں ’’روپا عشق میں وارفتہ و بیخود ہو چکی تھی اس نے حسن سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اس کے بغیر ایک پل بھی زندہ رہنے کو تیار نہیں، لیکن حسن راہ عشق کو وضع احتیاط سے طے کرنا چاہتا تھا، وہ بغیر کسی قسم کا وعدہ کیے اپنے مکان پر لوٹ آیا۔ غرض اس کی بے التفاتی سے روپا کی حالت روز بروز بگڑنے لگی۔‘‘ (ہندوستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں۔ ص294-96)
عطا علی خاک کی یہ پوری مثنوی روپا کی شوریدہ سری اورجنون عشق کی داستان ہے۔ روپا اپنے عاشق کی خاطر مذہب تبدیل کر کے حسن کے آنگن کی بہار اور دامن کی کلی بن کر اپنے بے کلی کے زنداں سے باہر نکل آتی ہے۔ عطاعلی خاک اس کیفیت کو اظہار کا پیکر یوں عطا کرتے ہیں:
مل گئی اپنے دل ربا سے وہ
چھوٹی رنج وغم و جفا سے وہ
دونوں جانب عجب کلام رہے
وصل سے دونوں شاد کام رہے
پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اس مثنوی پر بھرپور تبصرہ کرتے ہوئے عطا علی خاک کی بدنصیبی کا شکوہ بھی حلقہ ارباب وفا سے یوں کیا ہے کہ ’’عطا علی خاک اردو کے ان بدنصیب شاعروں میں ہیں، جو لطف سخن کے باوجود قبول عام سے محروم رہے۔ ان کی مثنوی میں ادبی شان موجود ہے۔ قصے کو انہوں نے بڑی سادگی، سلاست اور روانی سے نظم کیا ہے اور بعض مقامات پر نہایت شگفتہ و شیریں اشعار بھی نکالے ہیں۔ واقعات کے تسلسل میں کہیں جھول نہیں۔ روپا کے کردار کو ایسی خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے کہ اس کی صورت کے بنیادی اوصاف نمایاں طور پر سامنے آ جاتے ہیں لیکن ان خوبیوں کے باوجود یہ مثنوی مشہور تو کیا غالباً اپنے حلقے میں معروف بھی نہ ہوئی۔‘‘ (اردو مثنویاں۔ ص298-99)
دوسرے مثنوی نگار اقبال ورما سحر ہتگامی ہیں، جن کی مثنوی ’نیرنگ سحر‘ زمانہ پریس کانپور سے 1916میں شائع ہوئی۔ 9 ابواب پر منقسم یہ مثنوی کالی داس کی شکنتلا سے مستفاد ہے اور گلزار نسیم کی بحر میں لکھی گئی ہے۔ پروفیسر گوپی چندنارنگ نے اس مثنوی کے بارے میں یوں اظہار خیال کیا ہے کہ ’’سحر نے یہ قصہ کالی داس کی شکنتلا سے اخذ کیا ہے۔ یہ مثنوی وشوامتر کی ریاضت اور شکنتلا کی پیدائش کے بیان سے شروع ہوتی ہے۔ روایتی قصوں میں دشینت اور شکنتلا کی پہلی ملاقات کا ذکر مختلف پیرایوں میں آیا ہے۔ اقبال ورما سحر نے بھی اس سلسلے میں رنگ آمیزی کی ہے۔ خود ان کا بیان ہے کہ یہ نظم قریب قریب بالکل میری طبع زاد ہے۔ اصلی ڈرامہ سنسکرت شکنتلا کالی داس کی تقلید صرف اس حد تک کی گئی ہے جہاں تک محض خاص واقعات کا تعلق ہے نیز قصے کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے مجھے چند ابواب کا بطور خود اضافہ بھی کرنا پڑا ہے۔‘‘ (اردو مثنویاں ص 66)
گوپی چند نارنگ نے سحر کے کچھ نمونے بھی دیے ہیں جن میں ایک نمونہ یہ بھی ہے:
وہ محو نظارہ پری رو
یعنی دشینت شاہ خوش خو
دیکھی جو وہ شان حسن دل سوز
الفت ہوئی دل میں آتش افروز
مفتون شکنتلا ہوا وہ
دلدادہ دلربا ہوا وہ
ادب انقلاب کے باب میں بھی اس سرزمین کی فضا بہت ہموار رہی ہے کہ یہیں سے وہ انقلابی شرارہ اٹھا جس نے زمینداروں، سرمایہ داروں اور بیوروکریسی کے خرمن کو خس و خاشاک کر ڈالا، جس کی زندگی کا ایک ہی مشن تھا ناانصافی، جبر اور ظلم کے خلاف جنگ۔ جس نے اپنے قلم سے وہ کام لیا جو لوگ تلواروں سے لیتے ہیں۔ اپنی تحریروں سے نوجوانوں کے دلوں میں ا نقلاب کی شمع روشن کر دی جس کا ایک ایک لفظ انگریزی استعماریت کے خلاف آگ اگلتا تھا وہ تھے ایک جراتمند، بے باک اور نڈر صحافی گنیش شنکر ودیارتھی (26؍اکتوبر 1890۔ 25؍مارچ 1931)، جو ہندی روزنامہ ’پرتاپ‘ کے بانی مدیر تھے۔ پنڈت مہاویر پرساد دیویدی کی رہنمائی میں اپنے صحافتی سفر کا آغاز کرنے والا یہ انقلابی صحافی مظلوموں اور بے کسوں کے حق میں آوازیں بلند کرتا رہا اور جبر کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے لوگوں کے لئے تحریکیں چلاتا رہا، جس کی پاداش میں جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔سرسوتی جیسے مشہور ادبی مجلے کے سب ایڈیٹر کی ذمہ داری نبھائی اور 1913 میں کانپور سے مشہور ہفت روزہ ’پرتاپ‘ کی بنیاد ڈالی اور پوری زندگی قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کے لئے سرگرم رہا۔ کانپور کے فرقہ وارانہ فساد میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی جان بچاتے ہوئے اس نے وطن کی یکجہتی کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔ ان کی عظیم شہادت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے ’ینگ انڈیا‘ میں لکھا کہ ’’یہ ایک عظیم انسان کی شہادت تھی۔‘‘ گنیش شنکر ودیارتھی نے ’پرتاپ‘ کے ذریعہ لوگوں کے ذہنوں میں انقلاب کی جوت جگائی۔ بابو جے نرائن لال، شریمتی گومتی دیوی کے فرزند ودیارتھی ہندوستان کی ترقی اور اس کے وجود کے لئے قومی ہم آہنگی کو لازمی سمجھتے تھے۔ انہی کے اخبار ’پرتاپ‘ نے 4؍ستمبر 1916کو ایک خصوصی شمارہ ’بھارتیہ‘ نکالا تھا، جس پر بھارت ماتا کی چھوی تھی۔ 60 صفحات پر محیط اس خصوصی شمارے کے قلم کاروں میں مہاویر پرساد دیویدی، میتھلی پرساد گپتا، منشی پریم چند، ودھیاوتی سیٹھ بی اے، سید حیدر حسین، بدری ناتھ بھٹ بی اے، سریمتی بالاجی، ستیہ نرائن کوی رتن اور جناردھن بھٹ بی اے تھے۔ گنیش شنکر ودیارتھی الہ آباد جیسے ثقافتی، ادبی اور سیاسی مرکز میں تھے، جہاں سوراج، کرم یوگی اور ابھودیہ سے وابستگی کی وجہ سے ان کا سیاسی اور سماجی شعور بہت بلندہو گیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد کانپور میں ان کے نام پر ایک میڈیکل کالج قائم کیا گیا جس کا سنگ بنیاد اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹرراجندر پرساد نے رکھا تھا۔ اس کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر ایس این ماتھر تھے۔ ہندوستان کی سیاسی، انقلابی شخصیتوں میں گنیش شنکر وودیارتھی کا نام نمایاں ہے۔ ان پر انگریزی اور ہندی میں کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ایم آئی راجسوی نے ہندی اور ڈاکٹر ایم ایل بھارگو نے انگریزی میں ان پر کتابیں لکھی ہیں جس سے ان کے افکار کو سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔
یہاں کی فضاؤں میں اب بھی وہی انقلابی روح زندہ ہے جو روح سوہن لال دیویدی جیسے انقلابی شاعر نے پھونکی تھی۔ بندکی سے تعلق رکھنے والے سوہن لال دیویدی راشٹر کوی تھے، جن کے انقلابی نغموں کی گونج پورے ہندوستان میں سنائی دیتی ہے۔ ان کی نظموں میں جو جوش و جذبہ ہے، ولولہ اور امنگ ہے وہ آج بھی ہمارے احساس میں آگ لگا دیتا ہے۔ سوہن لال دویوی کی انقلاب آفریں کویتائیںآج بھی نوجوانوں میں نیا جوش و امنگ پیدا کر رہی ہیں۔ ان کی نظموں کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم میدان جنگ میں ہوں اور دشمن کو للکار رہے ہوں۔ انہیں کی نظم ’’بڑھے چلو بڑھے چلو‘‘ کا ایک بند ہے:
نہ ہاتھ ایک شستر ہو
نہ ہاتھ ایک استر ہو
نہ اننہ ویر وستر ہو
ہٹو نہیں ڈرو نہیں
بڑھے چلو بڑھے چلو
ایک اور بند میں جذبے کو یوں للکارتے ہیں:
گگن اگلتا آگ ہو
چھڑا مرن کا راگ ہو
لہو کا اپنے پھاگ ہو
اڑو وہیں گڑو وہیں
بڑھے چلو، بڑھے چلو
’’کھڑا ہمالیہ بتا رہا ہے‘‘ ان کی دوسری مشہور نظم ہے جو انقلابی آہنگ سے معمور ہے:
کھڑا ہمالیہ بتا رہا ہے
ڈرو نہ آندھی پانی میں
کھڑے رہو تم اونچل ہو کر
سب سنکٹ طوفانی میں
اسی روایت کی توسیع آج کی ہندی صحافت اور شاعری میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جس کی ایک نمایاں مثال کنہیا لال نندن بھی ہیں۔ جن کا ادب اور صحافت دونوں سے ہی مضبوط رشتہ رہا ہے۔ ’دھرم یگ‘ سے انہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا او ر ’پراگ، ساریکا، دنمان‘ جیسے موقر رسالوں سے وابستگی رہی۔ نوبھارت ٹائمز کے فیچر ایڈیٹر رہے۔ کنہیا لال نندن نے صحافت اور ادب میں جو شہرت اور عظمت حاصل کی ہے، وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ ان کی اہم کتابوں میں گھاٹ گھاٹ کا پانی، آگ کے رنگ، گزرا کہاں کہاں سے (خود نوشت) اور بنجر دھرتی پر اندر دھنش اہم ہیں۔ پدم شری اور بھارتیندو ایوارڈ سے سرفراز کنہیا لال نندن کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے جدید اور نمائندہ شاعروں کو ہندی حلقوں میں متعارف کرایا۔ احمد فراز، کرشن بہاری نور، بشیر بدر، امیر قزلباش، ندا فاضلی کے شعری انتخابات ہندی میں اپنے تعارف کے ساتھ اس طرح پیش کئے کہ ہندی داں طبقہ نہ صرف ان شاعروں سے مانوس ہوا بلکہ اردو شاعری کے تئیں ان کی سوچ میں بھی تبدیلی پیدا ہوئی۔ ایک نیا ذائقہ اور ایک نئی لذت کا انہیں احساس ہوا۔ کنہیا لال نندن اردو کی غزلیہ روایت سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ ان کی تفہیم کا انداز بھی نرالا تھا۔ انہوں نے ان شاعروں کے حوالے سے جو تاثرات لکھے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو شاعری کے رمز و روح سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ مشہور جدید شاعر ندا فاضلی کے بارے میں وہ لکھتے ہیں ’’بھارت کے اردو شاعروں میں ندا فاضلی آج کے مہتوپورن نام ہیں۔ انہوں نے نئی شیلی میں نئے وشیوں پر لکھ کر شاعری کو ایک نیا موڑ دیا ہے۔ ان کے کلام میں دیش کی زندگی اپنے لوک رنگوں کے لباس میں پوری طرح موجود ہے۔‘‘
اردو غزلیہ شاعری کے اہم نام بشیر بدر کے بارے میں ان کا تاثر یہ ہے کہ ’’بشیر بدر محبت کے شاعر ہیں اور ان کی شاعری کا ایک ایک لفظ اس کا گواہ ہے۔ محبت کا ہر رنگ ان کی غزلوں میں موجود ہے۔‘‘
امیر قزلباش کی شاعری کو انہوں نے ’ندی کے پاس اجالا‘ کا عنوان دیتے ہوئے بہت ہی خوبصورت انداز میں ان کا تعارف یوں کرایا ہے ’’ امیر آغا قزلباش اردو شاعری میں ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو سنسکرتی، سنسکار اور پرمپرا کی سیما کو ذہن میں رکھ کر اپنی بات کہنے کے لئے زمین تلاشنے میں وشواس کرتے ہیں۔ غزل کہیں یا نظم امیر اپنے تلخ تجربات کی نمائندگی اس خوبصورت انداز میں کرتے ہیں کہ شاعری کا سوندریہ زخمی نہ ہونے پائے۔‘‘
پاکستان کے مشہور شاعر احمد فراز کی شاعری پر نندن جی نے یوں نگاہ لطف ڈالی اور اس کی روح کو عوام کے روبرو کر دیا کہ ’’ہجرت، غم دوراں اور غم جاناں کے اتیرکت اگر فراز نے کیول عشق پر بھی شعر کہے ہیں تو بھی فراز نے ان میں روایتی حسن و عشق سے دور جیتی جاگتی دنیا کے لوگوں کے عشق، ان کی جدائی، ان کے ملن کو کچھ اتنے خوبصورت انداز میں ڈھالا ہے کہ سننے والا اس میں اپنے آپ کو ڈھونڈھنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ محبوب کو سامنے بٹھا کر بات کی جا رہی ہے۔ ان کی تمام غزلیں اور ان کے اشعار اس کی تائید کرتے نظر آتے ہیں:
وہ ٹھہرتا کیا کہ گزرا تک نہیں جس کے لئے
گھر تو گھر ہر راستہ آراستہ میں نے کیا
یہ دل جو تجھ کو بظاہر بھلا چکا بھی ہے
کبھی کبھی تیرے بارے میں سوچتا بھی ہے
کنہیا لال نندن کی نظمیہ شاعری کا ایک مجموعہ اردو میں ’سمے کی دہلیز‘ کے عنوان سے مکتبہ استعارہ نئی دہلی کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اس مجموعے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شاعری کی ایک خاص جہت ہندوستانیت پر یوں روشنی ڈالی تھی کہ ’’یہ شاعری بھارت کی تہذیبی اور ثقافتی فضا میں سانس لیتی ہے اور اس کی ایک ایک سطر میں بھارتییتا مضمر ہے۔ انہوں نے اپنی مٹی، اپنے ملک بھارت کی تہذیبی، اساطیری، ثقافتی تاریخ کو اپنی تخلیق میں تشکیل دیکر ایک مخلصانہ کارنامہ انجام دیا ہے۔‘‘
کنہیا لال نندن کی ایک مشہور نظم ہے ’’کہیں کچھ فرق نہیں پڑتا‘‘ یہ نظم ان کے احساس و اظہار کے حسن کی گواہی دیتی ہے:
لیکن آدمی تو نہیں سیکھ پایا
اب تک اپنے ہی پسینے کی زبان
اس لئے چل رہا ہے
یہ سارا تماشہ
سمے ایک کونے پر کھڑا
دور سے مسکرا رہا ہے
اور آدمی ہے
کہ جغرافیہ
اور بھاشا کی سرحدیں لانگھ کر لگاتار
آدمی کو ہی کھا رہا ہے
کہیں کچھ فرق نہیں پڑتا
کنہیا لال نندن یکم جولائی 1933 میں فتح پور میں پیدا ہوئے تھے اور 25؍ستمبر 2010 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ایک متحرک اور فعال صحافی اور شاعر تھے جنہوں نے اپنی آتم کتھا میں اپنی زندگی کی بہت سی سچائیوں کو درج کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے ’’میں کنہیا لال تیواری عرف کنہیا لال نندن ولد یدو نندن ساکن موضع پرسدیوپور، پرگنہ بندکی، ضلع فتح پور، اتر پردیش۔‘‘ انہوں نے ساہتیہ سنسکار کے شہر الہ آباد سے بہت کچھ فیض حاصل کیا۔ بمبئی اور دہلی میں نئے افق اور نئے آسماں کی جستجو کرتے ہوئے وہ بلندی حاصل کر لی جو بڑی مشکل سے ملتی ہے۔
ہندی صحافت اور ساہتیہ میں جو شہرت و کامرانی کنہیا لال نندن کو ملی کچھ اتنی ہی شہرت اردو ادب اور صحافت میں فاروق ارگلی کو بھی نصیب ہوئی، جن کا لوح و قلم سے نہایت مضبوط رشتہ ہے، جو مختلف اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو ناول لکھے۔ ہندی اردو دونوں زبانوں میں کثرت سے لکھا۔ ہر موضوع پر لکھا۔ رحمن نیر کے رسالے ’روبی‘ کے مدیر کی حیثیت سے ان کی شناخت مستحکم ہوئی جس کا دلیپ کمار نمبر بیحد مقبول ہوا اور بقول ڈاکٹر فیروز دہلوی ’’فاروق نے دلیپ کمارکو شہنشاہ جذبات کے نام سے مخاطب کیا اور یہیں سے دلیپ کمار کے نام کے ساتھ شہنشاہ جذبات لکھا جانے لگا۔‘‘
’روبی‘ کے علاوہ پندرہ روزہ ’تیزگام‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ یہ پندرہ روزہ اخبار انہوں نے سریش کمار کے تعاون سے نکالا تھا، جو بابو جگ جیون رام کے فرزند تھے۔ فاروق ارگلی عالمی اردو کانفرنس کے بانی علی صدیقی کے ادبی مشیر بھی رہے اور ان کے اردو مورچہ میں اپنی صحافت کے جوہر بھی دکھاتے رہے۔ فاروق ارگلی نے شاعری کی تو ’’عبارت سر دیوار اور لوح آب رواں‘‘ جیسے مجموعے منظر عام پر آئے اور مضامین لکھے تو ’فخر ادب، فخر وطن اور فخر خواتین‘ جیسے سلسلے شروع ہوئے۔ کتابیں مرتب کیں تو اتنی کہ ان کی فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔ فاروق ارگلی کی تعلیم بس واجبی سی ہے مگر انہوں نے اپنے مطالعے سے علوم و فنون کے بیشتر ذخیرے کو اپنے وجود میں اس طرح جذب کر لیا ہے کہ بات کسی بھی موضوع پر ہو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ ان ہی کا اختصاص ہو۔ مطالعے کی وسعت نے ان کے قلم کو تازگی اور توانائی عطا کی ہے، اس کا ثبوت ان کی تحریریں ہیں۔ اتنی توانائیاں ایک شخص میں بہت کم دیکھی گئی ہیں۔ ان کی مرتب کردہ کتابوں میں جہان خسرو بھی ہے جو اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں وہ تمام تحریریں شامل ہو گئی ہیں جس سے امیر خسرو کی تفہیم میں کوئی تشنگی نہیں رہ جاتی۔ فاروق ارگلی نے ’جہان خسرو‘ کے ذریعہ خسرویات میں اضافہ ہی نہیں کیا بلکہ ایک طرح سے آج کی منجمد اور ذہنی و فکری طور پر غیر متحرک دور میں امیر خسرو کی بازیافت کا ایک اہم فریضہ بھی انجام دیا ہے۔ جس طرح امیر خسرو کی شخصیت متنوع ہے، اسی طرح اس کتاب میں بھی تنوع کا خیال رکھا گیا ہے اور امیر خسرو سے متعلق وہ تمام تفصیلات درج کی گئی ہیں جس سے خسرو کے مکمل ذہنی، فکری وجود سے نہ صرف ملاقات کا احساس ہوتا ہے بلکہ ان کی پوری تخلیق اور احساس و ادراک سے مکمل معانقے کی صورت بھی نکل آتی ہے۔ فاروق ارگلی نے امیر خسرو کے حالات، امیر خسرو کی شاعری، امیر خسرو اور ہندوی زبان، تصوف اور امیر خسرو، خسرو کے دیوان، شاہکار مثنویاں، خمسہ خسرو، نثر خسرو، موسیقی اور خسرو اور میزان تحقیق کے ضمنی عنوانات کے تحت تمام اہم مضامین اور مقالات جمع کر دیے ہیں، جنہیں پڑھتے ہوئے قاری نہ صرف معلومات کی موتیاں حاصل کرتا ہے بلکہ قاری کا تخلیقی احساس بھی جاگ اٹھتا ہے اور ذہن ایک نئے ارتعاش کی لذت بھی محسوس کرتا ہے۔ امیر خسرو پر یوں تو بہت سی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں مگر کچھ نہ کچھ کمی کا احساس ضرور ہوتا ہے، اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ امیر خسرو کی متنوع اور گوناگوں شخصیت کے تمام جوانب کا احاطہ ہو جائے اور کوئی بھی پہلو تشنہ نہ رہے۔ اس میں جن صاحبان فضل و کمال کے مضامین ہیں وہ اپنے متعلقہ میدانوں میں امتیازی شناخت رکھتے ہیں۔ پروفیسر وحید مرزا، ڈاکٹر نذیر احمد، عبدالستار دلوی، گیان چند جین، پروفیسر گوپی چند نارنگ، مولانا حبیب الرحمن شیروانی، پروفیسر سلیمان اشرف، پروفیسر حسن عسکری، پروفیسر نثار احمد فاروقی، حافظ محمود شیرانی، ڈاکٹر سید ظہیر الدین مدنی، شہاب سرمدی، یہ سب دنیائے تحقیق و تنقید کے معتبر نام ہیں اور جنہوں نے خسرو کی تفہیم کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ امیر خسرو کی 100 فارسی غزلوں کا انتخاب معہ ترجمہ اور جواہر سخن کے تحت منتخب کلام خسرو اور ترجمہ ہے۔ امیر خسرو کی پوری فکری اور فنی جہتوں کی تفہیم کے لئے یہ تمام مضامین نہ صرف مفید ہیں بلکہ لکھنے والوں کی وسیع تر فکر اور قوت اظہار کا بھی ثبوت مہیا کرتے ہیں۔ خسرو شناسی کے ضمن میں یقیناًیہ کتاب دستاویزی اور حوالہ جاتی حیثیت کی حامل ہے۔ یہ کتاب امیر خسرو کے تخلیقی باطن کی سیر کراتی ہے اس لئے اس کتاب کی معنویت اور اہمیت کبھی کم نہیں ہو سکتی کہ امیر خسرو ایک شاعر، تخلیق کار، فن کار یا تحفتہ الصغر، وسط الحیات، غرۃ الکمال، نہایت الکمال، بقیہ نقیہ، قران السعدین، دولرانی خضر خاں، مفتاح الفتوح، نہ سپہر، خالق باری، شیریں خسرو، مجنوں لیلیٰ کے مصنف ہی نہیں بلکہ ایک نئی تہذیب اور نئے سماج کے بنیاد گزار بھی تھے۔ ایک امتزاجی ذہن کے حامل جنہوں نے ہندوستان کی منتشر تہذیبی اور سماجی فکر کو ایک مربوط، منظم اور اجتماعی صورت عطا کی۔ ان کی تخلیقی فکر میں اجتماعیت تھی اور وہ فکری اور لسانی امتزاجیت کی بہترین مثال تھے۔ آج جبکہ عالمی سطح پر یہ کائنات تہذیبی، ثقافتی بحران سے گزر رہی ہے ایسے میں امیر خسرو کی روشنی اور نغمے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ آج کی فضا کو امیر خسرو کے تازہ اور شیریں نغموں کی تلاش ہے کہ ایسے ہی نغموں سے ہندوستان کے تکثیری سماج کی سنگ دلی کو توڑا جا سکتا ہے اور ایک جمہوری طرز فکر اور طرز احساس کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔
فاروق ارگلی کی دوسری اہم کتاب ہے ’اردو ہے جن کا نام ‘ جو فخر ادب کے تحت روزنامہ راشٹریہ سہارا نئی دہلی میں شائع ہوتا رہا۔ یہ پہلا سلسلہ تھا جو زندہ اور معاصر ادبی شخصیات کے احوال و آثار پر محیط تھا۔
ہم عصر اردو ادب کے متنوع منظر نامے کی تفہیم میں یہ کتاب معاون ثابت ہو سکتی ہے کہ مربوط اور مبسوط طور پر کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی گئی جس نے ہمارے عہد کے اساطین کے آثار کی تفہیم کا حق ادا کیا گیا ہو جن 74 اشخاص (خواجہ حسن ثانی نظامی، مولانا اخلاق حسین قاسمی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر محمد حسن، پروفیسر مسعود حسین خان، پروفیسر قمر رئیس، ڈاکٹر تنویر احمد علوی، ڈاکٹر کمال احمد صدیقی، پروفیسر مختار الدین احمد، صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر خلیق انجم، پروفیسر سید محمد عقیل، پروفیسر حامدی کاشمیری، پروفیسر عبدالحق، پروفیسر زاہدہ زیدی، پروفیسر شمیم حنفی، وہاب اشرفی، لطف الرحمن، شکیل الرحمن، مظفر حنفی، کلیم عاجز، ظفر احمد نظامی، ملک زادہ منظور احمد، شارب ردولوی، ضمیر حسن دہلوی، پروفیسر صادق، غلام نبی خیال، عابد رضا بیدار، مظہر امام، ساحل احمد، گلزار دہلوی، دیوندر اسر، جوگیندر پال، نند کشور وکرم، صغریٰ مہدی، نامی انصاری، ستیہ پال آنند، نیر مسعود، مجتبیٰ حسین، بیکل اتساہی، مخمور سعیدی، بشیر بدر، عابد سہیل، جمنا داس اختر، بلراج ورما، کشمیری لال ذاکر، رتن سنگھ، شیخ سلیم احمد، ساغر خیامی، اظہار اثر، م م راجندر، کیول دھیر، ڈاکٹرمحمد فیروز، علیم صبا نویدی، عظیم امروہوی، منور رانا، ہلال سیوہاروی، عشرت قادری، شاہد ماہلی، ساجد رشید، وقار مانوی، شباب للت، بشر نواز، نور جہاں ثروت، فیاض رفعت، کلدیپ گوہر، متین طارق باغپتی، انیس انصاری، گربچن چندن، دیپک قمر، بھگوان داس اعجاز، ابرار کرتپوری، انیس مرزا) کے حوالے سے یہ کتاب تشکیل دی گئی ہے ان میں بیشتر اپنے احساس و اظہار کے باب میں انفرادیت کے حامل ہیں۔ معاصر تخلیقی و تنقیدی سیناریو کی تفہیم کے باب میں ایک روشن حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تذکراتی نوعیت کی کتاب ہوتی تو صرف ارباب تحقیق ہی کے کام آتی یا سوانحی لغت اور قاوس تیار کرنے والوں کے لئے مفید ہوتی مگر یہ تنقیدی نوعیت کا کام ہے اس میں تذکرے جیسی تنقید نہیں ہے بلکہ تخلیقی کار کی روح اور ضمیر تک رسائی ہے۔ تخلیق کاروں کی داخلی حسیات اور باطنی کیفیات کے تلاطم کو محسوس کرنے کی کوشش ہے۔ تخلیقی مرکزیت کی جستجو نے کتاب کی معنویت کو منور کر دیا ہے۔ یہ اوروں سے یہ الگ ہے کہ اس میں اپنا ذہن، اپنی لفظیات، اپنی فکر اور اپنی آنکھیں روشن ہیں۔ دریوزاگران ادب کے انبوہ سے الگ یہ کتاب نئے عہد کے منفی تصورات اور ادبی معاشرے پر اس کے پڑنے والے اثر سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ ادبی معاشرے کو صارفیت سے محفوظ رکھنے اور تاریخی، تہذیبی روایت سے ذہنوں کا رشتہ جوڑنے کے لئے فاروق ارگلی نے اچھی ترکیبیں نکالی ہیں۔ قاری کی بدلتی ترجیحات کے ماحول میں ادبی تاریخ نویسی کا یہ نیا سلسلہ ہے۔ کتاب میں شامل چراغوں سے ادب کی تیرگی میں شاید کچھ کمی واقع ہو کہ یہ چراغ بھی پرانے چراغوں کا تسلسل ہیں، ان کی روشنی سے بھی ادب کی تابناکی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تسلیم کیا جانا چاہئے کہ اگر اعتراف کی روایت ہی ختم ہو گئی تو ادب کے کارزیاں کا سلسلہ ہی رک جائے گا۔ کتاب میں تخلیقی شہ پاروں کی تائین قدر کے ساتھ تخلیقی کاروں کے سوانحی کوائف اور ادبی آثار سے قاری کی آگہی میں اضافے کی صورت پیدا کی گئی ہے۔ اردو زبان کا مستقبل ان ہی اشخاص اور افکار سے روشن ہے کہ عصری ادبی منظرنامے میں یہ نام اہمیت اور اعتبار رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی زاویے سے انہوں نے ادب میں اضافہ نہ صحیح مگرتخلیق کے سلسلہ تحرک کو جاری رکھا ہے اور اس عہد جمود میں یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔ یوں بھی ہمارے عہد میں ناقدوں کے مقتولین کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ بہت سے معتبر نام تنقیدی حوالوں سے ہی خارج ہیں۔ اس کتاب میں جن شخصیات کے تخلیقی امتیازات اور حاصلات کی تفصیل ہے ممکن ہے کہ ان میں سے بعض افراد کے شب و روز ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ میں گزرتے ہوں مگر بیشتر افراد میں بے نیازی اور قلنددانہ صفت ہے۔ مختلف الطبع افراد کے یہاں انفرادیت اور امتیاز کے نقوش کی تلاش کا یہ عمل اتنا آسان نہیں ہے۔ انفرادیت کے الگ الگ رنگ ہوتے ہیں ا ور اس کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے اور ویسے بھی ادیبوں کے لئے کوئی میزان مقرر نہیں ہے اور نہ ہی انہیں عام ترازوؤں میں تولا جا سکتا ہے۔ فاروق ارگلی نے جن شخصیات کے بارے میں لکھا ہے ان میں سے بعض کے ساتھ تو واقعتاً بہت سی سطحوں پر ناانصافیاں ہوئی ہیں۔ ان کی خدمات کا کماحقہ اعتراف نہیں کیا گیا۔ تنقیدی مقالات میں بھی تحسین و ستائش نہیں کی گئی۔ ’اردو ہے جن کا نام‘ ہمارے عہد کی ثقافتی تخلیقی تاریخ ہے۔ اس میں 20ویں صدی کے اواخر اور 21ویں صدی کے اوائل کے ادبی نقوش مرتسم ہیں۔ یہ نئے ہزاریے کی تخلیقی فکر کا انعکاس بھی ہے اور ارتعاش بھی۔ یہ محض کتاب نہیں بلکہ مستقبل کے لئے ایک بہترین خزانہ ہے۔ اگر یہ خزانہ غائب ہو جائے تو ہمارے ادب کا بہت بڑا زیاں ہو گا۔ فاروق ارگلی نے اسے زیاں سے بچانے کی ایک خوبصورت ترکیب نکالی اور روزنامہ راشٹریہ سہارا میں فخر ادب کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ کارنامہ بہت بڑا ہے اس کارنامے پر کوئی دعائیں دے یا نہ دے مگر مستقبل کے ہاتھ دعاؤں کے لئے ضرور اٹھیں گے کہ ہمارے ادب کے مستقبل کی بہت ساری روشنی کا انحصار اسی پر ہے۔
فاروق ارگلی تنقیدی و توصیفی بیان میں کہیں کہیں افراط و تفریط کے شکار بھی ہوئے مگرایسا شعوری طور پر نہیں ہوا۔ انہوں نے ہر فنکار کی داخلی قوتوں کی جستجو کی ہے اور ان کی تخلیقی رعنائیاں تلاش کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ آنے والا عہد ہمارے عہد کی تخلیقی آہٹوں اور استعارات سے محروم نہ ہو اس کے لئے ایک ایسی تنقیدی تاریخ کی تشکیل ضروری تھی جس میں ادب کے نمایاں فنکاروں کے آثار و افکار کے حوالے سے تنقیدی اشارے موجود ہوں۔ فاروق ارگلی کے تجسس آشنا ذہن نے وہ راہ تلاش کر لی جس راہ میں ادب کے لئے روشنی ہی روشنی ہے۔ انہوں نے ہر تخلیق کار کے مینٹل اسپیس کی امتیازی خصوصیات کو اپنی تحریروں میں پیش کر دیا ہے۔ ادب کے مختلف سلسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی شمولیت کی وجہ سے کتاب میں تنوع پیدا ہو گیا ہے۔ اس کتاب کے ذریعہ ہمارے ادب کو ایک نئی صبح ملی ہے جس سے ذرا دیر پہلے شایدصرف رات ہی رات تھی۔
فکشن کے باب میں ایک نمایاں نام ’امراؤ طارق‘ کا ہے جو پاکستان ہجرت کر گئے اور وہاں ان کے افسانوی مجموعے ’بدن کا طواف‘ (1980) کو آدم جی ادبی انعام ملا۔ معتوب ان کا مشہور ناول ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوی مجموعے کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’یہ وہ دور تھا جب فکشن میں علامت نگاری اس قدر آ گئی تھی کہ روایتی افسانہ نگار گوشہ نشین ہو گئے تھے چنانچہ ’بدن کا طواف‘ کی تقریب رونمائی میں زاہدہ حنا نے اپنی تقریر میں کہا کہ امراؤ طارق کہانیاں لکھتے ہیں، کہانیوں کے ساتھ برا کام نہیں کرتے۔‘‘ (بحوالہ ’گفتنی‘ اوّل مرتبہ سلطانہ مہر ص 47)
امراؤ طارق صرف افسانہ نگار ہی نہیں بلکہ گہرا تنقیدی شعور بھی رکھتے ہیں۔ جدیدیت اور افسانے کی بابت ان کا خیال ہے کہ جدیدیت جس نے افسانے میں علامت، رمزیت اور فکشن میں کہانی کو زیریں سطح پرر کھ کر اپنی بات کہنے کی بنیاد ڈالی، ناپختہ کہانی کاروں کے ہاتھوں معمہ بن گئی اور فکشن ایک ایسا آسان ذریعہ اظہار بن گیا جس میں جو کچھ جیسے چاہو کہہ لو اور کچھ نہ کہو اور اصرار کرو کہ پڑھنے والا خود نتائج اخذ کرے چنانچہ کہانی فکشن سے یکسر غائب ہو گئی اورجدید افسانہ نگاروں نے قاری سے ہوم ورک کا مطالبہ شروع کیا۔ چنانچہ فکشن کا قاری سے رشتہ ٹوٹ گیا اور فکشن چیستاں بن گیا۔‘‘
امراؤ طارق کے افسانوں کے حوالے سے پروفیسر غفور شاہ قاسم کا یہ خیال نہایت بصیرت افروز اور معنی خیز ہے کہ ’’امراؤ طارق کے افسانے کسی ناپختہ ذہن کی خوش فہمیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پختہ اور باشعور تخلیقی فنکار کے ذہنی تجربوں اور مشاہدات کا حاصل ہیں۔ ان کے افسانوں میں خیالات اور الفاظ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہیں۔ کہیں احساس نہیں ہوتا کہ الفاظ افسانہ نگار کی گرفت سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور خیالات پیچھے رہ گئے ہیں۔ موضوع اور مواد کے نقطہ نظر سے دیکھئے تو پہلی ہی نظر میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ افسانہ نگار نے اپنی تخلیقی انگلیاں معاشرہ کی نبضوں اور دکھتی رگوں پر رکھ دی ہیں۔ اس نے ساز حیات کے تقریباً تمام بیمار تاروں کو چھیڑا ہے اور گرد و پیش کی زندگی کے سارے بیمار منظر اس کے پیش نظر رہے ہیں۔ (پاکستانی ادب: شناخت کی نصف صدی ص 233)
امراؤ طارق کی دیگر کتابوں میں خشکی پر جزیرے (1980)، فوجداری قوانین کے بنیادی اصول (1995)، تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے (1995)اور خاکوں کا مجموعہ ، دھنک کے باقی ماندہ رنگ، تاروں پہ لکھے نام، فرمان فتح پوری حیات و خدمات قابل ذکر ہیں۔ وہ ’برگ گل‘ کے مدیر بھی رہے۔ سید امراؤ علی (امراؤ طارق) 15؍مارچ 1932میں موضع شاہ پور ضلع فتح پور ہسوہ میں پیدا ہوئے۔ مشرقی پاکستان ہجرت کی اور پھر کراچی پہنچے جہاں سے انہوں نے پالیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اور ایل ایل بی کی ڈگریاں لیں۔ وہ پاکستان میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس کے عہدے پر فائز تھے۔
فتح پور سے ہی یعقوب یاور (ریڈر شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی) جیسے محقق، ناقد، فکشن نگار اور مترجم کا تعلق ہے، جنہوں نے اردو کی ثروت میں گرانقدر اضافہ کیا ہے۔ مغرب کے جن شاہکاروں کے تراجم کے ذریعہ اردو کو بیش بہا خزینہ عطا کیا ہے ان میں ڈاکٹر ژواگو (بورس پاسترناک)، رقص اجل (کین فالیٹ)، درۂ خیبر کے اس پار (کین فالیٹ)، اقلیم اسود (ماریو پوزو) اور مشہور جاسوسی ناول نگار اگاتھا کرسٹی کے ناولوں کے تراجم طاق نسیاں، شب گزیدہ، زہراب نیل قابل ذکر ہیں۔ ہینرک ابسن کے ڈرامے کا ترجمہ پتلی گھر بھی یعقوب یاور کی خدمات جلیلہ کے ذیل میں قابل ذکر ہے۔انہوں نے ہرمن ہیس کے ناول سدھارتھ کا اردو میں ترجمہ کیا اور یہ ترجمہ بہت ہی مقبول ہوا۔ جرمنی کے مشہور نوبل انعام یافتہ ناول نگار اور شاعر ہرمن ہیس (18؍جولائی 1978۔ 9؍اگست 1962 ) کا یہ ناول ’سدھارتھ‘ جسم سے آتما تک کے سفر کی داستان ہے اور ایک ایسے کردار کے حوالے سے جس کے وجود میں تشنگی تھی اور ذہن میں تجسس، جس کے ذہن میں ہزاروں پرشن کے آتش فشاں دہکتے تھے اور من میں ہزاروں سوالات کے جوار بھاٹا۔ وہ ہر ہر قدم پر ٹھہرتا، سوچتا، تفکر، تدبر کرتا، منطق و معروضیت تلاش کرتا جاتا، وہ تشکیک و تذبذب کی دھند میں لپٹا ہوا ایک ایسا انسان تھا، جو عین الیقین کی منزل کی طرف گامزن تھا۔ غیر معمولی متحرک ذہن رکھنے والا سدھارتھ عظیم وجود کی داخلیت کی تلاش میں نکل پڑا تھا اور اس طویل یاترا میں اس کے متجسس ذہن میں رہ رہ کرسوالات اٹھتے تھے۔ ہرمن ہیس کے اس ناول کی اساس گوتم بدھ کی فکر اور فلسفہ ہے۔ بدھ افکار و تصورات کو اس نے اپنے اندر مکمل طور سے جذب کرنے کے بعد ناول کے قالب میں ڈھالا ہے۔ مشرقی تہذیب و ثقافت اور فکر کے تئیں ایک مغربی ذہن کی اس قدر بیداری قابل رشک ہے۔ ہرمن ہیس نے گوتم اساس فکر پر ناول لکھ کر مشرقی نابغاؤں اور نادرہ روزگار تخلیقی ذہانتوں کو زبردست چیلنج دیا ہے۔ یہ اہل مشرق کو مغرب کے ایک عظیم، زرخیز تخلیقی ذہن کا ایک گراں بہا تحفہ ہے۔ وہ اہل مشرق جن کے ذہنوں میں نئے شہر طلوع ہو گئے ہیں اور شراوستی اور تکشیلا غروب ہوتے جا رہے ہیں۔ یعقوب یاور نے ہرمن ہیس کے اس ناول کا ترجمہ کر کے اہل مشرق کو مغربی دانش سے روشناس کرایا ہے۔انہوں نے تخلیقیت سے مملو اردو کا خوبصورت پیرہن اس ناول کو عطا کیا ہے۔ یاور ترجمے کے آداب سے واقف ہی نہیں بلکہ تخلیقی ترجمے کے رمز آشنا بھی ہیں اس لئے ناول پڑھتے ہوئے کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس کا مصنف ہندوستان سے دور جرمنی کے کسی دور افتادہ علاقے کا ہو گا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہندوستانی روح، ماحول، فضا اور یہاں کی تہذیبی روحانی، ثقافتی اقدار سے آشنا ایک شخص نے یہ ناول لکھا ہے۔
یعقوب یاور ایک مترجم ہی نہیں بلکہ سنجیدہ ذہن ناقد بھی ہیں۔ انہوں نے جہاں آغا حشر کاشمیری کے ڈراموں کا کلیات مرتب کیا وہیں انہوں نے بہت سی کتابوں کے ذریعہ اپنی تنقیدی بصیرتوں کا ثبوت بھی دیا۔ ان کی ایک اہم تنقیدی کتاب تحریک و تعبیر بھی ہے۔ یہ کتاب کوہستان ادب کے دامن میں واقع وادئ تخلیق کے ایک باشندے کی بیداری اور کارگزاری کا لیکھاجوکھا ہے، جس میں تخلیق کے براہ راست مطالعے کی بنیاد پر ادب کی تفہیم کے اس در کو کھولنے کی کوشش کی گئی ہے جسے پیشہ ور نام نہاد ناقدوں نے بند کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’نااہل ناقدوں کی کثرت اور سربراہی نے ادب کو چوں چوں کا مربہ بنا دیا ہے اور نام نہاد تنقیدی بالادستی تخلیق کے لئے مہلک ہے۔‘‘ اس کتاب میں 12 ادبی مضامین شامل ہیں۔ انہوں نے 20 ویں صدی کے کچھ ادبی رجحانات، ترقی پسندی، کل اور آج، ترقی پسندوں کی بھوپال کانفرنس، جدید ادبی تحریک ایک جوابی سازش جیسے خوبصورت مضامین لکھے ہیں۔ اس کتاب میں مجاز کا تصور انقلاب، مجروح کی غزل، محمدعلی تاج، کیف بھوپالی، شاہد اختر کی ترقی پسندی، فضل تابش کی شاعری، ڈاکٹر ناظم جعفری عام تنقیدی معیار اور نوعیت کے اعتبار سے اہم اور فکر انگیز ہیں۔ ڈاکٹر یعقوب یاور نے اپنے طور پر ادب کی تفہیم کے لئے جو زاویہ اپنایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ ان کی تنقیدی سوچ سے اختلاف ممکن ہے مگر ان کا جو معروضی اور مدلل انداز بیان ہے اور جو صاف ستھری پر اثر زبان ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔
فتح پور کا شعری منظرنامہ بھی بہت تابناک ہے۔ قدیم دور میں تو ایک کہکشاں آباد تھی، نئے دور میں بھی ستاروں کی کمی نہیں ہے۔ یہیں کے ایک شاعر غلام مرتضیٰ راہی نے گوکہ شاعرانہ تعلی کے تحت یہ شعرکہا ہے کہ
نہ ہوتا ہند میں راہی اگر نیاز کے بعد
ادب کے نقشے میں ملتا نہ فتح پور کہیں
مگر یہ سچ ہے کہ تخلیق سے ہی کسی بھی سرزمین کو نقشے میں جگہ ملتی ہے، زمین کی زندگی کا حوالہ یہی تخلیق ہوتی ہے۔ گوکہ فتح پور کی تخلیقی شہرت صرف راہی سے نہیں ہے مگر راہی فتح پور کی شہرت کا ایک وسیلہ ضرور ہیں۔ ان کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ’لاکلام‘ ان کا ایک معتبر شعری مجموعہ ہے جسے ہمارے عہد کے ذہین شاعر و ادیب معین شاداب کی نئی تنقیدی نگاہ نے یوں پرکھا ہے کہ لاکلام اپنے عہد سے مکالمہ کرتا نظر آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’غلام مرتضیٰ راہی نے غزل کے جو پیکر تراشے ہیں وہ لبوں سے نہیں بلکہ آنکھوں سے گفتگوکرتے ہیں۔ ان کی زبانیں نہیں بلکہ جذبے بولتے ہیں، دھڑکنیں گویا ہوتی ہیں، وہ گفتگو وہ کلام جسے سماعت نہیں بلکہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کی غزلیں ایسے ہی غیر محسوس نغموں کو سننے کی کوشش ہے۔ غلام مرتضیٰ راہی کے اشعار پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ فکر کے تیشے سے لفظ تراش تراش کر تعمیر کیے گئے ایسے صنم خانے ہیں جو شہر طلسمات آباد کرتے ہیں۔‘‘ (مجلہ استعارہ نئی دہلی، اپریل جون2001 ص 320)
غلام مرتضیٰ راہی کے ہر مجموعے کا نام ’لا‘ سے شروع ہوتا ہے مثلاً لامکان‘ لاریب‘ لاشعور‘ لاسخن اور یہی لا ان کے تخلیقی وجود کا اثبات ہے۔ ان کی خود نوشت راہی کی سرگزشت (2009) کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔
اسی شہر سے طبع صائب اور ذہن ثاقب رکھنے والے شاعر انیس انصاری کا بھی رشتہ ہے۔ جن کی ایک نظم کم از کم انسان کے حساس وجود اور آتما کو مرتعش اور مضطرب کرنے کے لیے کافی ہے:
کیا تیرے شہر میں
نادیدہ خودر و دیوار
دیکھتے دیکھتے اُگ آتی ہے انسانوں کے بیچ
کسی دیوار کی کالک میں کہیں رنگ ترے جذب ہوئے
موسم عشق میں اس بار صلیبیں ہی اگیں
خوف کے کہرے میں آنکھوں کی چمک ماند ہوئی
خواہش وصل روایت کے اندھیروں میں گرفتار ہوئی
کیا تیرے شہر میں اب خوف کی سرداری ہے
یہ نظم ان کی ذہنی حساسیت کا بھرپور ثبوت ہے۔ ان کی تخلیقی زنبیل میں اسی نوع کے جذبات و احساسات ہیں، جو قاری کے ذہن کا حصہ بن جاتے ہیں اور ان کی سکڑی، سمٹی اور سہمی ہوئی شریانوں کو حرکت و عمل کا پیغام دے جاتے ہیں۔ یہ خوفزدہ محبوس ماحول سے باہر نکال کر جذبے کو زندگی اور توانائی دینے والی شاعری ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے ان کی تخلیقی جراْت و شہامت کو سراہتے ہوئے اپنے مخصوص تنقیدی اسلوب میں نہایت خوب صورت اشارے کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’معاصر زندگی کے مسائل، الجھنیں اور المیے جس خوبی سے ان کے کلام بالخصوص نظم میں منعکس ہوئے ہیں اس کی مثال جدید شاعری میں نہیں ملتی۔ بھیونڈی، ملیانہ، ہاشم پورہ (میرٹھ) بابری مسجد کی شہادت، یہ ایسے واقعات نہیں جن پر بے باکی سے قلم اٹھایا جا سکے اور شاعر اگر خود سرکاری افسر ہو تو اس کی حق گوئی یکرنگ کے الفاظ میں:
حق کہے جو کوئی سو مارا جائے
راستی ہے گی دار کی صورت
کی مصداق بن سکتی ہے لیکن انیس انصاری کی حق پسندی اور اخلاقی جراْت ان مراحل کو ہنستے ہنستے طے کر گئی ہے۔ ان کے مجموعے میں بھی جگہ جگہ اشارے چمک اٹھتے ہیں:
کوفہ نے چلائی تھی عجب رسم ستم زاد
دجلہ میں بہایا تھا ہلاکو نے لہو کو
اب پھر سے لہو رنگ ہوئیں میری زمینیں
وہ کابل و گجرات ہو، بصرہ ہو کہ بغداد
میں کس جگہ اس درد کو لے جاؤں چھپا کر
اک فوج غلاموں کی بچی ہے سو ہے آزاد
(درد ابھی محفوظ نہیں)
انیس انصاری ایک ایسے غزل گو ہیں جنہوں نے موضوعی سطح پر اپنے ممیزات کا ثبوت پیش کیا ہے۔ پروفیسر فضل امام نے ان کی غزلیہ شاعری میں تین ایسے عناصر کی نشاندہی کی ہے جس سے انفرادیت مستحکم ہوتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ’’انیس انصاری کی غزل میں تین عناصر ایسے ہیں جو بحیثیت مجموعی اسے عام شاعری کے مضامین سے ممتاز اور ممیز کرتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا عنصر غزل کے مضمون کی عمومیت کا ہے جو شعر و ادب کے موضوعات عام انسانی دلچسپیوں سے ماخوذ ہیں۔ ان میں واقعات کی تہیں ملتی ہیں اور زمان و مکان کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسرا عنصر داخلی اور خارجی کیفیات کے حسین امتزاج سے مملو ہے جس میں شاعر کی ذہنی عکاسی ہوتی ہے۔ تیسرا عنصر حیات انسانی کے خد و خال پر تبصرہ ہے۔‘‘ (انیس انصاری: ادراک اور وجدان کا شاعر)
فاروق ارگلی نے سچ لکھا ہے کہ ’’انیس کا فکری افق خاصا وسیع ہے اور ان کے ہاں موضوعات کی بہتات ہے، کیونکہ ان کے عہد کی زندگی، حالات، تغیرات اور لحظہ بہ لحظہ بدلتی ہوئی کیفیات سے عبارت ہے۔ مذہب، تہذیب، نسل اور علاقائیت کی تفریق انسانیت کو خانوں میں بانٹ رہی ہے تو حساس شاعر کے نازک ذہن میں سوال سر اٹھاتا ہے:
جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے
الگ نقشے سے یہ معمار کیوں ہے
سماج میں تعصب، نفرت اور عداوت کا چلن دیکھ کر شاعر پوچھنا چاہتا ہے:
بہت آسان ہے مل جل کے رہنا
ندی اور دھار میں تکرار کیوں ہے
اور جب وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ سرزمین کی آزادی اور تعمیر و ترقی کے لئے سب مل جل کر آگے بڑھے تھے، سب کی قربانیاں برابر کی تھیں، مگر ایک ذہنیت ناانصافی اور دغابازی کا رویہ اختیار کرتی ہے تو رہا نہیں جاتا، پوچھنے پر مجبورہو جاتا ہے:
تمہارے ساتھ ہم آگے بڑھے تھے
ہماری پیٹھ پر یہ وار کیوں ہے
پڑوسی ہو تو پھل یا پھول لاتے
تمہارے ہاتھ میں تلوار کیوں ہے
انیس انصاری کو غزل کے نرم و نازک لہجے میں اپنے عہد کی خوفناک حقیقتوں کو بڑے فنکارانہ انداز میں تراش کر بیان کرنے میں مہارت حاصل ہے۔ (اردو ہے جن کا نام ص 537)
شمس الرحمن فاروقی، نیر مسعود، وارث کرمانی جیسے مشاہیر نے ان کی تخلیقی انفرادیت کا اعتراف کیا ہے۔ وارث کرمانی نے اپنے بصیرت افروز مضمون میں لکھا ہے کہ ’’انیس انصاری کا دائرہ تخیل خاصا وسیع ہے۔ ان کی بصیرت حیات و کائنات کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر رکھتی ہے جو ان دنوں شعرا میں کم سے کم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کی اڑان محدود و مشروط ہے لیکن انیس انصاری ان پختہ اور رچے ہوئے شاعروں میں سے ہیں جو شاعری کے اعلیٰ مقاصد سے واقف ہیں۔‘‘
انیس انصاری نے نثر میں بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ فرقہ واریت کا تجزیہ جسٹس سید محمود اور فطری قوانین، ہندوستانی مسلمانوں کا تعلیمی پچھڑا پن، میر تقی میر اور ان کی ہم عصر ہندی شاعری، اودھ کی تہذیب کے عروج و زوال، ان کے اہم مضامین ہیں۔
بندکی فتح پور میں یکم جولائی 1949 کو پیدا ہونے والے مجاہد آزادی محمد یوسف انصاری کے فرزند انیس انصاری مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فیض یافتہ ہیں۔ وہاں سے ایل ایل بی، ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہیں کے شعبہ قانون میں لیکچرر بھی رہے۔ اسی دوران سول سروسیز کے امتحان میں چوتھی پوزیشن حاصل کر کے انکم ٹیکس افسر کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔ اناؤ، بجنور جیسے مختلف اضلاع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی رہے مگر شعر و ادب سے غیر معمولی لگاؤ برقرار رہا۔ ’درد ابھی محفوظ نہیں‘ ان کا وہ مجموعہ ہے جس کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی۔ اس کے علاوہ ’شہر سراب، سورج کا سفر، جنگ اور محبت کے درمیان، اگلے موسم کی خوشبو، زندگی وصل ہے، تیسرے دن کا سورج‘ ان کے مجموعے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انیس انصاری تخلیقی سطح پر نہایت فعال و متحرک ہیں اور فتح پور کی عظمتوں کو اپنے تخلیقی نور اور طور سے نئی نشانیاں اور منزلیں عطا کر رہے ہیں۔
فنون لطیفہ میں بھی فتح پور پیچھے نہیں ہے۔ یہیں کے ایک سپوت خالد بن سہیل فنون لطیفہ کے افق پر سورج کی طرح چمک رہے ہیں۔ نوجوان مصور خالد بن سہیل کے ’تخلیقی عجائبات‘ کا خوبصورت رنگ محل دیکھ کر آرٹ کی دنیا بھی حیرت زدہ ہے۔ اپنے موئے قلم کی شاعری سے مسمرائمز کرنے والا یہ نوجوان فنکار درحقیقت وہ سنگ پارس ہے جس کے دست معجز نما نے رنگوں کے معجزے دکھائے ہیں اور دھنک رنگ خوابوں کو نئے نئے کینوس عطا کئے ہیں اور اس پر مقدس خوابوں کی لکیریں کھینچ کر سماج اور سیاست کے سفاک اندھیروں کے خلاف ’حرف جہاد‘ روشن کیا ہے۔
خالد بن سہیل نے اپنی تخلیقی ذہانت اور تکنیکی مہارت سے مصوری کو نئی سمت دی ہے اور آرٹ کی دنیا کو نئے امکانات کی بشارت بھی دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوامی ناتھن، علی سردار جعفری، کملیشور، قمر رئیس، شہریار، جگن ناتھ، شمس الرحمن فاروقی، کیشو ملک، وسنت آیر اور فرحت احساس، یہ معتبر نام بھی خالد کی تخلیقی فطانت کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کی ذہانت کی داد دیتے ہیں۔
خالد کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے مصوری کے فن کو جہاں نئے امکانات عطا کئے ہیں، وہیں انہوں نے عبدالرحمن چغتائی اور صادقین کی روایت کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے۔ خالد کی کثیر الابعادی شخصیت کا ہی کرشمہ ہے کہ انہوں نے سہ الابعادی پینٹنگز کے ذریعہ ہمیں تہذیبی و ثقافتی جمالیات کا ’نگار خانہ‘ عطا کیا ہے تو وہیں امیر خسرو، ریختی اور علی سردار جعفری کے شاعرانہ احساسات کو تصویری قالب میں ڈھال کر ان کے لفظوں کے آہنگ کو ایک ایسا خوبصورت رنگ عطا کیا ہے جومختلف لسانی حد بندیوں اور شناختوں میں جکڑی ہوئی دنیا کے لئے بھی قابل فہم ہے کہ ’رنگوں کی زبان‘ ہی ایک ایسی عالمی زبان ہے جو پوری دنیا کی آنکھیں سمجھتی ہیں، جسے کسی ملک یا کسی جغرافیے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خالد نے انسانیت کو ایک ڈور میں باندھنے کے لئے مصوری کے موثر اور طاقتور میڈیم کو اپنایا اور ریختی، خسرونامہ اور جعفری کی نظموں کی تصویری نمائش کے ذریعہ تمام لسانی زنجیروں کو توڑ کر انسانی آنکھوں تک ان کا وہ پیغام محبت پہنچا دیا جو مختلف زبانوں میں ترجمے کے بعد اپنا حقیقی اثر کھو بیٹھتا۔ یہ مصوری ہی کا معجزہ ہے کہ ہر ایک فلسفہ اور تصور اس میں ڈھل کر آسان اور عام فہم ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ آرٹ تجریدی نہ ہو۔
خالد بن سہیل چونکہ کمرشیل آرٹسٹ نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی آتما کو سکون دینے کے لئے، یہ سب کچھ کرتے ہیں اس لئے ان کی پینٹنگ میں انسانیت پسندانہ تناظر ملتا ہے۔ ان کی مصوری ہماری تہذیبی، ماحولیاتی روایات اور سماجی و سیاسی تضادات کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ ایک بیدار ذہن اور طبع رسا رکھنے والے مصور ہیں۔ عصری، سماجی، سیاسی حالات سے انتہائی باخبر اور ماضی کی قدیم تہذیبی روایات سے بھی آگاہ ہیں۔ ماضی اور حال پر گہری نظر نے انہیں مستقبل شناس بنا دیا ہے۔ اس لئے خالد کی اکثر پینٹنگز میں مستقبلیت کا عکس نظر آتا ہے جو کہ انسانیت کی بقا میں مضمر ہے۔ مستقبل کے وژن اور بقائے انسانیت کے تصور نے ہی انہیں انسان دشمن قوتوں کے خلاف تصویری جہاد چھیڑنے کی تحریک دی ہے۔ خالد کی پینٹنگ ’اذان‘ ہو یا ’دھرتی ماں‘، ’صلیب پر لٹکی ہوئی زندگی ہو یا الو کا بسیرا‘، ’شیولنگ ہو یا نیرے ہوئے سر‘ یا آرٹ فار سیکولرازم سیریز کوئی بھی پینٹنگ، سبھی میں انہوں نے سماجی اور سیاسی منافرت اور تشدد کے خلاف زبردست احتجاج کیا ہے اور احتجاج کے اسی رنگ نے انہیں ہم عصر فنکاروں میں ایک امتیاز بخشا ہے کہ خالد نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ اور دھرتی ماں کے تقدس کے لئے مصوری کا سہارا لیا ہے اور بلاخوف و خطر اور لومۃ لائم فرقہ پرستی کے ہر اس رنگ کے خلاف اپنے برش کا ہتھیار استعمال کیا ہے جو انسانیت کے لئے زبردست خطرہ ہے اور صحیح معنوں میں اپنی پینٹنگز کے ذریعہ سیکولرازم کے انسانی اقدار کی تشریح کی ہے۔ ایک طرف انہوں نے ’اذان‘ کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی جنون کو نشانہ بنایا ہے کہ لاشوں کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر اذان دینے سے خدا خوش نہیں ہو گا تو وہیں شیولنگ کی پینٹنگ سے ہندو فرقہ پرست سماج سے یہ سوال کیا ہے کہ کیا خون سے نہائے شیولنگ میں بھگوان واس کرے گا؟ اور پھر ’الو کا بسیرا‘ تصویر میں بھارت ماں کے سر پر الو کا بسیرا دکھا کر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت ماتا کے سر پر جب تک فرقہ پرستی کا سایہ منڈلاتا رہے گا تب تک اجڑنا اس کا مقدر ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی ہولناکیوں اور مذہبی جنون کی خون آشامیوں کو خالد نے اپنے کینوس پر بڑی ہی فنکاری کے ساتھ اجاگر کیا ہے کہ کینوس پر ابھرتی لکیریں انسانیت کا روشن نقطہ نظر آتی ہیں جو تاریکیوں کے خلاف آمادۂ جنگ ہیں۔ ممتاز صحافی، شاعر اور کالم نگار جناب فرحت احساس نے خالد کے فن کا تجزیہ کرتے ہوئے صحیح نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’ہم پچھلے کئی برسوں سے دھیرے دھیرے کئی دشمنوں کے نرغے میںآئے ہیں، ان دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن فرقہ وارانہ نفرتوں کا وہ سفاک اندھیرا ہے جو ہمارے دلوں، دماغوں اور ہمارے انسانی احساس کو تاریک کر رہا ہے، اس دشمن سے کئی سطحوں پر لڑائی جاری ہے۔ اس لڑائی میں عام شہری بھی ہیں، ادیب، شاعر اور فنکار بھی۔ خالد بن سہیل ان نوجوان مصوروں میں ہیں جنہوں نے انسان اور زندگی کے خلاف نفرتوں اور بدصورتی کی اس سازش کو بڑی گہرائی سے محسوس کیا ہے اور اپنی تصویروں میں ڈھالا ہے۔ ان تصویروں میں صلیب پر لٹکی ہوئی زندگی، اذان، سایہ بوم، نفرتوں سے مسنح چہروں، موت کی خوفناک پرچھائیاں، زندگی میں بڑھتی ہوئی بے معنویت اور بے رحمی اور مذہب کے انسان کش استعمال کے مختلف بھیانک عکس پیش کرتی ہیں۔ خالد کے لئے فن انسانی زندگی کو تمام بدصورتیوں سے پاک کرنے اور اس کے بنیادی حسن کو اندھیروں کی گرفت سے نجات دلانے کی ایک مسلسل جدوجہد کا وسیلہ ہے۔‘‘
خالد بن سہیل کی تصویروں کا بنیادی سروکار دنیا کو شہر خموشاں میں تبدیل کرنے کی سائنسی، سماجی، سیاسی سازشوں کے خلاف احتجاج درج کرانا ہے اور زمین کے تقدس کو بچانا ہے اور دوسروں کی موت میں اپنی زندگی تلاش کرنے والوں کو ان کی اصل حقیقت سے روشناس کرانا ہے اور خود تباہی کے خطرناک عمل سے پوری انسانیت کو نجات دلانا ہے۔ یہی ان کے آرٹ کا مقصد ہے اور اسی مقصدیت میں ان کا آرٹ بھی زندہ ہے۔
خالد نے آرٹ کے ذریعہ ہمارے اجتماعی شعور کو بیدار کیا ہے اور ہمارے محسوسات کو رنگوں کی مدد سے کینوس پر اتارا ہے اور رنگوں کا اتنا خوب صورت تخلیقی استعمال کیا ہے کہ آرٹ کے نقاد بھی یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ خالد نے بہت مختصر عرصے میں مصوروں کے ہجوم بے کراں میں اپنی ایک انفرادی پہچان بنا لی ہے، مصوری میں اک ایسا چہرہ طلوع ہوا ہے جو بھیڑ میں بھی الگ سے پہچانا جائے گا کہ یہ وہ مصور فردا ہیں جنہوں نے مستقبل میں اپنے خوابوں کے وہ رنگ بھرے ہیں کہ جنہیں صدیوں کی تناسخی گردشیں بھی ختم نہیں کر سکیں گی۔
خالد بن سہیل نے اپنی پوری زندگی فنون لطیفہ کے لئے وقف کر دی ہے۔ ایک طرف انہوں نے مصوری کی دنیا میں ملک گیر شہرت حاصل کی ہے تو دوسری طرف آرٹ اینڈ کاسٹیوم ڈائرکشن میں بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں جن سیریلوں میں انہوں نے آرٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے ان میں علی سردار جعفری کی ’کہکشاں‘ مشہور سیریل ’پھٹیچر‘ ٹیلی فلم ’فخر الدین علی احمد‘ اور ’میرے بھی ہیں کچھ خواب‘ فیچر فلم ’سردار پٹیل کے نام قابل ذکر ہیں۔ آرٹ ڈائریکشن کی دنیا میں ان کی شہرت کے محض یہ چند حوالے ہیں مگر ان کی شناخت کا سب سے بڑا حوالہ ان کی وہ پینٹنگز ہیں جنہوں نے آرٹ کی دنیا میں زبردست دھماکہ کیا ہے۔ پوکھران کے نیوکلیائی دھماکے پر انہوں نے اپنی پینٹنگ کے ذریعے جو زبردست احتجاج کیا تھا وہ ہندوستان کے انگریزی اور دیگر رسائل و جرائد پڑھنے والوں کے ذہن میں تازہ ہو گا۔ ادھر ’مدر کرگل‘ نے بھی خاصی دھوم مچائی ہے۔ اس پینٹنگ نے ان کی مثبت انسانی سوچ اور دھرتی ماں سے پیار پر ایک اور مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ ’مدر کرگل‘ خالد بن سہیل کا وہ شاہکار ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک کرگل کی تباہیاں، ہولناکیاں لوگوں کے ذہنوں پر دستک دیتی رہیں گی تب تک یہ مصوری بھی لوگوں کے ذہنوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہے گی کہ ’مدر کرگل‘ نوعیت، تکنیک اور سوچ کے اعتبار سے سب سے منفرد اور شاہکار مصوری ہے جس میں مصور نے انسانیت کی بقا کے تصور کو پھر کینوس پر منعکس کیا ہے۔
خالد بن سہیل ان دنوں ’فکشن سیریز‘ پر کام کر رہے ہیں۔ مصوری کے علاوہ شاعری سے بھی ان کو شغف ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری کا مجموعہ ’مونولاگ‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*