غنچۂ شوق


تخلیق: ثاقب سلیمانی
تبصرہ:تصورسمیع
ثاقب سلیمانی کا شمار چنیوٹ کے کلاسیک شعرا میں ہوتا ہے اور ان کی شاعری بھی روایتی کلاسیکی اسلوب کی حامل ہے،
ان کے کلام میں زبان و بیان کی مہارت، تلمیح و تشبیہ کی کثرت، جملہ بندی و تراکیب کی چستی انہیں علاقے کے شعرا میں نمایاں مقام عطا کرتی ہےـ ان کا شمار بھی چنیوٹ کے ان شعرا میں ہوتا ہے،جن کے شعری مقام و مرتبہ سے نسل نو متعارف نہیں ہے،اس کی بنیادی وجہ جو میں سمجھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ان کے متصل بعد کے شعرا و ادبا نے نسل نو سے اپنے اگلوں کا تعارف کروانے میں بخل و بے اعتنائی سے کام لیا ہےـ یہی وجہ ہے کہ شہر کا نوجوان طبقہ آج سے چند دہائیاں قبل کے شعرا و ادبا کے شعری قد و قامت اور خدمات سے آگاہ تو کجا، ان کے نام تک سے ناواقف ہےـ
آغا عبدالواسع ثاقب سلیمانی یکم مارچ 1914 ءکو چنیوٹ میں بابو عبد العزیز کے ہاں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد سہارن پور سے ہجرت کرکے چنیوٹ میں آباد ہوئے تھے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ سکول چنیوٹ سے حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی میں ہی شعرو شاعری کا آغاز کیا ۔ اسلامیہ ہائی سکول سے میٹرک تک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لائلپور (فیصل آباد ) میں داخل ہوگئے ۔ جہاں سے ایف اے تک تعلیم حاصل کی، اس کے بعد ڈی مونٹ مورنسی کالج شاہ پور چلے گئے ۔ جہاں سے بی اے کی ڈگری حاصل کی ۔ 1937 ءمیں آپ کومحکمۂ مال جھنگ میں ملازمت مل گئی ۔ آپ ایک اچھے شاعر،مصور، ادیب اورفن خطاطی کے شہنشاہ تھے ۔ آپ ” لسان القوم “ کے خطاب کے حامل تھے ۔ آ پ کی پہلی نظم 1938 ءجھنگ کے ماہنامہ ارمان میں شائع ہوئی، ڈاکٹر عزیز علی کے ہفت روز ہ یادِ خدا میں بھی آپ کی نظمیں اور غزلیں چھپتی رہیں ۔ آپ نے انگریزی زبان کی نظموں کابھی اردو ترجمہ کیا ۔ 1941 ءمیں آ پ نے ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن کے محکمہ میں ملازمت اختیار کرلی اور اس محکمے میں 32 سال تک فرائض سر انجام دینے کے بعد 1973ءکو ریٹائر ہو گئےـ
ثاقب سلیمانی موروثی شاعر ہیں، ان کے دادا بھی شاعر تھے اور سوز تخلص کرتے تھے اور ان کا ایک عدد دیوان بھی اشاعت پذیر ہواتھا ـ
ثاقب سلیمانی خیال مراد آبادی کے شاگرد تھے اور معروف شاعر اختر شیرانی سے قریبی تعلق رکھتے تھے،شاید اسی لیے اختر شیرانی کا رنگ ثاقب سلیمانی کے اسلوب میں بھی نظر آتا ہے،
ان کا مجموعہ "غنچۂ شوق” ہمارے پیش نظر ہےـ
"غنچۂ شوق” 1983 میں لاہور سے شائع ہوئی، 160 صفحات کی یہ کتاب 7 ابواب پر مشتمل ہے،جو مختلف ناموں سے معنون ہیں ـ اس کتاب میں غزل، نظم، قطعات، گیت اور ماہیے شامل ہیں،اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ثاقب سلیمانی بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں اور وہ اس صنف میں کمال مہارت رکھتے ہیں ـ انہوں نے صنف غزل میں بھی طبع آزمائی کی ہے؛لیکن وہی روایتی مضامین اور روایتی کلاسیکی انداز سے باہر نہیں نکلے؛اس لیے ان کی غزلوں میں زبان و بیان کی مہارت کے سوا کوئی انفرادیت دکھائی نہیں دیتی، ان کی غزلوں کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں، جن سے زبان و بیان پر ان کی گرفت جھلکتی ہے:
وہ اکثر محبت کا غم دیکھتے ہیں
جو اندیشۂ بیش و کم دیکھتے ہیں
جلاتے ہیں خوں سے چراغ معانی
مگر وہ تو حسن رقم دیکھتے ہیں
پھر جبینِ شوق میں سجدے لیے جاتا ہوں میں
پھر وہی ماہِ جواں بالائے بام آہی گیا
ایک مدت سے مچی تھی دھوم جس کے نام کی
بزم میں وہ شاعرِ شیریں کلام آہی گیا
اے توبہ پھر تجھے ہو نویدِ شکست آج
آیا ہے جھوم جھوم کے ابر بہار ابھی
ہاں ہاں پلائے جا ابھی رطلِ گراں مجھے
ساقی دھلا نہیں مرے دل کا غبار ابھی
ان کو نشہ شباب کا مجھ کو شراب کا
خمیازہ ہے اُدھر تو، اِدھر ہے خمار ابھی
ان اشعار سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ثاقب سلیمانی کس طرز کی غزل کہتے تھے اور اس میں کس قدر مہارت رکھتے تھےـ
ثاقب سلیمانی پابند نظموں میں اپنی پہچان اور انفرادیت رکھتے ہیں اور اسی میدان کو انہوں نے اپنا ہدف سخن بنایا، ان کی نظمیں غزلیہ رنگوں میں ڈوبی نظر آتی ہیں،یوں لگتا ہےکہ انہوں نے نظموں کو غزل کی سی روانی اور کشش دینے کی دانستہ کوشش کی ہے اور اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں ـ بےشمار اہم عنوانات پرانہوں نظم سرائی کی، مختلف شخصیات پر لکھا، معاشرتی پہلوؤں پر سخن سرائی کی، روایتی عنوانات بھی دہرائے اور آزاد نظمیں بھی کہیں، نیز مختصر نظموں میں بھی طبع آزمائی کی اور انہیں خوب نبھایا،جس سے ان کے فن شعر پر دسترس کا بخوبی اندازہ ہوتاہےـ ان کی نظمیں اس مختصر تعارفی مضمون میں درج کرنا تو ممکن نہیں؛ کیونکہ اس سے مضمون بے جا طوالت کا شکار ہوجائےگا،ہاں ان کی کچھ مختصر نظمیں نمونے کے طور پر ضرور پیش خدمت ہیں:
مری آنکھ آنسو بہاتی رہے گی
ستاروں کی لو تھرتھراتی رہےگی
تری یاد آتی رہے گی
کبھی تو نگاہ کرم کے سہارے
لگے گی ہماری بھی ناؤ کنارے
کوئی پار اتارے
نصیحت
جو گرتی ہوئی برف کی طرح
نرمی سے دل پر پڑےگی
وہ ہلکی سی تا ثیر پیدا کرےگی
ثاقب سلیمانی نے علامہ اقبال اور کچھ دیگر شعرا کے تتبع میں انگریزی نظموں سے خیال مستعار لے کر انہیں اپنے انداز میں بیان کرنے کی خوبصورت کوشش بھی کی ہے،مثلا:
یہ دنیا ہے
کوئی طلائی حباب
جو معصوم بچوں کے انفاس سے
چراغاں ہوا، اور پھر بجھ گیا
ہے آساں بہت
نکتہ چینی کی عادت
مگر کتنی دشوار ہے خود نمائی
کرے جھیل فطرت کی آئینہ داری
مگر بے خبر اپنی گہرایوں سے
یقینا اب تک آپ میری اس بات سے اتفاق کرچکے ہوں گےکہ فطری طور پر ثاقب سلیمانی کا شعری میدان غزل کی بجائے نظم کا تھا اور اس میں وہ اپنا رنگ جمانے میں کامیاب رہے،
انہوں نے علاقائی روایت اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے دلکش انداز میں ماہیے بھی کہے ہیں، جو دلچسپی سے خالی نہیں اور اس مضمون میں ان کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی،
نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیں:
اک جوت جگائی ہے
گلشن میں بہاروں نے اک آگ لگائی ہے
کرتے ہیں اشارے سے
آنکھوں سے برستے ہیں ساون کے نظارے سے
ہونٹوں پہ مچلتے ہیں آہوں کے شرارے سے
مخمور جوانی ہے
اٹھتے ہوئے جوبن کی رت کتنی سہانی ہے
غنچے بھی چٹکتے ہیں
کلیوں کی جبینوں سے موتی سے ڈھلکتے ہیں
جو چاند کی کرنوں سے شرما کے چمکتے ہیں
آخر میں ان کی ایک نظم” ہلال عید”ملاحظہ فرمائیں:
اے ہلالِ عید، اے سرمایۂ بزمِ نشاط
اے کہ جس کی دید میں مضمر ہے رازِ انبساط
تیرے حسنِ ضو فشاں سے جگمگا اٹھا جہان
تجھ پہ قرباں ہورہی ہیں مہ وشوں کی انگلیاں
اے ہلال عید تجھ میں نور وہ مستور ہے
جس کے ہر جلوے میں پنہاں داستان طور ہے
یوں ہوائے شوق سے جاتا ہے منزل کی طرف
جیسے کشتی ہو رواں تیزی سے ساحل کی طرف

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*